|
اردو ٹائمز(نیوز)متحدہ جہاد کونسل کے سربراہ اور حزب المجاہدین کے سپریم کمانڈر سید صلاح الدین نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی بدترین پامالی ‘ معاشی مقاطعہ اور کشمیریوں کے قتل عام کا معاملہ اٹھانے کیلئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلوائے‘ بھارت کے ساتھ تعلقات ختم کرے اور اسلامی کانفرنس تنظیم کو بھی اس معاملہ پر فعال کرے۔ ایک خصوصی انٹرویو میں سید صلاح الدین نے کہا کہ بھارت نے پوری کشمیری قوم کو یرغمال بنا رکھا ہے لیکن پاکستان کی پارلیمنٹ نے ایک اور قرارداد منظور کی ہے۔ وزیر خارجہ نے ایک بیان دیا ہے اور بس۔ حالانکہ پاکستان کو مقبوضہ جموں میں آٹھ سو کنال اراضی امرناتھ یاترا کے زائرین کیلئے مختص کرنے کے فیصےل پر اعتراض کرنا چاہئے کیونکہ ہر اعتبار سے مقبوضہ جموں و کشمیر ایک متنازعہ علاقہ ہے اور اس کی سرزمین کا کوئی حصہ کسی غیر ریاستی ادارے یا فرد کو نہیں دیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کو کشمیر سے زیادہ پاکستان کی سلامتی عزیز ہے۔ قبائلی علاقوں اور بلوچستان کی صورتحال پر ہم خون کے آ نسو روتے ہیں۔ کشمیریوں کی خواہش ہے کہ پاکستان یہ سارے مسائل مفاہمت اور بات چیت کے ذریعے حل کر لے۔ طاقت کے استعمال سے ان علاقوں میں علیحدگی کے رحجانات بڑھ سکتے ہیں۔ زمینی حقائق مدنظر رکھے جائیں۔ بلوچستان سے لے کر وزیرستان تک بھارتی ادارے براہ راست مداخلت کر رہے ہیں۔ یہاں بھارت کا پیسہ‘ اسلحہ اور ایجنٹ آتے ہیں۔ پاکستان کے تمام تر سیاسی قائدین مل بیٹھیں اور قومی سلامتی کیلئے ایک مفتقہ لائحہ عمل اختیار کریں۔ کشمیریوں کے معاشی مقاطعہ پر اوقام متحدہ نے صرف زبانی جمع خرچ کے علاوہ کچھ نہیں کیا۔ پاکستان اقوام متحدہ سے مطالبہ کرے کہ بھارت کی بدمعاشی کا بائیکاٹ کیا جائے۔ مجاہدین گذشتہ آٹھ برسوں سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں اپنی جدوجہد جاری کئے ہوئے ہیں۔ وہ خود کفیل ہیں۔ انہیں بھارتی مارکیٹ اور عالمی مارکیٹ سے کیش پر اسلحہ مل جاتا ہے۔ اگر بھارت نے کشمیریوں کا قتل عام بند نہ کیا تو ہماری تحریک پورے بھارت کے اندر چلے گی اور اپنی استعداد کا ہم بارہا ثبوت بھی دے چکے ہیں۔ اقوام متحدہ صرف اپنے کہے پر عمل ہی کرے تو بھارت کشمیریوں پر ظلم سے باز آ جائیگا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جب تک بھارت کی جارح فوج مقبوضہ جموں و کشمیر میں موجود ہے۔ تب تک مجاہدین کی کارروائی جاری رہے گی۔ سید صلاح الدین نے کہا کہ بھارت مقبوضہ جموں کے ہندو اکثریت رائے اضلاع پر مشتمل ایک ہندو ریاست قائم کرنے کی سازش کر رہا ہے۔ 1947ء والے مناظر دہرائے جا رہے ہیں۔ وہاں مسلمان اقلیت کا قتل عام کیا جا رہا ہے‘ مسلمان اکثریتی علاقوں کی طرف ہجرت پر مجبور کرائے گئے۔ ہدو بلوائیوں کے جتھے فورسز کے تعاون سے جلاﺅ‘ گھیراﺅ اور ق تل عام میں مصروف ہیں۔ بھارت کشمیریوں کو ان کی حالیہ تحریک کی سزا دے رہا ہے۔ مقبوضہ جموں میں آبادی کا تناسب تبدیل کیا جا رہا ہے۔ معاشی مقاطعہ کے باعث پورے جموں و کشمیر میں ادویات اور بچوں کا دودھ تک دستیاب نہیں ہے۔
|
|