|
اردو ٹائمز(نیوز)صوبہ سرحد کے دارالحکومت پشاور کے قریب ایک کار بم دھماکے میں سترہ افراد ہلاک اور پچاس سے زیادہ زخمی ہوگئے ہیں۔ ہلاک اور زخمی ہونے والوں میں زیادہ تر عام شہری ہیں۔ یہ دھماکہ بڈابیر سے دس کلومیٹر دور زنگلئی پولیس چوکی کے سامنے ہوا۔ پشاور کے ایس ایس پی کاشف نے کہا کہ زنگلئی پولیس چوکی پر اہلکاروں نے ایک گاڑی کو رکنے کا اشارہ کیا جس پر ڈرائیور نے بارود سے بھری گاڑی چوکی سے ٹکرا دی۔ انہوں نے کہا کہ اس دھماکے میں سب انسپکٹر اورنگزیب سمیت تین پولیس اہلکار اور بارہ شہری ہلاک ہوئے۔ یہ دھماکا اتنا شدید تھا کہ سڑک کے دونوں اطراف موجود بڑے پلازہ منہدم ہو گئے اور ملبے کے نیچے افراد دب گئے۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ ملبے میں سے سات لاشیں نکالی جا چکی ہیں۔ دھماکے کے بعد ہلاک اور زخمی ہونے والوں کو پشاور کے لیڈی ریڈنگ ہسپتال لایا گیا۔ لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے میڈیکل سپرٹنڈنٹ ڈاکٹر خضر حیات نے بی بی سی کو بتایا کہ اب تک سترہ افراد کی لاشیں ہسپتال میں لائی گئی ہیں جبکہ لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے شعبہ حادثات کے انچارج ڈاکٹر عبداالقادر کے مطابق ہسپتال میں ابھی تک سو زخمی لائے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کم از کم پندرہ افراد کی حالت انتہائی نازک ہے۔ عینی شاہدین کے مطابق انہوں نے ایک گاڑی کو پولیس چوکی کی طرف آتے دیکھا جو ایک زوردار دھماکےسے پھٹ گئی۔ ایک ہوٹل کے مالک غنی نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ سبزی خرید رہے تھے کہ انہوں نے چیک پوسٹ کی طرف ایک گاڑی جاتےہوئے دیکھی جس میں چند لمحے کے بعد ایک زور دار دھماکہ ہوا۔ ان کے بقول اس دوران ہرطرف اندھیر ا چھاگیا اور ایک بڑی مارکیٹ زمین بوس ہوگئی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ تھوڑی دیر کے بعد انہوں نے آس پاس لاشیں اور زخمی دیکھے جو مدد کے لیے پکار رہے تھے۔ ایک اور شخص نے جس کا بھتیجا دھماکے میں زخمی ہوا، بی بی سی کو بتایا کہ وہ اپنی دکان میں تھے کہ انہوں نے دھماکے کی آواز سنی اور اس دوران انہوں نے اپنے چہرے پر شیشے کی کرچیاں لگتی ہوئی محسوس کیں۔ ان کے مطابق’دھماکے کے بعد ہر طرف دھواں ہی دھواں تھا مگر تھوڑی دیر بعد میں نے اپنے بھتیجے کو زمین پر زخمی حالت میں دیکھا۔میں نے اپنی پوری زندگی میں اتنا زوردار دھماکہ نہیں دیکھا ہے‘۔
|
|