|
اردو ٹائمز(نیوز)آصف زرداری کو عہدہ صدارت سنبھالنے کے بعد مشکل ٹاسک کا سامنا کرنا پڑے گا اور نئے صدر کا امریکی خواہشات پر پورا اترنا مشکل ہوگا۔ایک امریکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کے اکثر عوام امریکہ کو اپنا دشمن سمجھتے ہیں اور ایسے میں انہیں عوام کی رائے کو ایک طرف رکھ کر دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کا ساتھ دینا ایک مشکل کام ہوگا۔ رپورٹ کے مطابق نئے صدر کی طاقت میں فوری رکاوٹ فوج ہوگی کیونکہ فوج ہی ملک کا سب سے بڑا طاقتور ادارہ ہے جبکہ حکومت ابھی تک آئی ایس آئی کا کنٹرول فوج سے نہیں لے سکی ہے۔ رپورٹ کے مطابق آصف زرداری ایسے موقع پر عہدہ صدارت سنبھالنے جارہے ہیں جہاں پر بے چینی بڑھ رہی ہے اور القاعدہ کے محفوظ ٹھکانے ہیں جبکہ گزرتے وقت کے ساتھ پاکستان کی سٹرٹیجک اہمیت مغرب کیلئے بڑھتی جارہی ہے اور زرداری امریکہ کیلئے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مرکز نگاہ ہوں گے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکہ کو یہ خوف طاری ہے کہ کہیں پاکستان کے جوہری ہتھیار القاعدہ کے ہاتھوں میں نہ چلے جائیں جبکہ پاکستان میں سویلین اقتدار کو ہمیشہ سے محصور رکھاگیا اور امریکہ مخالف جذبات عروج پر ہیں ایسے میں آصف زرداری کو طالبان کے خلاف امریکی ایجنڈے میں تعاون کرنے کی اہلیت یا آصف زرداری کی تعاون کی خواہش محدود ہوگی۔رپورٹ کے مطابق زرداری‘ بے نظیر بھٹو کی طرح ایک اتھارٹی ثابت نہیں ہوسکیں گے۔ کوئی بھی رہنما کتنا بھی فٹ ہو اسے پاکستان پر اپنی گرفت رکھنا مشکل ہوسکتی ہے جس کی وجہ نہ صرف سیاسی عدم استحکام ہے بلکہ سویلین اتھارٹیز اور ملٹری کے درمیان غیر واضح کھنچی لکیریں بھی ہیں۔سابق امریکی اہلکار ڈینےئل مارکی کا کہنا ہے کہ زرداری کے ساتھ کھل کر کام کیاجاسکتاہے لیکن شبہ اس بات کا ہے کہ آیا وہ کچھ کرسکیں گے کیونکہ پاکستان میں حکمرانی کرنا آسان نہیں ہے۔
|
|