اردو ٹائمز- اردو کی تازہ خبریں
مسلسل اشاعت کے 28 سال
Twenty eight years of publication

 Daily Urdu News USA CANADA UK

    

 Urdu Times Daily Urdu News
 
Sat, 06 Sep 2008 09:13:00

آصف زرداری بھاری اکثریت سے پاکستان کے بارہویں صدر منتخب ہو گئے

آصف زرداری بھاری اکثریت سے پاکستان کے بارہویں صدر منتخب ہو گئے

اردو ٹائمز(نیوز) پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک سربراہ آصف علی زرداری بھاری اکثریت سے پاکستان کے بارہویں صدر منتخب ہو گئے ہیں۔ انتخاب میں سینیٹ اور قومی اسمبلی میں آصف زرداری کو چار سو چھتیس میں سے دو سو اکیاسی ووٹ ملے ہیں۔ دس ووٹ مسترد ہوئے تھے اس طرح صحیح قرار دیے گئے ووٹوں کی تعداد چار سو چھبیس تھی۔ سندھ اسمبلی میں ڈالے گئے تمام ووٹ آصف زرداری کو ملے۔ سب سے پہلے صوبہ سرحد کے نتائج سامنے آئے جہاں آصف علی زرداری کو بھاری اکثریت سے کامیابی ملی اور یہی صورت بلوچستان میں بھی رہی۔ پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کے امیدوار کو کامیابی ملی۔ سندھ میں کل ایک سو چھیاسٹھ ارکان ہیں جن میں سے تین غیر حاضر رہے، ایک رکن کا ووٹ مسترد ہوا اور باقی تمام ارکان نے زرداری کے حق میں ووٹ دیا۔ اس طرح آصف زرداری کو سندھ اسمبلی میں صدارتی انتخاب کے لیے تریسٹھ ووٹ ملے اور ان کے مخالفین کو کوئی ووٹ نہیں ملا۔ صوبہ سرحد کے غیر سرکاری نتائج کے مطابق ایک سو چوبیس اراکین میں سے چار ووٹ مسترد ہوگئے جبکہ ایک سو بیس اراکین کے ووٹوں کو درست قرار دیا گیا ہے۔ سرحد میں آصف علی زرداری کو ایک سو سات اراکین کے ووٹ ملے اور صدارتی ووٹوں کے فارمولے کے مطابق ان کے صدارتی ووٹ چھپن بنتے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کے سعید الزمان صدیقی کو دس اراکین نے ووٹ دیے اور فارمولے کے مطابق ان کے صدارتی ووٹ پانچ گنے جائیں گے۔ جبکہ مسلم لیگ (ق) کو تین اراکین نے ووٹ دیے اور فارمولے کے مطابق ان کے دو صدارتی ووٹ گنے جائیں گے۔ بلوچستان میں زرداری کو انسٹھ، سعید الزمان صدیقی اور مشاہد حسین کو دو دو ووٹ ملے۔ پنجاب میں ایک سو تئیس اراکین نے آصف زرداری کے حق میں ووٹ ڈالے۔ جسٹس(ر) سعید الزمان صدیقی کو دو سو ایک ارکان نے ووٹ دیا (ق) لیگ کے مشاہد حسین کو پنجاب میں چھتیس ارکان نے ووٹ دیے۔ پارلیمان کے دونوں ایوانوں کی مشترکہ پولنگ قومی اسمبلی کے ہال میں ہوئی۔ صوبائی اسمبلیوں میں ووٹنگ کے خاتمے کے بعد گنتی جاری ہے۔ چیف الیکشن کمشنر قاضی محمد فاروق نے جو ریٹرننگ افسر بھی ہیں مقررہ وقت صبح دس بجے سے چند منٹ کی تاخیر کے بعد کارروائی شروع کی اور اراکین کو قوائد سے آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ عام طور پر صدارتی انتخاب میں خفیہ رائے شماری کے لیے دو بوتھ قائم کیے جاتے ہیں لیکن اس بار ماہ رمضان کی وجہ سے تین بوتھ قائم کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قوائد کے مطابق حروف تہجی کے اعتبار سے پہلے سنیٹر اور بعد میں اراکین قومی اسمبلی ووٹ ڈالتے ہیں۔ انہوں نے سب سے پہلے مسلم لیگ (ق) کے سنیٹر عبدالغفار قریشی کا نام پکارا لیکن وہ اس وقت ایوان میں نہیں تھے اور پہلا ووٹ مسلم لیگ (ن) کے سنیٹر اقبال ظفر جھگڑا نے ڈالا۔ قائم مقام صدر محمد میاں سومرو نے، جو سینیٹ کے چیئرمین بھی ہیں، اپنا ووٹ ڈالا۔ وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی ایوان میں موجود رہے۔ مسلم لیگ فنکشنل کے ایک ترجمان کے مطابق انہوں نے صدارتی انتخاب میں ووٹ نہ ڈالنے کا فیصلہ کیا ہے۔ صدارتی انتخاب کے موقع پر سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے ہیں۔ پارلیمان کی عمارت کے ارد گرد اور اندر پولیس کے ساتھ رینجر بھی تعینات ہیں۔ شاہراہ دستور کا ایک حصہ عام ٹریفک کے لیے بند کیا گیا ہے۔ قبل ازیں پاکستان پیپلز پارٹی اور اتحادی جماعتوں کی مشترکہ پارلیمانی پارٹی کا اجلاس وزیراعظم کی صدارت میں ہوا۔ جس میں پہلی بار متحدہ قومی موومنٹ بھی شریک ہوئی جبکہ عوامی نیشنل پارٹی کے صدر اسفند یار ولی خان، جے یو آئی، آزاد اراکین اور فاٹا کے بعض اراکین بھی شریک ہوئے۔ مسلم لیگ (ق) سے تعلق رکھنے والے ڈپٹی چیئرمین سینیٹ جان محمد جمالی اپنی جماعت کے اجلاس میں جانے کے بجائے پیپلز پارٹی کے اجلاس میں شریک ہوئے۔ ادھر مسلم لیگ (ق) کے فارورڈ بلاک کا علیحدہ اجلاس ہوا جس میں ریاض فتیانہ، کشمالہ طارق اور نصر اللہ بجارانی سمیت دو درجن کے قریب اراکین شریک ہوئے۔ ریاض فتیانہ نے کہا تھا کہ ان کےگروپ میں پچیس اراکین شامل ہیں اور انہوں نے آصف علی زرداری کو ووٹ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کے مطابق جب وزیراعظم پنجاب کا ہے تو صدر چھوٹے صوبے کا ہونا چاہیے اور ان کی یہ بات پارٹی کی قیادت نے نہیں مانی اس لیے وہ بھی سید مشاہد حسین کو ووٹ دینے کے بارے میں پارٹی کی بات نہیں مانتے۔ صدارتی الیکشن کے موقع پر پارلیمان کے آس پاس آصف علی زرداری کی بڑی بڑی تصاویر اور بینر لگائے گئے ہیں، جن پر انہیں پیشگی مبارکباد دی گئی ہے۔ صدارتی انتحاب میں حکمران اتحاد کے امیدوار آصف علی زرداری کو واضح اکثریت حاصل ہے اور بظاہر وہ صدر منتخب ہونے کے لیے مطلوبہ تین سو باون ووٹوں سے کہیں زیادہ ووٹ حاصل کرسکتے ہیں۔ ادھر مظفر آباد میں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی قانون ساز اسمبلی نے مسٹر آصف علی زرداری کے حق میں ایک قرارداد کثرت رائے سے منظور کی ہے۔ پیپلز پارٹی کے مخالف حکمران جماعت مسلم کانفرنس کے اراکین نے بھی اس قرارداد کی حمایت کی۔ کشمیر کی قانون ساز اسمبلی پاکستان کے صدر کے انتخابی حلقے کا حصہ نہیں ہے۔ تاہم حزب مخالف اور حکمران جماعت کا کہنا ہے کہ یہ قرارداد اخلاقی حمایت دینے کے لیے منظور کی گئی ہے۔







  
     © 2008 All Rights Reserved. Urdu Times Group of   Publications

sponsors: air purifier