|
اردو ٹائمز(نیوز) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما مخدوم جاوید ہاشمی نے کہا ہے کہ عدلیہ کی بحالی کے بغیر جمہوریت کا سفر ادھورا ہوسکتا ہے اور صدر کے مواخذے کے بغیر جمہوریت کا استحکام ناممکن ہے موجودہ نظام کی پائیداری کے لئے دونوں ایشوز کا بروقت حل ہونا نہایت ضروری ہے ورنہ حالات کی ذمہ داری موجودہ حکمرانوں پر عائد ہوگی ان خیالات کا اظہار انہوں نے مسلم لیگ (ن) ضلع اوکاڑہ کے رہنما میاں محمد منیر سے ملاقات کے دوران جاوید ہاشمی نے کہا کہ حالات دن بدن بہتری کی بجائے الجھن کا شکار ہوتے جارہے ہیں اور حکومت کی تبدیلی عام آدمی کیلئے سود مند ہونے کی بجائے مشکلات کا باعث بن رہی ہے جس کی وجہ سے جمہوریت کا تصور بے بسی اور مایوسی میں تبدیل ہورہا ہے اس لئے ضروری ہے کہ پیپلز پارٹی مصلحت کی بجائے دو ٹوک موقف اپناتے ہوئے عوامی خواہشات کا احترام کرے اور فوری طورپر تمام معزول ججز کی بحالی کو یقینی بنائے تاکہ ملک میں جاری ایک بے یقینی کی کیفیت کو ختم کیا جاسکے جب تک عدلیہ بحران کا کوئی مثبت حل سامنے نہیں آئے گا پاکستان میں مایوسی اور بے چینی کے بادل چھائے رہینگے اور ترقی کا عمل بھی شروع نہ ہوسکے گا لہذا ہمارے نقطہ نظر سے جمہوریت کے استحکام کی خاطر بھی آزاد عدلیہ کا دورانتہائی ضروری ہے پاکستان مسلم لیگ (ن) نہ پہلے اپنے اس اصولی موقف سے پیچھے ہٹی تھی اور نہ ہی مستقبل میں کسی سودے بازی کا امکان ہے یہ ہماری پوری قوم کے ساتھ دو ٹوک کمٹمنٹ ہے جس سے ہرگز انحراف نہیں کیا جاسکے گا برادری جو بھی تحریک چلائے گی مسلم لیگ (ن) ان کے شانہ بشانہ بھرپور ساتھ دے گی تاہم انہوں نے کہا کہ پاکستان کا مسئلہ کسی فرد واحد کا ذاتی مسئلہ نہیں ہے بلکہ ان کا مواخذہ آئین اور قانون کے مطابق بھی ضروری ہے لہذا موجودہ نظام کو برقرار رکھنے اور اس کی افادیت میں اضافے کیلئے ضروری ہے کہ پرویز مشرف کو جتنی جلد ممکن ہو اقتدار سے الگ کردیا جائے گو کہ وہ خود ایسا کرنے کو ہر گز تیارنہیں ہیں مگر قوم نے اپنی ووٹ کے طاقت سے انہیں ہٹانے کا یہ فریضہ منتخب عوامی حکومت کو دے دیا ہے اب ان کا بنیادی فرض بنتا ہے کہ وہ عوامی خواہشات پر پورا اتریں
|
|