|
اردو ٹائمز(نیوز) ہنگو میں امن جرگہ کی اپیل پر طالبان نے 29 مغوی سرکاری اہلکاروں میں سے 8 کو رہا کردیا ادھر تحریک طالبان نے سرحد حکومت کو دی گئی ڈیڈ لائن ختم ہونے پر مزید کارروائیاں کرنے کی بجائے حکومتی رویے کا جائزہ لینے کا فیصلہ کیا ہے امن جرگہ کے سربراہ اور رکن صوبائی اسمبلی مفتی سید جہانان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پندرہ دنوں سے جاری کوششیں بارآور ثابت ہورہی ہیں تحریک طالبان نے جرگہ کی اپیل پر خیر سگالی کے طور پر آٹھ سرکاری اہلکار رہا کردیئے انہوں نے کہا کہ رہا کئے جانے والے اہلکاروں میں محکمہ ٹیلی فون کے ایس ڈی او ، واپڈا کے دو ملازم اور پولیس اہلکار کے علاوہ دیگر چار افراد بھی شامل ہیں انہوں نے توقع ظاہر کی کہ طالبان کے اس اقدام کے جواب میں حکومت اس سے بڑھ کر فراخدلی کا مظاہرہ کریگی اور حکومت کے ساتھ مذاکرات کا عمل جاری رکھا جائیگا واضع رہے کہ ہنگو میں ضلعی انتظامیہ اور طالبان کے ساتھ مذاکرات کے بعد جرگے نے سیز فائر کا اعلان کردیا تھا جرگہ ممبر مفتی سید جہانان کے مطابق جرگہ ممبران نے ہنگو کی ضلعی انتظامیہ اور طالبان کے رہنماﺅں کے ساتھ کامیاب مذاکرات کئے گئے جس کے بعد جرگہ نے فائربندی کا اعلان کیا ادھر تحریک طالبان نے سرحد حکومت کو دی گئی ڈیڈ لائن ختم ہونے کے بعد فوری کارروائی کی بجائے حکومتی رویے کا جائزہ لینے کا فیصلہ کیا ہے یہ فیصلہ بیت اللہ محسود کی زیر صدارت طالبان کی شوریٰ کے اجلاس میں کیا گیا تحریک طالبان کے ترجمان مولوی عمر نے میڈیا کو اجلاس کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ اجلاس میں سرحد حکومت کو دی گئی ڈیڈ لائن کے خاتمہ اور طالبان کیخلاف جاری کارروائیوں کا جائزہ لیا گیا مولوی عمر نے کہا کہ حکومت نے ہنگو میں آپریشن بند کرنے کا پیغام بھیجا ہے لیکن طالبان کیخلاف کارروائیاں جاری ہیں اور چیک پوسٹوں پر پریشان کیا جاتا ہے انہوں نے کہا کہ طالبان کی جانب سے حکومت کو دی گئی ڈیڈ لائن ختم ہوچکی ہے لیکن حکومت کیخلاف کارروائی کرنے کا فیصلہ ابھی نہیں کیا اور حکومتی رویے کا جائزہ لیا جارہا ہے ۔
|
|