|
اردو ٹائمز(نیوز) افغانستان میں منشیات کے کاروبارنے حامدکرزئی کوبھی اسیرکرلیا۔ افغان صدر درپردہ طور پر منشیات فروشوں کے لئے کام کررہاہے اوراس سے حاصل ہونے والی آمدنی میں باقاعدہ حصہ وصول کرتا ہے۔ افغانستان میں منشیات کی سمگلنگ میں عام پولیس اہلکار سے لیکرافغان صدرتک ملوث ہے۔ اس بات کا انکشاف امریکی محکمہ خارجہ کے نارکوٹکس بیورو کے سینئر اہلکار تھامسن شیوچ نے اپنے ایک آرٹیکل میں کیا۔ تھامسن افغانستان میں ہیروئن اوردیگر منشیات کے انسداد کے لئے کام کرچکا ہے۔ اوراس نے پچھلے ماہ اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیاتھا۔ تھامسن کے مطابق افغانستان میں کام کے دوران افغان صدر حامدکرزئی براہ راست اس کی منشیات کے خلاف کی جانے والی کوششوں پر پانی پھیرنے اورمنشیات فروشوں کو بچانے میں مصروف رہے آرٹیکل میں مزید لکھا ہے کہ افغان حکومت خطرناک حد تک منشیات کے دھندے کو بچانے میں مصروف ہے افغانستان میں منشیات کے کاروبار میں پولیس سربراہوں کی بڑی تعداد ¾ اعلیٰ عہدیدار اورعدالتوں کے ججزبھی شامل ہیں۔امریکی افواج کو منشیات فروشوں کے خلاف کارروائی کی اجازت نہ دینے پرتھامسن نے پینٹاگون کوسخت تنقید کا نشانہ بنایااورکہاکہ جنگ ختم ہونے تک افغانستان سے یہ دھنداختم کرنا ناممکن ہوجائے گا۔ تھامسن مزید لکھتا ہے کہ مشکل یہ ہے کہ جب تک جنگ ختم ہونے کا وقت آئے گا اس وقت تک طالبان اپنے آپ کو منشیات کے دھندے سے مزید مضبوط کرلیں گے اور ایسا اس وقت تک ہوگا جب تک افغان حکومت اس دھندے کی سرپرستی سے اپنا ہاتھ نہیں کھینچ لیتی۔ امریکہ کی طرح برطانیہ اورنیٹو کی افواج بھی منشیات فروشوں کو فی الحال چھیڑنے کے موڈمیں نہیں ہیں۔ افغانستان میں 2006ءکے بعد سے پوست کی کاشت میں بڑی مقدارمیں اضافہ ہوا اوراس وقت افغانستان دنیا کی 90 فیصد ہیروئن بنارہا ہے تھامسن لکھتا ہے کہ حامدکرزئی منشیات فروشوں کو گرفتار کرنے اورپوست کی فصل جنوبی پشتون علاقوں سے ختم کرنے کے سخت مخالف تھے۔ کرزئی ہم سے وائلن کی طرح کھیلتے رہے اتحادی افواج طالبان سے لڑائی میں مصروف ہیں جبکہ ادھرکرزئی اوران کے دوست امیرہوتے جارہے ہیں اوران معاملات کا ذمہ دار مغرب ہے کیونکہ ہوسکتا ہے مغرب کی حمایت کی وجہ سے کرزئی 2009ءمیں پھر صدر بن جائے۔تھامسن مزیدلکھتا ہے کہ رواں برس افغانستان میں پوست کی کاشت 2007ءکے 20,000 ہیکٹرز سے ایک تہائی رہ گئی ہے۔ میڈیا کی عدم رسائی ¾ افغان حکومت کی کرپشن ¾ سیاسی طورپرمصروف ڈیموکریٹس کی موثر توجہ نہ ہونے کی وجہ سے طالبان منشیات کے خلاف جاری پروگرام کو موثرنہیں ہونے دینگے۔
|
|