|
اردو ٹائمز(نیوز) گورنر پنجاب سلمان تاثیر نے کہا ہے کہ منتخب حکومتیں کبھی اپنی مرضی سے عوام پر بوجھ نہیں ڈالتیں کسی کو تو حالات کی ذمہ داری لینا ہوتی ہے۔ ایک ٹکٹ میں دو مزے والا کام نہیں چلے گا۔ سب کو ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھانا پڑے گا۔ حکمران اتحاد کو چلانا ہے سو دن کی کارکردگی کو جواز بناتے ہوئے یہ کہنا کہ حکومت جارہی ہے غیر جمہوری سوچ اور اپروچ کی عکاس ہے۔ پنجاب میں مسلم لیگ ن اتحاد کی سینئر پارٹنر ہے اس کی حیثیت اور اہمیت کو تسلیم کرتے ہیں۔ حکومت کو کوئی خطرہ نہیں۔ اتحاد چلانا ہے اور مشکل صورتحال سے نبرد آزما ہونا ہے۔ پیپلزپارٹی مفاہمت کے لئے ایک نہیں سو قدم آگے بڑھی ہے جمہوری عمل کو سبوتاژ کرکے کسی کو کچھ نہیں ملے گا نہ 58 ٹو بی والے حالات ہیں نہ وزیراعظم اسمبلی توڑیں گے اور نہ ہی ملک میں کوئی غیر سیاسی اقدام ہوگا۔ حکومتیں پانچ سال کے لئے منتخب ہوئی ہیں سیاسی قوتوں کو لچک دکھا کر آگے چلنا ہوگا۔ چھوٹی موٹی باتوں کا بھی بیٹھ کر حل نکالنا ہوگا۔ وہ گذشتہ روز گورنر ہا¶س میں اخبار نویسوں کے سوالات کے جوابات دے رہے تھے۔ انہوں نے کہاکہ ملک میں اس وقت صرف دو اہم مسائل ہیں ایک قومی سلامتی اور دوسرا معاشی استحکام ان مسائل کے حل کے لئے سیاسی قوتوں کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ نئی حکومت کو اپنے اقتدار کے سو روز میں اہم فیصلے کرنا ہوتے ہیں اور اس بناءپر کسی بھی حکومت کی مقبولیت اور غیر مقبولیت کا اندازہ نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہاکہ ہم سمجھتے ہیں کہ پٹرولیم قیمتوں میں اضافہ سے عوام کو مسائل پیدا ہوئے ہیں جس کے لئے بے نظیر کارڈز اور فوڈ سٹیمپ سکیم کے تحت لوگوں کی ریلیف کا بندوبست کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ کوئی وائٹ پیپر لائے ریڈ یا بلیک پیپر حکومت کی اپنی ترجیحات ہیں۔ اپنا طریقہ کار ہے اور اسے مشکل وقت میں فیصلے کرنا ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ پیپلز پارٹی کا الزام ہے کہ اس نے مفاہمت کے عمل کو آگے بڑھایا اور مرکز اور صوبوں میں دیگر سیاسی قوتوں سے مل کر حکومت بنائی یہی ہماری حکومت کا ویژن ہے۔ انہوں نے مسلم لیگ ق کی قیادت کے حوالہ سے آنے والی خبروں اور حکومت کے مستقبل پر تحفظات کے ضمن میں کہاکہ چودھری صاحبان کا پیش گوئیاں کرنا افسوسناک ہے۔ اگر ان کے حقوق پامال ہو رہے ہیں ان کے خلاف انتقامی کارروائیاں ہو رہی ہیں تو ہم سمجھتے ہیں کہ اپوزیشن کا جمہوریت میں کردار ہے انہیں اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔ پنجاب کے اندر اپوزیشن لیڈر کی نامزدگی ہونی چاہئے اور اپوزیشن کو بھی ذمہ دارانہ کردار اداکرنا چاہئے۔ انہوں نے کہاکہ صدر موجودہ جمہوری سسٹم کا حصہ ہیں اور اگر انہیں بتانا ہے تو اس کے لئے آئین میں طریقہ کار موجود ہے۔ وفاق اور صوبوں کے درمیان کوئی نفاق والی صورتحال نہیں۔ انہوں نے کہاکہ ان کی بطور گورنر نامزدگی پیپلز پارٹی کی طرف سے ہوئی ہے اور گورنر کی نامزدگی کا بھی یہی طریقہ کار ہے کہ وفاقی حکومت کی مرضی سے صدر ان کی نامزدگی کرتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ نہ میں کسی سازش کا حصہ ہوں اور نہ مجھے ایسی کوئی ہدایات دی جاتی ہیں۔
|
|