|
اردو ٹائمز(نیوز) انٹرنیشنل مارکیٹ میں پٹرولیم کی قیمتیں کم ہونے کے باوجود پاکستان میں پٹرولیم کی قیمتوں میں اضافہ سمجھ سے بالاتر ہے۔ اس کا پاکستان کی معیشت پر سخت منفی اثر پڑے گا، صنعتی پیداواری لاگت بڑھے گی اور 22 ارب ڈالر کا برآمد ہدف حاصل نہیں ہو سکے گا۔ افراط زر میں مزید اضافہ ہوگا۔ ہر چیز مہنگی ہوگی جس سے بے روزگاری، غربت اور افراتفری بڑھے گی۔ وفاق ایوان ہائے صنعت و تجارت پاکستان کے نائب صدر اظہر سعید بٹ نے کہاکہ انٹرنیشنل مارکیٹ میں جب پٹرولیم کی قیمت کم ہوئی تو ملک میں پٹرولیم کی قیمت بڑھا دی گئی ہے جس سے ہماری معیشت اور بیٹھ جائے گی۔ انہوں نے کہاکہ انڈسٹری کو رعایت دینے کے حکومت کے تمام دعوے غلط ثابت ہوئے جن لوگوں نے جھوٹے وعدوں پر صنعتی ہڑتال ختم کرائی۔ ثابت ہوگیا ہے کہ ان کا فیصلہ انڈسٹری کے لئے درست نہیں ہے۔ ڈیزل پٹرول کی قیمت میں اضافے سے ملک کی معیشت پر برا اثر پڑے گا۔ افراط زر بڑھے گا۔ انڈسٹری مسائل کا شکار ہوگی اور 22 ارب ڈالر کا برآمدی ہدف اب خواب بن جائے گا۔ لاہور ایوان صنعت و تجارت کے صدر محمد علی میاں، نائب صدر شفقت سعید پراچہ، سابق صدر شاہد حسن شیخ اور سابق سینئر نائب صدر عبدالباسط نے کہاکہ پٹرولیم کی قیمتوں میں اضافے کے معیشت پر برے اثرات مرتب ہوں گے۔ اگر فوری اقدام نہ کئے گئے تو صنعتی پیداواری لاگت بڑھ جائے گی اور برآمدات میں سخت منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ حکومت فوری طور پر پٹرولیم پر ٹیکسوں کو کم کرے اس کے لئے حکومت اپنے اخراجات کو کم کرے۔ چونکہ عالمی منڈی میں قیمت بڑھنے کے باعث ملک میں بھی قیمتیں بڑھ رہی ہیں اس لئے اسے کنٹرول کرنے کا طریقہ ہے کہ پرائیویٹ سکولوں کو پابند کیا جائے کہ اپنی بسیں حاصل کریں اور بچوں کو پک اینڈ ڈراپ کی سہولت دیں تاکہ پٹرول کی بچت ہو سکے۔ اس کے علاوہ فوری طور پر زراعت پر توجہ دی جائے تاکہ زراعت کا شعبہ ترقی کرے۔ اس سے دیہاتوں سے آبادی کا شہروں کی جانب منتقل ہونے کا عمل رک جائے گا۔ وفاق ایوان ہائے تجارت و صنعت پاکستان کی زونل کمیٹی برائے امپورٹ اینڈ کسٹمز کے چیئرمین خواجہ خاور رشید نے کہاکہ پٹرولیم کی قیمتوں میں اضافے سے لوگوں کا جینا محال ہو جائے گا۔ کوئی شک نہیں کہ عالمی منڈی میں تیل مہنگا ہوگیا ہے لیکن اگر حکومت کسٹمز ڈیوٹی اور سیلز ٹیکس ختم کرے تو اس سے عوام کو کافی ریلیف مل سکتا ہے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت پٹرول، ڈیزل اور مٹی کا تیل درآمد کرنے کی اجازت نجی شعبہ کو بھی دے اس سے مقابلہ کی فضا پیدا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت سے عوام کو بہت توقعات وابستہ تھیں لیکن عوام مایوس ہو رہے ہیں۔ شیخوپورہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سینئر نائب صدر منظور ملک نے کہا کہ حکومت کاروباری برادری کو اعتماد میں لے کر وہ وجوہات بتائے جس کے باعث 15 دن بعد 10 فیصد سے 15 فیصد مہنگائی کی جا رہی ہے۔ ان حالات میں اندسٹری تباہی کے دہانے پر کھڑی ہے کیونکہ خام مال کو ویلیو ایڈڈ کرنے میں کم سے کم 20 سے 25 دن لگتے ہیں جس کے باعث ہر صنعت مسلسل گھاٹے کا شکار ہے ہم اپنا احتجاج ریکارڈ کرانے کے لئے ہر راہ اختیار کریں گے اور اس میں ہڑتال بھی شامل ہوگی۔ معروف ماہر اقتصادیات ڈاکٹر امجد سعید خواجہ نے کہاکہ پٹرول 32 روپے لیٹر میں پڑ رہا ہے تو 87 روپے میں کیوں فروخت کیا جارہا ہے حکومت کو اس کی قیمت کم کرنے کے لئے ٹیکس معاف کرنے چاہئیں اور ان ٹیکسوں کی آمدن ان لوگوں پر ٹیکس عائد کرکے پوری کی جائے جو ٹیکس نہیں دیتے ہیں اس سے افراط زر خود بخود نیچے آ جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ پٹرولیم کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے باعث ملک کی معیشت پر سخت منفی اثرات مرتب ہونگے۔
|
|