اردو ٹائمز- اردو کی تازہ خبریں
مسلسل اشاعت کے 28 سال
Twenty eight years of publication

 Daily Urdu News USA CANADA UK

    

 Urdu Times Daily Urdu News
 
Mon, 21 Jul 2008 10:01:00

قبائلی علاقوں میں مزید اقدامات کی ضرورت ہے:رائس

قبائلی علاقوں میں مزید اقدامات کی ضرورت ہے:رائس

 اردو ٹائمز(نیوز)امریکی وزیر خارجہ کونڈو لیزا رائس مشرق وسطیٰ اور ایشیا کے دورے کے پہلے مرحلے میں ابو ظہبی پہنچ گئیں ہیں جہاں وہ یو اے ای کے رہنماﺅں اور دیگر خلیج عرب اتحاد کے رہنماﺅں کے ساتھ ملاقات کرینگی ۔ اس موقع پر سوئٹزرلینڈ میں ایران اور پانچ عالمی طاقتوں کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں رائس کی نمائندگی کرنے والے انڈر سیکرٹری آف سٹیٹ ویلیم برنز رائس کو ذاتی طور پر اور بعد میں ان رہنماﺅں کو ایران کے نیوکلیئر پروگرام سے متعلق بریفنگ دینگے ۔ اس کے بعد امریکی وزیر خارجہ جمعرات کو سنگاپور جائینگی جہاں میں آسیان ممالک کے ہونے والے سالانہ اجلاس کے موقع پر شمالی کوریا کے ہم منصب یاک ی چون سے پہلی بار غیررسمی براہ راست ملاقات میں نیوکلیئر معاملے پر تبادلہ خیال کرینگی ۔ دریں اثناء امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ شمالی کوریا کو تمام نیوکلیئر سوالات کے جوابات دینا ہونگے انہوں نے کہا کہ شمالی کوریا کے ہم منصب کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں ان پر واضع کردینگی کہ پیانگ یانگ اپنے وعدوں کی پاسداری کرے اور نیوکلیئر پروگرام سے متعلق تمام سوالات کے واضح جوابات دینا ہونگے انہوں نے کہا کہ اگرچہ اس میں پیش رفت ہورہی ہے تاہم شمالی کوریا کو یورینیم کی افزودگی سمیت تمام پروگرام کو ختم کرنا ہوگا انہوں نے کہا کہ ان کی شمالی کوریا کے ہم منصب کے ساتھ ملاقات کو تاریخی نہیں کہا جاسکتا البتہ یہ ایک اور موقع ضرور ہے اور پیانگ یانگ کو اپنے تمام وعدوں کی تکمیل کیلئے اس موقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزارائس نے کہا ہے کہ پاکستان کو قبائلی علاقوں میںعسکریت پسندوں پر نظر رکھنے کے لئے مزید اقدامات کی ضرورت ہے جو کہ اس کے اپنے مفاد میں ہے۔ ایک نجی ٹی وی کے مطابق انہوں نے ایک امریکی چینل کو انٹرویو میں کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحد کو مستحکم کرنے کے لئے مزید اقدامات اٹھائے جانے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ سرحد کے استحکام کے لئے مزید اٹھائے جانے والے اقدامات کا مقصد صرف افغانستان کی سیکورٹی نہیں اور نہ ہی اس کا تعلق صرف امریکی مفادات کو نقصان پہنچائے جانے کے خطرے سے ہے بلکہ غیرمستحکم بارڈر سے پاکستان کو بھی خطرہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں اس حوالے سے بے نظیر کے قتل کا حوالہ دے سکتی ہوں جنہیں عسکریت پسندوں نے قتل کر دیا تھا۔ وہ لال مسجد کے قریب حملے جاری رکھے ہوئے ہیں وہ پاکستانی فوج پر بھی حملے کر رہے ہیں لہٰذا پاکستان کا اس میں مضبوط مفاد ہے کہ وہ عسکریت پسندوں کی کمین گاہوں اور ان کی سرگرمیوں کے خلاف اقدامات کرے۔ دریں اثناءرائس نے مزید کہا کہ ایران اپنے نیوکلیئر پروگرام کے مسئلے کے حل کے لئے سنجیدہ نہیں اور نہ ہی اس نے مذاکرات میں کوئی سنجیدہ رویہ اپنایا تھا۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران کا یہی رویہ جاری رہا تو اسے نئی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے اجلاس میں ایران نے عالمی طاقتوں کے نمائندوں کو چکر میں ڈالے رکھا انہوں نے کہا کہ تمام 6 ممالک ایران کو دی جانے والی دو ہفتوں کی ڈیڈ لائن پر سنجیدہ ہیں۔ لہٰذا اب ایران کو اپنی نیوکلیئر سرگرمیاں معطل کرنا ہوںگی یا پھر انہیں نئی پابندیوں کے سامنا کرنے کے لئے تیار رہنا ہو گا۔آئی این پی کے مطابق انہوں نے شمالی کوریا کو بھی متنبہ کیا کہ اب چھ ملکی مذاکرات میں شمالی کوریا کو انتہائی سخت پیغام دیا جائے گا کہ وہ اپنے ایٹمی ہتھیار تلف کر دے۔ واضح رہے کہ شمالی کوریا کے ایٹمی تنازعے پر چھ ملکی مذاکرات رواں ہفتے سنگاپور میں ہونگے۔








© 2008 All Rights Reserved. Urdu Times Group of Publications
sponsors: air purifier