|
اردو ٹائمز(نیوز)پٹرولیم کی مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے سے ملک میں پہلے سے موجود معاشی بحران شدید تر ہوگیا ہے۔ حکومت نے اوگرا کو عوام کے معاشی قتل عام کرنے کا لائسنس دے دیا ہے۔ اوگرا نے ملک میں متوازی حکومت قائم کر رکھی ہے۔ ان خیالات کا اظہار زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے نمایاں افراد نے کیا۔ جماعت اسلامی کے امیر قاضی حسین احمد نے کہاکہ پٹرول ڈیزل مٹی کے تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے رحجان سے لگتا ہے کہ موجودہ حکومت عوام کے مسائل سمجھنے سے بالکل ہی نابلد ہے اور پاکستان کی حالت ایتھوپیا اور صومالیہ جیسی ہونے جارہی ہے۔ نوائے وقت سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہاکہ حکومت نے اوگرا کو عوام کے معاشی قتل عام کا لائسنس دے دےا ہے۔ گندم اور آٹے کی حالت الگ ابتر ہے لوڈ شیڈنگ کے عذاب سے صنعتیں اور کاروباری اداروں سمیت عوام الگ متاثر ہیں۔ مرکزی جمعیت علماءپاکستان کے سربراہ رکن قومی اسمبلی صاحبزادہ حاجی فضل کریم نے پٹرولیم کی قیمتوں میں اضافے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اوگرا نے ملک میں متوازی حکومت قائم کر رکھی ہے اور جمہوری حکومت کو بدنام و ناکام بنانے والے اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پٹرولیم کی قیمتوں میں اضافہ بلاجواز ہے حکومت کو پٹرول 58 روپے فی لیٹر پڑتا ہے جبکہ حکومت نے ٹیکسوں کے انبار سے اس کی قیمت 87 روپے لیٹر تک پہنچا دی ہے۔ انہوں نے کہاکہ پیپلزپارٹی کی حکومت اور وزیر پٹرولیم عوام کو ریلیف دینے کی بجائے عذاب میں مبتلا کر رہے ہیں جس کا خمیازہ ان کو بھگتنا پڑے گا، آئندہ الیکشن میں ووٹوں کی بجائے پتھر پڑیں گے۔ پاکستان ڈیمو کریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کے سربراہ نوابزادہ منصور احمد خان نے کہاکہ پٹرول ڈیزل تیل کی قیمتوں میں پے در پے اضافے سے ملک میں پہلے سے موجود معاشی بحران شدید تر ہوگیا ہے۔ پیپلزپارٹی کی حکومت اگر قیمتیں کم نہیں کر سکتی تو اضافے سے بھی باز رہے وگرنہ عوام ان کو اس کی سزا دیں گے۔ مرکزی جمعیت اہلحدیث کے سربراہ سینٹر پروفیسر ساجد میر نے کہا ہے کہ پٹرولیم کی مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ حکومتی سنگدلی ہے حکومت مکمل ناکام ہوگئی ہے جس کا اعتراف کرتے ہوئے یوسف رضا گیلانی مستعفی ہو جائیں۔
|
|