|
اردوٹائمز(نیوز )ہنگو کے علاقے دوآبہ میں ایف سی اور عسکریت پسندوں کے درمیان شدید جھڑپوں میں 5 عسکریت پسند ہلاک جبکہ 25 زخمی ہو گئے۔ آئی ایس پی آر کے ترجمان میجر جنرل اطہر عباس کے مطابق ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب دوآبہ میں ایف سی قلعہ پر 120 سے زائد شرپسندوں نے حملہ کر دیا۔ ایف سی قلعہ پر تعینات تین درجن جوانوں نے ڈٹ کر مقابلہ کیا جس میں 5 شرپسند ہلاک ہو گئے۔ مقامی لوگوں نے آرمی اور ایف سی کی مدد کی چار گھنٹے مقابلے کے بعد آرمی کی مدد آگئی اور حملہ ناکام بنا دیا گیا واقعہ میں شرپسندوں کی 6 گاڑیاں بھی تباہ کر دی گئیں۔ آن لائن کے مطابق پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل اطہر عباس نے کہا ہے کہ ہنگو آپریشن حتمی کامیابی تک جاری رہے گا۔ سیکورٹی اہلکاروں کو آپریشن میں کامیابی حاصل ہو رہی ہے جبکہ تازہ کارروائی کے دوران پانچ کے قریب شرپسند ہلاک جبکہ ساٹھ افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ ایک نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جھڑپوں میں بارہ سے پندرہ عسکریت پسندوں کو ہلاک کر دیا ہے اور ساٹھ کو حراست میں لے لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جھڑپوں میں پانچ سیکورٹی اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عسکریت پسندوں ک خلاف ٹارگٹ کارروائیاں کی جا ر ہی ہیں جہاں بھی عسکریت پسندوں کی موجودگی کی اطلاعات ملتی ہیں، سیکورٹی فورسز حملہ کر دیتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عسکریت پسند پہاڑوں میں چھپے ہوئے ہیں ان کی حقیقی قوت کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ انہوں نے کہا کہ حتمی کامیابی اور وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی خواہش تک سیکورٹی فورسز کارروائیاں جاری رکھیں گے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ہنگو کے مختلف علاقوں میں سیکورٹی فورسز کا آپریشن پانچویں روز بھی جاری جبکہ شہر میں جاری کرفیو میں چار گھنٹے نرمی کا اعلان کیاگیا ہے۔ ہنگو کے علاقے زرگری اورشنہ وڑی پر سیکورٹی فورسز کے کنٹرول کے بعد ملحقہ علاقوں میں سیکورٹی فورسز کی کارروائی جاری ہے جس میں توپوں ¾ ٹینکوں اور زمینی دستوں کے علاوہ گن شپ ہیلی کاپٹرز بھی استعمال کیاجا رہا ہے۔ ہنگو شہر میں جاری کرفیو میں صبح سات بجے سے گیارہ بجے تک وقفے کا اعلان کیاگیا ہے تاہم دوآبہ میں کرفیو نافذ رہے گا۔ تاحال ٹل ہنگو روڈ پر آمد و رفت معطل ہے۔ دریں اثناءکرم ایجنسی کے وسطی علاقوں میں بھی شدت پسندوں کے ٹھکانے پر گن شپ ہیلی کاپٹروں سے کارروائی کئے جانے کی اطلاعات ہیں اس دوران ایک مشتبہ گاڑی کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ سیکورٹی فورسز نے علاقہ مزرینہ ¾ زنگی ¾ مرعان ¾ زیمشت اور دیگر علاقوں پر حملے کئے جن میں متعدد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
|
|