اردو ٹائمز(نیوز)آزاد کشمیر کے سابق صدر و وزیر اعظم‘ سپریم ہیڈ مسلم کانفرنس سردار عبدالقیوم خان نے ایک خصوصی انٹرویو میں کہا ہے کہ تحریک آزادی کشمیر کیلئے اب بندوق کی ضرورت نہیں ، بندوق نے اپنا کام کر دیا ہے۔ بھارت اور پاکستان بندوق برداروں کو مذاکراتی عمل میں شامل کریں جو کچھ بندوق برداری کے نام پر ہوا ہے اسے اب دہرانا نہیں چاہئے اگر دہرایا گیا تو بہت دےرہو جائے گی ایک وقت تھا کہ افغانستان سے تعلق رکھنے والے جہاد گروپ نے راولپنڈی میں مجھ سے ملاقات کر کے کشمیر جانے کی خواہش کا اظہار کیا تو میں نے انہیں سختی سے منع کرتے ہوئے کہا کہ ہم کشمیر کی تحریک آزادی کو کشمیر سے باہر نہیں لے جانا چاہتے، بعد میں اس طرح کی بہت سی خرابیاں ہونے کی وجہ یہی بداحتیاطی تھی۔ تحریک آزاد کشمیر کسی طور پر کم نہیں ہونا چاہئے بلکہ یہ جاری رہنی چاہئے مستقبل کے مرحلے کیلئے تحریک کا و جود برقرار رہنا ضروری ہے تاکہ نوجوانوں و پتہ چل سکے مقصد ہماری کامیابی کا زینہ بنا آج کا نوجوان سپاہی گروہوں میں بٹا ہوا ہے جس کی وجہ سے اصل مقصد سے ہٹ گیا ہے۔ پاکستان میں لیڈر شپ کے فقدان کی وجہ سے پاکستان مسائل میں گھرا ہوا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ اب کوئی ایسا بندہ ملک میں تلاش کرنا پڑے گا کہ جس کی کمٹمنٹ پاکستانی ہے۔ سردار عبدالقیوم خان نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے صدر پاکستان پرویز مشرف کی تجویز پر چل کر پیش رفت ہو سکتی ہے جبکہ ہندوستان کی جانب سے کوئی تجویز نہیں آئی بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ اگر کوئی تجویز دیں تو اسے ہندو قتل کر دیں میری سمجھ سے بالاتر ہے کہ آصف زرداری کس تجویز کی حمایت کی بات کرت ے ہیں داخلی خودمختاری کہ بھارت عرصہ سے بات تو کرتا ہے مگر اس پرعملاً کچھ کرنا کرتا کارگل ایشو نے مسئلہ کشمیر کو نیوکلیئر فلیش پوائنٹ بنا دیا تھا۔ پاکستان اور بھارت کے مفادات اپنی اپنی جگہ مگر سی بی ایم جاری رہنے کشمیریوں کے مفاد میں ہیں۔ آج حالات سنگین خطرناک ہیں اور کشمیریوں کو مزید قربانیاں دینا پڑیں گی جو کشمیریوں کا مقدر ہے۔ دونوں اطراف کے کشمیریوں کیلئے ضروری ہے کہ اپنی آزادی کی فکر پر اکٹھے ہو کر مشترکہ لائحہ عمل مرتب کریں تب جا کر ہم اپنی منزل پا سکتے ہیں سردار قیوم نے کہا کہ کشمیریوں کی منزل پاکستان ہے نوجوان قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں انہیں اپنا کردار ملک اور قوم کیلئے ادا کرنا چاہئے۔