|
اردو ٹائمز(نیوز) سابق وفاقی وزیر اور مسلم لیگ (ق) کے رہنما ڈاکٹر شیرافگن نیازی نے الزام عائد کیا ہے کہ وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے ان کے حلقے سے بجلی فراہمی کے لئے منظور کردہ سابق حکومت کی گرانٹ اپنے اتحادی رکن اسمبلی کے نام تبدیل کر دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاق اور صوبوں میں حکومتیں سو دن سے پہلے ہی ناکام اور فیل ہو چکی ہیں۔ قبائل اور صوبہ سرحد میں حکومتی رٹ ختم ہو گئی ہے ملک کی بھاگ دوڑ ایک بار پھر فوج کے پاس اور دو ماہ بعد الیکشن ہوتے نظر آ رہے ہیں۔ نواز شریف لندن کے دورے پر نہیں بلکہ ملک سے فرار ہیں۔ عوام (ق) لیگ کے دورکی تعریف کرتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ”آن لائن“ سے خصوصی انٹرویو اور مختلف وفودکے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ ڈاکٹر شیرافگن نے کہا کہ 2007ءمیں اس وقت کے وزیراعظم شوکت عزیز نے میرے حلقہ این اے 72 میانوالی کے دیہاتوں کے لئے میرے مطالبے پر بجلی کی فراہمی کے لئے چارکروڑ روپے کی گرانٹ منظوری دی تھی جس کا باقاعدہ سروے ہوا۔ محکمہ رورل ڈویلپمنٹ لوکل گورنمنٹ نے بھی گرانٹ کی منظوری دی۔ وزیراعظم کی ہدایت پر وزارت خزانہ نے باقاعدہ چیک فیسکو واپڈا کو بھجوائے۔ بجلی کی فراہمی کا کام شروع ہوا تو 2008ءکے الیکشن کی وجہ سے عارضی طور پر بجلی کی فراہمی کا کام روک دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اب موجودہ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے تمام قواعد کو بالائے طاق رکھتے ہوئے میری طرف سے منظور کردہ چار کروڑ کی گرانٹ جو میرے تجویز کردہ اور مختص کردہ دیہاتوں کو بجلی کی فراہمی کے لئے منظوری ہوئی تھی۔ اس کو اپنے اتحادی ممبر حیات روکھڑی کے نام تبدیل کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کا یہ اقدام قابل افسوس ہے۔ ہمارے دور کی منظور کردہ فیسکو کو جاری کردہ چار کروڑ روپے کی بجلی کی فراہمی کی گڑانٹس اپنے حکومتی اتحاد ممبر حیات روکھڑی کے نام اور کھاتے میں ڈالنا بہت شرمندگی اور چھوٹے پن کی علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ مذکورہ چار کروڑ کی گرانٹ سے میرے مختص کردہ دیہاتوں میں بجلی کی فراہمی میں ردوبدل کیا گیا تو میں اور میرے حلقے کے لوگ شدید احتجاج کریںگے۔ مذکورہ گرانٹ دوسرے ممبر کے نام تبدیل کرنے کی حرکت کی میں پرزور مذمت کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کی ناکام پالیسی کی وجہ سے ملک کی صنعتیں فیکٹریاں اور ملیں بند ہو چکی ہیں۔ سٹاک ایکسچینج کریش ہو رہا ہے۔ ڈاکٹر شیرافگن نے کہا کہ صوبہ سرحد پر طالبان قابض ہو چکے ہیں اور صوبائی حکومت فارغ ہو رہی ہے جبکہ دوسرے صوبوں میں مہنگائی اور روزانہ کی بجائے گھنٹوں بعد اشیاءروز مرہ کی قیمتوں میں اضافے نے لوگوں کو احتجاج پر مجبور کر دیا ہے۔ ان حالات میں حکومت ناکام ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں سو دن سے پہلے ناکام اور فیل ہو چکی ہیں۔ اب تو وفاقی حکومت اپنی ناکامی کی وجہ سے آرمی چیف کی طرف دیکھ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حالات بتاتے ہیں کہ حکومت کی بدترین ناکامی کی وجہ سے لازمی بات ہے کہ پھر ملک کی باگ ڈور فوج سنبھال کر دو ماہ بعد الیکشن ہوتے نظر آ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی سی ایل کے غریب ملازمین کو اپنے حقوق مانگنے پر ان پر تشدد کیا گیا ہے اور قبائلی اور صوبہ سرحد کے اکثر علاقوں میں حکومتی رٹ ختم ہو گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان حالات میں وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کا قوم سے خطاب قوم سے مذاق کے مترادف ہے۔ ڈاکٹر شیرافگن خان نیازی نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ (ن) لیگ کے لیڈر میاں نواز شریف لندن دورہ پر نہیں گئے ہیں بلکہ وہ ملک سے فرار ہو گئے ہیں۔ وہ اب پاکستان واپس نہیں آئیںگے کیونکہ وہ فل بنچ کے فیصلہ کی روشنی میں ہر قسم کا الیکشن لڑنے سے نااہل ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری جماعت (ق) لیگ کے مرکزی مجلس عاملہ کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ ہم موجودہ حکومت کے خلاف اپوزیشن کا رول ادا کریںگے۔ (ق) لیگ پیپلزپارٹی یا (ن) لیگ دونوں کے ساتھ کسی صورت اتحاد یا الحاق نہیں کرے گی بلکہ قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں میں اپوزیشن کا کردار ادا کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کی ناکامی کے بعد اب لوگ ہمارے (ق) لیگ کے دور کی تعریف کرتے ہیں کیونکہ ہمارے دور میں مہنگائی ‘بدامنی کی ایسی حالت نہیں تھی۔
|
|