اردو ٹائمز- اردو کی تازہ خبریں
مسلسل اشاعت کے 28 سال
Twenty eight years of publication

 Daily Urdu News USA CANADA UK

    

 Urdu Times Daily Urdu News
 
Fri, 18 Jul 2008 11:58:00

وکلاءاپنی جدوجہد ججوں کی بحالی تک جاری رکھیںگے

وکلاءاپنی جدوجہد ججوں کی بحالی تک جاری رکھیںگے

 

 

 

 

 

 

 

اردو ٹائمز(نیوز) سپریم کورٹ بارایسوسی ایشن کے صدر اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ پاکستان بھر کے وکلاءہر سال 20 جولائی کو یوم آزادی عدلیہ اور 3نومبر کو یوم سیاہ منائیں گے اور 20جولائی کو تمام بار رومز میں فیصلے پر دستخط کرنے والے ان13ججوں کی تصاویر لگا کر تقاریب منعقد کی جائیں گی جنہوں نے فیصلے کے بعد پی سی او کے تحت حلف نہیں اٹھایا، وکلاءبرادری نے پنجاب یا وفاقی حکومت سے کبھی امداد طلب نہیں کی پنجاب حکومت نے صرف سکیورٹی فراہم کی جو ان کا فرض تھا، پیپلزپارٹی کی دوسری بنیادی دستاویز معاہدہ بھور بن ہے جس پرآصف علی زرداری نے بھی دستخط کیے تھے۔ پیپلزپارٹی کبھی ان الفاظ سے انحراف نہیں کرے گی جو محترمہ بینظیر بھٹو نے معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی دہلیز پر کیے تھے ان خیالات کااظہار انہوں نے گزشتہ روز یہاں ہائیکورٹ بار میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا اس موقعہ پر سپریم کورٹ بار کی ایگزیکٹو کونسل کے ممبران سید اختر خان، مسرت گیلانی، امین جاوید،خواجہ طارق سہیل سمیت دیگربھی موجود تھے اعتزاز احسن نے کہا کہ 20جولائی 2007ءمیں سپریم کورٹ کے 13رکنی بینچ نے افتخار محمد چوہدری کے حق میں فیصلہ دیا تھا اور وکلاءہر سال اس فیصلے کی یاد میں یوم آزادی عدلیہ منائیں گے اور اس روز ان ججوں جنہوں نے فیصلے پر دستخط کرنے کے بعد پی سی او کے تحت حلف نہیں اٹھایا ان کی تصاویر بار رومز میں لگا کر ان سے اظہار یکجہتی کے لئے تقاریب اوراجلاس منعقد کیے جائیں گے انہوں نے کہا کہ آج ہونیوالی آل پاکستان وکلاءنمائندہ کنونشن میں وکلاءتحریک کا آئندہ کا لائحہ عمل اختیار کیا جائے گا اوراس کنونشن میں جو بنیادی تجویز پیش کی جائے گی اگر وہ منظور ہو گئی تو تمام بار ایسوسی ایشن مقررہ تاریخ پر ریلی نکال کر جلوسوں کی شکل میں پاکستان کے طول وارض میں کلیدی مقامات اور شہروں کے عین چوک پر 2گھنٹے تک دھرنا دیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس ملک گیر دھرنے سے حکمران وکلاءتحریک میں شدت اور اس کے مو¿ثر ہونے سے آگاہ ہو جائیں گے اور یہ دھرنا ایک بار نہیں بلکہ ضرورت پڑنے پر بار بار دیا جائے گا ۔ اعتزاز احسن نے کہا کہ افتخار محمد چوہدری سمیت 60 ججوں کی بحالی کے بغیر یہ معاملہ ختم نہیں ہوگا اور وکلاءاپنی جدوجہد معزول ججوں کی بحالی تک جاری رکھیںگے ایک سوال کے جواب میں انہوںنے کہا کہ لانگ مارچ کی نسبت دھرنے زیادہ مو¿ثر ثابت ہونگے وکلاءتحریک میں وکلاءقیادت متحد ہیں اور ہم سب معزول ججوں کو ہی مانتے ہیں اور آج ہونے والے کنونشن میں وکلاءتحریک کے حوالے سے مزید اہم فیصلے کئے جائیں گے ایک اور سوال کے جواب میں انہوںنے کہا کہ میرا یقین ہے کہ پیپلزپارٹی محترمہ کے ان الفاظ جو انہوں نے افتخار محمد چوہدری کی دہلیز پر کھڑے ہو کر کہے تھے سے کبھی انحراف نہیں کر سکتی اور پیپلزپارٹی کسی دوسری اہم دستاویز معاہدہ بھوربن ہے جس پر آصف علی زرداری نے دستخط کیے تھے اس وجہ سے ججوں کو پارلیمنٹ میں قرار داد کے ذریعے بحال کرنا پیپلزپارٹی کا فرض ہے کیونکہ اس دستاویز پر ان کے شریک چیئرمین کے دستخط ہیں آئینی پیکج کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ججوں کی بحالی کا آئینی پیکج سے کوئی تعلق نہیں کیونکہ آئینی پیکج کو لانے کا مطلب ہے کہ آپ 3نومبر کے غیرآئینی اقدامات کو درست تسلیم کرکے آئینی تحفظ فراہم کررہے ہیں اگر پیپلزپارٹی آئینی پیکج لاتی ہے تو دیکھیں گے اس کے لئے انہیں دو تہائی اکثریت کی ضرورت ہو گی لیکن میرے خیال میں ان کے پاس دو تہائی اکثریت موجود نہیں ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وکلاءتحریک میں وکلاءنے پنجاب یا وفاقی حکومت سے کبھی امداد نہیں طلب کی سکیورٹی لی ہے اور یہ حکومت کا فرض ہے ۔ (ن) لیگ کے قائد وہ ہیں جنہوںنے معاہدہ بھوربن پر دستخط کیے اور پنجاب حکومت کو معاہدے کی یادہانی کرانا ہمارا فرض ہے یہ فرض ہم بخوبی نبھائیں گے۔

 

 

 

 

 

 

 








© 2008 All Rights Reserved. Urdu Times Group of Publications
sponsors: air purifier