|
اردو ٹائمز(نیوز) امریکی وزیر خارجہ کنڈولیزارائس نے کہا ہے کہ امریکہ ایران کوایٹمی پروگرام سے روکنے پرمضبوطی سے قائم ہے لیکن یہ ہم نہیں جانتے کہ ایران مثبت جواب دیتا ہے یانہیں۔ ہم مسئلے کاسفارتی حل چاہتے ہیں اورامید کرتے ہیں کہ ایران ہمارے پیغام پرغورکرے گا۔ انہوںنے یہ بات فن لینڈ کے وزیر خارجہ الیگزینڈر سٹب سے ملاقات کے بعدصحافیوں سے گفتگوکرتے ہوئے کہی انہوںنے کہاکہ مسئلے کے سفارتی حل کے لئے ہم اعلیٰ سفارتکار جنیوا بھیج رہے ہیں جوایرانی نمائندے اور یورپین یونین کے خارجہ پالیسی کے سربراہ ہاﺅئیرسولانا سے ملاقات میں مسئلے پر بات چیت کرے گا۔ جب ان سے سوال کیاگیا کہ ایران سلامتی کونسل کے 5 مستقل ممالک کی یورینیم افزودگی روکنے کے بدلے ٹیکنالوجی کی پیشکش کا مثبت جواب دے گا یانہیں توانہوںنے کہاکہ مجھے نہیں پتہ ایران کیاجواب دے گا۔ جبکہ ایرانی نمائندے سے جنیوا میں ملاقات کے لئے جانیوالے امریکی اعلیٰ سفارتکار ولیم برنس نے کہاکہ ان مذاکرات کامقصد ایران کو یہ پیغام دینا ہے کہ واشنگٹن مسئلے پر پیدا ہونے والے ڈیڈ لاک کو بات چیت کے ذریعے حل کرناچاہتا ہے۔ یادرہے کہ واشنگٹن ہمیشہ اس بات پرزوردیتا رہاہے کہ ایران جب تک یورینیم افزودگی معطل نہیں کرے گا اس سے بات چیت نہیں ہوگی۔ جبکہ موجودہ ملاقات کے بارے میں بھی امریکی حلقوں کاخیال ہے کہ ولیم برنس سلامتی کونسل کے مستقل ارکان اورجرمنی کی طرف سے ایران کو کی گئی پیشکش کاجواب لینے جارہے ہیں نہ کہ مذاکرات کرنے جبکہ تجزیہ نگاروں کاخیال ہے کہ امریکہ نے موجودہ اقدام اس لئے اٹھایاگیاکیونکہ اب بات چیت میں سلامتی کونسل کے دیگر مستقل ارکان اورجرمنی بھی شامل ہوگیاہے۔
|
|