|
اردو ٹائمز(نیوز) ہنگو میں سیکورٹی فورسز نے طالبان کے اہم گڑھ زرگری پر کنٹرول حاصل کر کے وہاں سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔ اس دوران سیکورٹی فورسز اور عسکریت پسندوں کے درمیان جھڑپ میں 10 عسکریت پسند جاں بحق جبکہ پانچ سیکورٹی اہلکاروں سمیت 35 عسکریت پسند زخمی ہو گئے ہیں‘ وزیرستان کی سب ڈویژن لدھا کے نواحی گا¶ں میں 3 افراد کو امریکہ کے لئے جاسوسی کے الزام میں قتل کر دیا گیا ہے‘ خیبر ایجنسی کی وادی تیراہ میں لشکر اسلام اور انصار الاسلام کے درمیان جاری لڑائی میں مزید چھ افراد جاں بحق جبکہ 13 زخمی ہو گئے ہیں۔ دوسری جانب کرم ایجنسی میں منگل قبائل کی جانب سے لیوی فورس کے دو اہلکاروں سمیت اغواءکئے گئے پولیٹکل انتظامیہ کے اہلکار کو بازیاب کرا لیا گیا۔ ”آن لائن“ کو مختلف نمائندگان اور ذرائع ابلاغ کی موصولہ رپورٹس کے مطابق سیکورٹی فورسز نے ہنگو کے زرگری علاقے کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد پیش قدمی شروع کر دی ہے‘ ہنگو اور دوآبہ میں کرفیو بدستور نافذ ہے‘ تمام راستے اور بازار بند ہیں۔ زرگری کے علاقے میں طالبان نے ایک سکول میں پناہ لے رکھی تھی جس پر سیکورٹی فورسز نے حملہ کیا جس میں پانچ عسکریت پسند جاں بحق جبکہ 30 زخمی ہو گئے۔ پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل اطہر عباس نے دس عسکریت پسندوں کے ہلاک اور پانچ سیکورٹی اہلکاروں کے زخیم ہونے کی تصدیق کی ہے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عسکریت پسندوں سے علاقہ خالی کرانے تک آپریشن جاری رہے گا انہوں نے کہا کہ سیکورٹی فورسز نے زرگری علاقے کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ سیکورٹی فورسز شدت پسندوں کے ٹھکانوں کی طرف پیش قدمی کر رہی ہے اور شدت پسند علاقے سے روپوش ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ کشیدہ صورتحال ہونے کے باعث لوگوں نے نقل مکانی شروع کر دی ہے اور ان کے لئے ہنگو سٹیڈیم اور بگٹو کے دو سکولوں میں کیمپ قائم کر دیئے گئے ہیں۔ دو آبہ میں کرفیو بدستور نافذ ہے۔ کوہاٹ ٹل روڈ عام آمد و رفت کے لئے ایک ہفتے سے بند ہے۔ واضح رہے دوآبہ میں پولیس کی گاڑیوں پر حملے کے بعد سیکورٹی فورسز نے تین روز قبل علاقے میں شدت پسندوں کے خلاف کارروائی شروع کی۔ شمس الدین بانڈہ اور شنواری علاقوں میں سیکورٹی فورسز کی کارروائی جاری ہے جس میں شدت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ سیکورٹی فورسز کارروائی میں ٹینکوں‘ توپوں اور بکتر بند گاڑیوں کے علاوہ گن شپ ہیلی کاپٹرز بھی استعمال کر رہی ہے۔ اورکزئی ایجنسی میں مقامی طالبان کے ایک ترجمان مولوی حیدر نے دعویٰ کیا ہے کہ طالبان عسکریت پسند بدستور زرگری گا¶ں میں موجود ہیں اور بقول ان کے سیکورٹی فورسز کو وہاں سے نکال دیا گیا ہے۔ انہوں نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ سیکورٹی فورسز پر حملے میں کئی اہلکار مارے گئے تاہم آزاد ذرائع سے اس دعوے کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ مقامی ذرائع کے مطابق سیکورٹی فورسز کے آپریشن میں اب تک 5 عام شہری بھی مارے جا چکے ہیں۔ تاہم فوج کے ترجمان نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ افراد طالبان کی جانب سے شہری علاقوں میں مارٹر گولے داغنے کے نتیجے میں ہلاک ہوئے ہیں۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ چند طالبان عسکریت پسندوں نے شنواری ہائی سکول میں پناہ لے رکھی تھی جس پر سیکورٹی فورسز نے سکول کا محاصرہ کیا اور شدید شیلنگ کی جس سے سکول کی عمارت کو شدید نقصان پہنچا۔ دوآبہ تھانے کے ایک اہلکار کے مطابق فائرنگ سے سکول کے تین کمرے منہدم ہو گئے۔گزشتہ روز مذاکرات کی ناکامی کے بعد وفاقی حکومت نے ہنگو میں آپریشن جاری رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔ ادھر اورکزئی ایجنسی میں قبائلی عمائدین اور پولیٹکل انتظامیہ کے درمیان مذاکرات میں چیک پوسٹیں اور سکولز خالی کرنے اور غیرملکی اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کاررائی پر اتفاق کیا گیا ہے۔۔ کرم ایجنسی میں منگل قبائل کی جانب سے لیوی فورس کے دو اہلکاروں سمیت اغواءکئے گئے پولیٹکل انتظامیہ کے اہلکار کو بازیاب کرا لیا گیا ہے۔ پولیٹکل ایجنٹ کرم ایجنسی محمد اعظم خان نے نجی ٹی وی کو بتایا کہ بدھ کے روز شلوزان تنگی کے علاقے سے مسلح قبائل نے پولیٹکل محرر نقیب حسین کو کرم لیوی فورس کے دو اہلکاروں سمیت اغواءکر لیا تھا۔ اغواءکے واقعہ کے بعد پولیٹکل حکام اور قبائلی عمائدین نے بازیابی کے لئے کوششیں شروع کر دیں اور 24 گھنٹے بعد انہیں اغواءکاروں سے غیرمشروط طور پر بازیاب کرا لیا گیا۔ دریں اثناءخیبر ایجنسی کی وادی تیراہ میں حالات بدستور کشیدہ ہیں۔ لشکر اسلام اور انصار الاسلام کے درمیان جاری لڑائی میں مزید چھ افراد جاں بحق جبکہ 13 زخمی ہو گئے۔ لڑائی میں دونوں متحارب گروپ ایک دوسرے کے خلاف بھاری ہتھیاروں کا استعمال کر رہے ہیں۔ انصار الاسلام نے شدید لڑائی کے بعد دوپیر علاقے کا کنٹرول سنبھال کر وہاں مورچے قائم کر دیئے۔ گزشتہ دو سال سے علاقے میں دونوں گروپوں کے درمیان جاری جھڑپوں میں اب تک 140 سے زائد افراد جاں بحق جبکہ 400 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ ادھر جنوبی وزیرستان کے سب ڈویژن لدھا کے نواحی گا¶ں کاروان منزہ سے تین لاشیں برآمد کی گئیں۔ یہ تینوں لاشیں ایک نالے سے ملی ہیں ایک برطانوی خبررساں ادارے کے مطابق لاشوں کے ساتھ پشتو میں تحریر ایک خط بھی ملا ہے جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ مقتولین امریکہ کے لئے جاسوسی کرتے تھے اطلاعات کے مطابق اس خط میں خبردار کیا گیا ہے کہ امریکہ کے لئے جاسوسی کرنے والوں کا انجام یہی ہو گا۔ تاہم خط میں یہ نہیں بتایا گیا کہ مقتولین کون ہیں اور ان کا تعلق کہاں سے ہے۔ پولیٹکل انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بتایا کہ تینوں افراد کو فائرنگ کر کے ہلاک کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ مقتولین کون ہیں اور ان لوگوں کو کس نے ہلاک کیا۔ تاہم یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ قتل کئے گئے ان افراد میں سے دو کو ذبح کیا گیا جبکہ ایک کو کلاشنکوف کا برسٹ مار کر کے قتل کر دیا گیا۔ تینوں لاشیں ابھی تک کاروان منزہ کے مقام پر پڑی ہیں اور لوگ ان کی شناخت کی کوشش کر رہے ہیں۔ واقعہ کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ واضح رہے کہ گزشتہ چار سال کے دوران نامعلوم افراد نے شمالی و جنوبی وزیرستان میں امریکہ کے لئے جاسوسی یا حکومت کی حمایت کے الزام میں 300 کے قریب لوگوں کو ہلاک کیا ہے
|
|