اردو ٹائمز- اردو کی تازہ خبریں
مسلسل اشاعت کے 28 سال
Twenty eight years of publication

 Daily Urdu News USA CANADA UK

    

 Urdu Times Daily Urdu News
 
Thu, 22 May 2008 11:14:00

آئینی پیکیج موصول نہیں ہوا ملنے پر بات کروں گا: نوازشریف

آئینی پیکیج موصول نہیں ہوا ملنے پر بات کروں گا: نوازشریف

 


اردو ٹائمز(نیوز)مسلم لیگ (ن) کے سربراہ نوازشریف نے 18 فروری کے مینڈیٹ کے سٹیٹس کو کے خاتمہ اور تبدیلی کا مینڈیٹ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے فوری بعد میں اور آصف زرداری مل کر ججز کی بحالی اور صدر کے مواخذہ کا اعلان کر دیتے اور جنرل مشرف اس کے سامنے دو روز کے لئے بھی نہیں ٹھہر سکتے تھے۔ معزول ججز نے ہمیں بھی ٹارگٹ کیا ریلیف نہ دیا لیکن میں سمجھتا ہوں کہ جسٹس افتخار چودھری اس ملک میں عدلیہ کی آزادی اور جدوجہد کی علامت ہیں ان کی بحالی کے بغیر یہ یقینی نہیں بنے گی۔ پی سی او ججز کو تسلیم نہیں کرتا جن کی تقرری اور وابستگی ایک شخص کی ہو اور ان کی وجہ سے یہ عدلیہ قرار نہیں پا سکتی پیپلزپارٹی سے ساتھ نبھانے کے لئے آخری حد تک جا¶ں گا۔ مڈٹرم انتخابات کا امکان نہیں، ہم چاہتے ہیں کہ حکومت چلے 3 نومبر 2007ءکی عدلیہ کی واپسی کے مسئلہ پر کمپرومائز کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ سیاستدان تب ناکام ہوتے اگر پی سی او ججز کو قبول کرلیتے۔ جنرل مشرف کے سامنے جھک جاتے عوام کے احساسات و جذبات کا اندازہ ہے کہ خود مایوس ہوں نہ عوام کو ہونے دیں گے۔ آئینی پیکیج موصول نہیں ہوا اس پر بات اس کے ملنے پر ہوگی اچھا ہوتا کہ اعلان مری پر اس کی سپرٹ کے مطابق عمل ہو جاتا جس میں کسی آئینی پیکیج کی بات نہیں تھی۔ آئینی پیکیج چارٹر آف ڈیمو کریسی کے تحت لے آتے تو آنکھیں بند کرکے اس پر دستخط کر دیتے۔ اعلان مری کی روشنی میں قرارداد آئی تو کوئی ججز کی بحالی کو نہ روک سکتا۔ آصف زرداری نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ یہ حکم امتناعی لے آئیں گے میں نے کہا کہ آپ قرارداد آنے دیں میں اور آپ مل کر ان ججز کو سپریم کورٹ بٹھانے جائیں گے دیکھیں گے کون سا حکم امتناعی انہیں روکتا ہے۔ وہ گزشتہ روز ممتاز کالم نویس عطاءالحق قاسمی کی رہائش گاہ پر ملک کے معروف ایڈیٹرز، کالم نویسوں اور اخبار نویسوں سے بات چیت کر رہے تھے۔ انہوں نے ان کے سوالات کے جوابات دئیے اور مختلف ایشوز پر اپنے م¶قف کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عوام کی توقعات پر پورا اتریں گے۔ جنرل مشرف سے نجات حاصل کر کے رہیں گے۔ عوام کی جانب سے ملنے والے مینڈیٹ کے مطابق ان کے اعتماد پر پورا اتریں گے۔ انہوں نے مختلف سوالات کے جوابات دیتے ہوئے واضح کیا کہ میں نے پیپلز پارٹی میں تعاون والی بات نہیں کی اور نہ ہی اس انٹرویو میں پیپلزپارٹی یا ان کا کردار زیر بحث آیا میں نے اس پر خود آصف زرداری سے بھی بات کی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہم اور پیپلز پارٹی مل کر ملک میں بنیادی سیاسی تبدیلیاں یقینی بنا سکتے ہیں اور مجھے اب بھی اس پر یقین ہے۔ پیپلزپارٹی کے ساتھ اتحاد کے لئے آخری حد تک جائیں گے لیکن اصولوں پر سمجھوتہ نہ ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ 3 نومبر کے جنرل مشرف کے اقدامات کو قانونی جواز دینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ہم تو ان اقدامات کے خلاف ہیں اور 3 نومبر والی عدلیہ کی بحالی کے لئے جدوجہد کر رہے ہیں۔ اس لئے کہ عدلیہ کی بحالی صرف عدلیہ کی بحالی نہیں اس عمل میں خود ملکی بقاءو سلامتی اداروں کی مضبوطی عوام کے لئے عدل و انصاف کا راز مضمر ہے۔ انہوں نے ایک سوال پر کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ایوان صدر میں کیا ہو رہا ہے کیوں ہو رہا ہے؟ انہوں نے ایک سوال پر کہاکہ المیہ یہ ہے کہ آج وہ لوگ جو جنرل مشرف کے ساتھی تھے اور ہیں وہ بھی عدلیہ کی بحالی پر بات کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہاکہ قومی مفاہمت کا حامی ہوں لیکن جس قومی مفاہمت میں ایم کیو ایم اور ق لیگ کو بھی شامل کر لیا جائے یہ کیسی مفاہمت ہوگی جنرل کے ساتھیوں سے قانون، آئین اور جمہوریت کے حوالہ سے کیا توقعات قائم کی جاسکتی ہیں۔ نوازشریف نے ایک سوال پر کہا کہ 18 فروری کے عوامی مینڈیٹ پر عملدرآمد میں ہی معاشی و سیاسی استحکام کا راز مضمر ہے اور ہمیں عوام کی توقعات پر پورا اترنا ہے۔








© 2008 All Rights Reserved. Urdu Times Group of Publications


sponsors: air purifier