اردو ٹائمز(نیوز)معزول چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا ہے کہ پی سی او جج ایک دن قوم اور اپنے بچوں کے سامنے جوابدہ ہوں گے ، قوم کے غصے میں مزید اضافے سے پہلے ہی اداروں کو بحال کر دیا جائے، اب وکلاءاور جج صاحبان کےلئے سمجھوتے کی کوئی صورت باقی نہیں بچی، وکلاءتحریک کی کامیابی کیلئے وزارتیں چھوڑنے والی جماعت پاکستان کو منزل تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کرے گی، ہم اس کے اقدام کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ سیاسی جماعتوں نے بھی اصولوں کی سیاست شروع کی ،ہمیں توقع ہے کہ اب سیاسی جماعتیں کوئی بھی ایسا سمجھوتہ نہیں کریں گی جس میں قومی اور ملکی مفاد کے بجائے سیاسی مفاد کو ترجیح دی گئی ہو،ممکن ہے کہ ہمیں مستقبل میں زیادہ جدو جہد کرنا پڑے اسی لئے وکلاءاپنے رہنماﺅں کے اصولوں پر چلتے ہوئے بڑی سے بڑی قربانی کےلئے تیار رہیں، اعلی عدلیہ کے ججوں نے دوبارہ تقرری کی پیشکش مسترد کر دی ہے ، عدلیہ غیر آئینی اقدامات کو تحفظ فراہم نہ کرتی تو آج حالات مختلف ہوتے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو سندھ ہائی کورٹ بارایسوسی ایشن ،کراچی بار ایسوسی ایشن اورملیربارایسوسی ایشن کے وکلاءسے ٹیلی فونک خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ وکلاءکی تحریک میں وکلاءکے ساتھ ساتھ میڈیا اور سول سوسائٹی کے کردار اور جدو جہد کو فراموش نہیں کیا جا سکتا ۔ملک کی تاریخ میں کبھی بھی قانون کا بول بالا نہیں ہوا اورہمیشہ ہی کسی نہ کسی طریقے سے عدلیہ اور آئین کی بالا دستی و قانون کی حکمرانی کو ختم کرنے کے بہانے تلاش کیے جاتے رہے اس سلسلے میں عدلیہ کا کردار بھی افسوسناک رہا۔ انہوں نے کہاکہ آمریت نے ہمیشہ عدلیہ کونقصان پہنچایا ہے اور ذاتی اقدامات کو تحفظ فراہم کر کے حکمرانی کے راستے ہموار کیے گئے۔ میں بحیثیت چیف جسٹس آف پاکستان اس سارے عمل میں عدلیہ کو غلطی سے مبرا نہیں سمجھتا اگر عدلیہ غلط اقدامات کی حوصلہ افزائی نہ کرتی تو آج حالات مختلف ہوتے ۔انہوں نے کہاکہ اب جو کچھ ہوا ہے اس کے خلاف عدلیہ اور وکلاءڈٹ گئے ہیں۔ یہ کام 1956ءاور 1977ءمیں بھی ہونا چاہئے تھا۔ ملک کی 60 سالہ تاریخ میں پہلی مرتبہ وکلاء، جج صاحبان اور 16 کروڑ عوام نے یہ سوچنا شروع کیا ہے کہ اب ملک میں آئین کی بالا دستی اور قانون کی حکمرانی قائم کرناہو گی ۔اس کی واضح مثال یہ ہے کہ جب 3 نومبر 2007ءکوملک میں مارشل لاءنافذ کیا گیا تو 7 جج صاحبان نے میری سربراہی میں یہ حکم صادر کیا کہ مارشل لاءیا ایمر جنسی نافذ نہیں کی جا سکتی اور سپریم کورٹ و ہائی کورٹس کے جج صاحبان کو بھی منع کیا گیا کہ آپ کسی شخصی قسم کا حلف نہ اٹھائیں جس پر60 جج صاحبان نے حلف اٹھانے سے انکار کردیا۔انہوں نے کہاکہ پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والے چندجج صاحبان کی قوم نے جو عزت کی وہ سب کے سامنے ہے تاہم جن جج صاحبان نے پی سی او کے تحت حلف نہیں اٹھایا وہ میرے لئے قابل احترام ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حلف نہ اٹھانے والوں میں سے اعلیٰ عدلیہ کے 19 جج صاحبان خودکو مستحکم نہیں رکھ سکے اور کسی نہ کسی وجہ سے انہیں حلف اٹھانا پڑا لیکن اکثریت کے پایہ استقلال میں کوئی لغزش نہیں آئی اور انہوں نے کوئی دباﺅ قبول نہیں کیا۔ ایسے تمام جج صاحبان لائق تحسین ہیں۔ جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا کہ ان جج صاحبان پر ہر قسم کا دباﺅ ڈالا گیا کہ نئے سرے سے اپنی تقرری کو تسلیم کر لیں جس کے بعد ان کی تمام مراعات بحال کردی جائیں گی لیکن جج صاحبان نے ایساکرنے سے انکار کر دیا اور 3 نومبر کے غیر آئینی اقدام کو تسلیم نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والے ججوں نے نہ صرف غیر آئینی اقدامات کی تائید کی بلکہ ایسے حلف کی پاسداری کی جس کا کوئی جواز نہیں تھاوہ نہ صرف خودکوبلکہ قوم اور اپنے بچوں کے سامنے بھی ایک دن جوابدہ ہوں گے۔ میں ان کو جج تسلیم نہیں کرتا۔ انہوں نے کہا کہ آج حالات 1958 ء، 1977 ء، 1999ءجیسے نہیں ہیں آج قوم بیدار ہو چکی ہے اور حالات بدل چکے ہیں۔ عوام نے 18 فروری کو عام انتخابات میں یہ بات ثابت کر دی ہے کہ پاکستانی قوم غیرت مند ہے اور اپنی غیرت کا دفاع کرنا جانتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اب وکلاءاور جج صاحبان کےلئے سمجھوتے کی کوئی صورت باقی نہیں رہی کیونکہ قوم نے اپنا مینڈیٹ دے کرہمیں ایک ایسی جگہ پر لا کھڑا کیا ہے جہاں ہمیں آئین کی بالا دستی اور قانون کی حکمرانی کےلئے جدو جہد کرنی پڑے گی ۔قوم اس سلسلے میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس سے پہلے کہ قوم کے غصے میں مزید اضافہ ہو جائے ضرورت اس امر کی ہے کہ جتنا جلدممکن ہو سکے ہم اپنے اداروں کو بحال کریں اور عدلیہ کو مکمل طور پر آزاد کردیں۔انہوں نے کہا کہ ملک کی تاریخ میں پہلی مرتبہ سیاسی جماعتوں نے بھی اصولوں کی سیاست شروع کر دی ہے۔انہوں نے مسلم لیگ (ن) کا نام لئے بغیرکہاکہ ایک سیاسی جماعت نے ملک میں آئین اور قانون کی بحالی اور وکلاءتحریک کی کامیابی کےلئے وفاق سے 15 وزارتیں چھوڑی ہیں جس سے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یہ جماعت پاکستان کو اس کی منزل تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ وکلاءبرادری ،جج صاحبان اور تمام سول سوسائٹی یہ سمجھتی ہے کہ آئین اور قانون کی بالا دستی اور عدلیہ کی مکمل آزادی کے بغیر ملکی حالات بہتر نہیں ہو سکتے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ہمارے بزرگوں نے بڑی قربانیاں دے کر حاصل کیا تھا اور یہ ملک کسی ایک شخص کا نہیں بلکہ 16 کروڑ عوام کا ہے۔ قیام پاکستان میں وکلاءنے بھی اپنا اہم کردار ادا کیا تھا۔ قائد اعظم محمد علی جناحؒ سمیت تحریک آزادی کے دیگر کئی رہنماﺅں کا تعلق وکالت کے پیشے سے تھا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی بنیادیں ایسے نظریات پر رکھی گئی ہیں جنہیں ہلانا نا ممکن ہے لیکن پاکستان کو مزید مضبوط بناناوکلاء، جج صاحبان اور سول سوسائٹی کی ذمہ داری ہے اور ہمیں اپنی ذاتی خواہشات کو پیچھے چھوڑ کر عہد کرنا ہو گا کہ ہم اس ملک کو مضبوط بنانے کےلئے اپنا کردار ادا کریں گے اور ایک ایک فردکو اس کا بنیادی حق فراہم کریں گے۔انہوں نے کہا کہ میں نے 1973ءمیں کوئٹہ سے بحیثیت وکیل اپنے کیریئر کا آغاز کیا تھااس وقت سے اب تک ملک میں کئی تحریکیں چلی ہیں لیکن وکلاءکی موجودہ تحریک جو 14 ماہ سے جاری ہے اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ انہوں نے کہا کہ معزول چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ صبیح الدین احمدسمیت دیگر تمام معزول جج صاحبان آئین اور قانون کی حکمرانی کی خاطر وکلاءتحریک کے ساتھ بہت نقصانات برداشت کر نے کے باوجود سیسہ پلائی دیوارکی طرح کھڑے ہیں۔ متعددجج صاحبان اور وکلاءکو مالی نقصان کابھی سامناکرنا پڑا ہے اور چند عناصر کی کوشش رہی کہ انہیں لالچ دے کر تحریک سے الگ کیا جائے۔ ہمیں نصیر قریشی ، حسن جعفری ، افتخار جہانزیب اور شازیہ منظور جیسے لوگوں کو مثال بنا کر آگے بڑھناہو گا۔ ہم تمام جج صاحبان اور وکلاءسے عہد کرتے ہیں کہ ہم آسان اور مشکل دونوں وقتوں میں اکھٹے رہیں گے اور یہ ثابت کریں گے کہ اب یہ ملک صرف آئین اور قانون کے مطابق ہی چلے گا۔ انہوں نے کہا کہ اب وکلاءکی ذمہ داری ہے کہ وہ تمام لوگوں کو اس بات پر منظم کریں کہ وہ ملک میں آئین کی بالا دستی اور قانون کی حکمرانی قائم کرنے کےلئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔ معزول چیف جسٹس افتخارمحمدچوہدری نے ملیر بار اورساہیوال بارکے وکلاءکی قربانیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہیں پورے پاکستان میں وکلاءکی قربانیوں کا احساس ہے اور یہ تمام قربانیاں ضرور رنگ لائیں گی۔ افسوس کی بات ہے کہ ساہیوال کے وکلاءکو پٹرول چھڑک کر جلائے جانے کے واقعے میں ملوث افراد سے کوئی پوچھ گچھ نہیں کی گئی۔انہوں نے کہا کہ میں وکلاءکو یقین دلاتا ہوں کہ جونہی عدلیہ بحال ہو گی تو لاہور ہائی کورٹ کے جج خواجہ شریف ان تمام معاملات کو دیکھتے ہوئے ذمہ داران کو سزا دلائیں گے۔ریڈیو نیوز کے مطابق معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے کہا ہے کہ پاکستان میں ہمیشہ عدلیہ کو کچلنے کی کوشش کی گئی اور کبھی قانون کا بالا نہیں ہوا تاہم اب پاکستان کے ساتھ کوئی مذاق نہیں ہونے دیا جائے گا۔جسٹس افتخار نے کہاکہ ایک سیاسی جماعت نے عدلیہ کی بحالی کے لئے 15 وزارتوں کی قربانی دے کر عظیم مثال قائم کی یہ اقدام پاکستان کو منزل تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ 18 فروری کو عوام نے ثابت کر دیا کہ وہ باضمیر ہیں عدلیہ کی بحالی کے بغیر کام نہیں چل سکتا۔ آئین و قانون کی حکمرانی کے لئے کوئی بڑی قربانی دینا پڑی تو دریغ نہیں کریں گے ہمیں ذاتی مفادات اور خواہشات کو بالائے طاق رکھنا ہے اور عہد کرنا ہے کہ ملک مضبوط ہو اور لوگوںکو انصاف فراہم کرنا ہے معزول چیف جسٹس نے کہا کہ ہمارے پاس کسی سمجھوتے کی گنجائش نہیں رہی اب صرف آئین و قانون کی حکمرانی کی بات ہوگی۔ ایک ایک بچے کو آئین میں درج حقوق دلانا ہوں گے تین نومبر کے اقدامات اور مارشل لاءکو سپریم کورٹ نے کالعدم قرار دیا اور سات ججز نے میری سربراہی میں حلف اٹھایا۔ افتخار محمد چودھری نے زور دیکر کہا کہ جتنی جلد ممکن ہو اداروں کو بحال کیا جائے۔