|
اردو ٹائمز(نیوز) 1973ءآئین کے مطابق پاکستان کو ہر قیمت پر ایک فلاحی ریاست بنایا جائے گا جو 1973ء کے آئین کے نفاذ کے بعد پاکستان میں برسر اقتدار آنے والے سیاسی گروہ آئین کی مکمل طور پر نفاذ کے ذمہ دار ہیں لیکن بدقسمتی سے برسر اقتدار آنے والے لوگوں نے اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری نہیں کیں جو کہ ہماری قومی سیاست کا ایک المیہ ہے ان خیالات کا اظہار انور علیمی ایڈووکیٹ چیئرمین ہیومن رائٹس انٹرنیشنل نے ایک پریس کانفرنس میں کیا۔ انہوں نے کہاکہ 1973ءکے بعد برسر اقتدار آنے والی حکومتوں نے پاکستان کو ایک فلاحی مملکت بنانے کے لئے اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری نہیں کیں۔ انہوں نے کہاکہ 1973ءکے آئین کے آرٹیکل 8 سے 40 تک میں دئیے گئے انسانی حقوق اور پالیسیاں مرتب کرنے کے لئے دئیے گئے۔ اصولوں پر عملدرآمد انتہائی ضروری ہے لیکن بدقسمتی سے 1973ءکے آئین کے نفاذ کے پہلے روز سے ہی ان کو نظر انداز کیا گیا۔ انہوں نے حکومت کو خبردار کرتے ہوئے واضح کیا کہ یہ آئین پاکستان سے انحراف کی بدترین مثال ہے اور موجودہ حکومت اگلے 90 روز میں اس بات کا نوٹس لیتے ہوئے ملک کو فلاحی ریاست بنانے کے لئے آئین پاکستان کے مکمل نفاذ پر توجہ نہ دی تو وہ خود ہیومن رائٹس انٹرنیشنل کے چیئرمین کی حیثیت سے آئین کی انسانی حقوق سے متعلق شقوں کے نفاذ کے لئے سپریم کورٹ سے رابطہ کریں گے۔
|
|