|
اردو ٹائمز(نیوز)مقامی طالبان نے کہا ہے کہ امن معاہدے کی کامیابی اسلامی نظام کے نفاذ سے مشروط ہے۔ ترجمان طالبان مسلم خان نے اے ایف پی سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے اس شرط پر مسلح جنگ ترک کی ہے کہ حکومت نے شریعت نافذ کرنے پر رضا مندی ظاہر کردی ہے۔ نامعلوم مقام سے ٹیلیفون پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم امن معاہدے کی منظوری سے خوش ہیں تاہم اس کا انحصار حکومت پر ہے کہ وہ کب شریعت نافذ کرتی ہے۔ اے ایف پی کے مطابق مقامی شہری بھی امن معاہدے سے انتہائی خوش ہیں۔ مینگورہ میں ایک دکاندار نے بتایا کہ خداا کا شکر ہے کہ اب ہم امن کا ساتھ دینے کے قابل ہوگئے ہیں۔ سرحد حکومت کے ایک سینئر عہدیدار نے بتایا کہ موجودہ عدالتوں کی مدد کیلئے اسلامی سکالر لگائے جائیں گے جو مقدمات کو اسلامی طریقوں سے حل کرنے کیلئے موجودہ عدالتوں کی مدد کرینگے تاہم موجودہ عدالتی سسٹم برقرار رہیگا۔ انہوں نے کہا کہ اب یہ شکایت کنندہ پر منحصر ہے کہ وہ اپنا کیس شریعت کے مطابق حل کروانا چاہتا ہے یا پاکستانی آئین کے مطابق۔
|
|