اردو ٹائمز- اردو کی تازہ خبریں
مسلسل اشاعت کے 28 سال
Twenty eight years of publication

 Daily Urdu News USA CANADA UK

    

 Urdu Times Daily Urdu News
 
Wed, 21 May 2008 14:02:00

افتخار چوہدری کی بحالی کے بغیر کوئی آئینی پیکج قبول نہیں: عمران خان

افتخار چوہدری کی بحالی کے بغیر کوئی آئینی پیکج قبول نہیں: عمران خان


اردو ٹائمز(نیوز) تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہا ہے کہ جب تک عدلیہ آزاد اور قانون کی بالادستی قائم نہیں ہوتی اس وقت تک ملک میں امن و امان قائم نہیں ہو سکتا ملک ترقی نہیں کر سکتا ملک میں جاری خون اور تشدد کی لہر اسی وقت ختم ہو گی جب امریکی فوجیں افغانستان سے اور پاکستانی فوجیں قبائلی علاقوں سے واپس آ جائیں گی ان خیالات کا اظہار انہوں نے ڈسٹرکٹ بار ہری پور میں وکلاءسے خطاب کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ پارلیمنٹ اور حکومت کی حیثیت ربر سٹیمپ سے زیادہ نہیں ہے الیکشن میں حصہ نہ لینے کا ہمارا فیصلہ بالکل درست ہے تمام پارٹیاں ملکر بائیکاٹ کرتی تو جو کھچڑی آ ج پک رہی ہے وہ نہ پکتی۔ عدلیہ اور چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی رہائی تک تحریک انصاف وکلاءکی جدوجہد کا بھرپور ساتھ دے گی۔ حکومت کو ہم نے کھلا وقت دے رکھا ہے وہ خود ہی اپنے کئے گئے فیصلوں جیسے بھوربن ڈیکلریشن سے انحراف کرتے پھر رہے ہیں چیف جسٹس افتخار چوہدری کی بحالی کے بغیر کوئی پیکج قبول نہیں کیا جائے گا۔ عمران خان نے کہا کہ اس وقت اربوں روپے لوٹنے والے اور سنگین جرائم کے مقدمات میں مطلوب رہنے والے اقتدار میں بیٹھے ہیں اور یہ سب صدر پرویز مشرف کی مہربانی ہے عوام پوچھتے ہیں کہ یہ اختیار انہیں کس نے دیا غریب لوگ چند ہزار روپے قرض واپس نہ کرنے کی پاداش میں جیلوں میں چلے جاتے ہیں مگر دو سابق وزیراعلیٰ سمیت متعدد سیاستدان اربوں روپے قرضے معف کروا کر بھی یہاں بیٹھے ہیں اس وقت ملک میں جس کی لاٹھی اس کی بھینس والا قانون چل رہا ہے عوام آٹے، چینی، گھی اور دیگر ضروریات کی اشیائے کےلئے مر رہے ہیں جبکہ سیاست دان مزے لے رہے ہیں اس وقت گیلپ سروے کے مطابق 81 فیصد لوگوں کی خواہش ہے کہ چیف جسٹس افتخار چوہدری بحال ہوں عدلیہ آزاد ہو جبکہ 75 فیصد کے مطابق پرویز مشرف کو اب چلے جانا چاہےے اور 81 فیصد کے مطابق پی پی اور صدر کی کسی قسم کی ڈیل کی مخالفت کر دی ہے مگر موجودہ حکمران زبانی جمع خرچ اور جھوٹ پر جھوٹ بول کر عوامی رائے کو غلط قرار دینے کی کوشش کر رہے ہیں اس وقت تمام طبقات کا خیال ہے کہ چیف جسٹس کو سمپل حکم کے تحت بحال کیا جاتا ہے مگر پھر بھی حکومت آئینی پیکج لانا چاہتی ہے عدلیہ کی آزادی تین نومبر سے پہلی والی اور چیف جسٹس افتخار چوہدری کی بحالی سے کم کوئی پیکج قبول نہ ہو گا اور پی سی او کے تحت حلف اٹھاے والے ججز بھی قبول نہ ہوں گے








© 2008 All Rights Reserved. Urdu Times Group of Publications
sponsors: air purifier