|
اردو ٹائمز(نیوز)امریکی وزیر دفاع رابرٹ گیٹس نے کہا ہے کہ امریکہ گوانتانامو جیل کو بند کرنا چاہتے ہوئے بھی نہیں کر پا رہا۔ انہوں نے کہا کہ ’ہم پھنس چکے ہیں‘۔انہوں نے کہا کہ گوانتانامو میں ستر ایسے قیدی ہیں جنہیں امریکہ واپس بھیجنا چاہتا ہے لیکن ان میں سے کچھ کے ملک ان کی واپسی نہیں چاہتے یا ان پر اس معاملے میں اعتبار نہیں کیا جا سکتا۔ انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیمیں ایک عرصے سے اس جیل کو بند کرنے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ جیل عالمی قواعد و ضوابط پورے نہیں کرتی۔ رابرٹ گیٹس نے امریکی سینیٹ کی ایک کمیٹی کو بتایا کہ یہ ایک کڑوا سچ ہے کہ ’ہم پھنس چکے ہیں‘ اور یہ ہمارے لیے گھر سے دور ایک سنجیدہ مسئلہ بن گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان ستر سےاسی قیدیوں کا کیا کریں جن کی حکومتیں یا تو انہیں قبول نہیں کریں گی یا پھر امریکہ کو خدشہ ہے کہ وہ انہیں واپس جانے پر چھوڑ سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسی صورت میں کیا کیا جا سکتا ہے جب ان قیدیوں کو چھوڑا نہیں جا سکتا، ان پر مقدمہ نہیں چل رہا اور نہ ہی انہیں واپس بھیجا جا سکتا۔ پینٹاگون کا کہنا ہے کہ چھتیس ایسے لوگوں کے بارے میں، جنہیں گوانتانامو سے چھوڑا جا چکا ہے، وثوق سے یہ کہا جا سکتا ہے یا ان پر کم سے کم شک کیا جاتا ہے کہ وہ دوبارہ ’دہشت گردی‘ کی کارروائیوں میں ملوث ہو چکے ہیں۔ ڈیموکریٹک پارٹی کے سینیٹر ڈائی این فینسٹائن نے وزیر دفاع سے مخاطب ہو کر کہا کہ انہوں نے جو کچھ بھی کہا ہے اس سے دنیا کی نظروں میں امریکہ کی جو ساکھ متاثر ہوئی اس کا ازالہ نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا کہ کہا جا رہا ہے کہ ہم دوغلے ہیں، ہمارے دو قوانین ہیں، کسی کے لیے قوانین ہیں جبکہ کسی کے لیے کوئی قانون نہیں۔
|
|