اردو ٹائمز(نیوز) سندھ ہائی کورٹ نے امریکہ کے لیے پاکستان کے نامزد کردہ سفیر حسین حقانی کو ہاو¿س بلڈنگ کارپوریشن میں مبینہ بدعنوانی کے مقدمے سے بری کر دیا ہے۔ بدھ کے روز جسٹس بنیامین خان کی عدالت نے حسین حقانی کی درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے انہیں بری کر دیا۔ منگل کو سماعت مکمل کرتے ہوئے عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔ حسین حقانی پر الزام تھا کہ انہوں نے پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں بطور چئرمین ہاو¿س بلڈنگ فنانس کارپوریشن ایک کروڑ فکس ڈپازٹ کر کے ذاتی فوائد حاصل کیے تھے۔ حسین حقانی کے وکیل کا موقف تھا کہ نواز شریف کے دور حکومت میں صدیق الفاروق کے کہنے پر سیاسی مخالفت کی بنیاد پر ان کے خلاف یہ مقدمہ دائر کیا گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک کروڑ روپے ادارے کے اکاو¿نٹ میں فکسڈ ڈپازٹ کیے گئے تھے تاہم حکومت کی تبدیلی کے بعد پیسے واپس نکالنے کی وجہ سے اس پر منافع نہیں مل سکا تھا مگر اس واقعہ سے حسین حقانی کا تعلق نہیں بنتا۔ ڈپٹی اٹارنی جنرل نے بھی حسین حقانی کے وکیل کے موقف کی تائید کی اور کہا کہ وفاقی حکومت کو ان کی بریت پر کوئی اعتراض نہیں۔واضخ رہے کہ حسین حقانی پیپلز پارٹی کی حکومت کی برطرفی کے بعد امریکہ چلے گئے تھے جہاں وہ نہ صرف بوسٹن یونیورسٹی سے منسلک رہے اور امریکی تحقیقی ادارے کے ساتھ بھی کام کرتے رہے۔ حالیہ انتخابات کے نتیجے میں پیپلز پارٹی کی حکومت کے قیام کے بعد حسین حقانی واپس پاکستان آئے اور پہلے انہیں پاکستان کا گشتی سفیر مقرر کیا گیا اور بعد ازاں امریکہ کے لیے پاکستان کا سفیر نامزد کردیا گیا