اردو ٹائمز(نیوز) امریکی کانگریس کے ایک واچ ڈاگ گروپ اور کئی امریکی سینیٹرز کا کہنا ہے کہ نائن الیون کے حملوں کو سات سال گزرنے کے باوجود امریکہ کے پاس دہشتگردی کیخلاف جنگ اور پاکستان کے قبائلی علاقوں میں دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو تباہ کرنے کیلئے کوئی جامع منصوبہ نہیں ہے اور امریکہ اپنی قومی سلامتی کیلئے موثر اقدامات کرنے میں بھی ناکام رہا ہے ۔ واشنگٹن میں سینٹ کی خارجہ تعلقات کی کمیٹی کے اجلاس میں نائب وزیر خارجہ جان نیگرو پونٹے نے کمیٹی کے ارکان کو دہشتگردی کیخلاف امریکی جنگ کے بارے میں بریفنگ دی۔ اس دوران کمیٹی کے سربراہ جان کیری نے کہا کہ ابھی تک یہ واضح نہیں ہوسکا کہ ہم دہشتگردی کیخلاف جنگ میں کہاں کھڑے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک مشکل صورتحال ہے تاہم ابھی تک ہمارے پاس دہشتگردوں سے نمٹنے کیلئے کوئی جامع حکمت عملی موجود نہیں ہے۔ اجلاس میں کمیٹی کے ایک ڈیموکریٹک رکن نے دہشتگردی کیخلاف جنگ کیلئے پاکستان کو دی جانے والی امدادپر امریکی نائب وزیر خارجہ جان نیگروپونٹے کی رپورٹ کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ امریکہ مزید بلینک چیک دینے کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اب یہ واضح کرنا ہوگا کہ دہشتگردی کیخلاف جنگ کی سمت کیا ہے اور پاکستان کا کردار کہاں تک ہے اس طرح کانگریس کے ایک واچ ڈاگ گروپ نے بھی اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ امریکہ ابھی تک پاکستان کے قبائلی علاقوں میں موجود دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو ختم کرنے میں ناکام رہا ہے واچ ڈاگ گروپ کی رپورٹ میں ڈائریکٹر آف نیشنل انٹیلی جنس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ القاعدہ امریکہ پر ایک اور حملہ کرنے کیلئے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں منصوبہ بندی کررہی ہے ۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دس ارب ڈالر کی امداد کے باوجود اس معاملے میں پاکستان کی نو منتخب حکومت کی طرف سے بھی حمایت کی صورتحال یقینی نہیں ہے تاہم نیگروپونٹے کا کہنا تھا کہ امریکی حکومت پاکستان میں نئی جمہوری حکومت کو ہر ممکن امداد فراہم کریگی تاہم قبائلی علاقوں میں عسکریت پسندوں کے ساتھ مذاکرات پر امریکہ کو تشویش ہے ۔انہوں نے کہا کہ امریکی حکومت دہشتگردی کے خاتمے کیلئے پاکستان کو ضروری سہولتیں فراہم کررہی ہے اور امریکہ پاکستانی فوج کے سپیشل آپریشن یونٹ کو ٹریننگ اور سامان بھی فراہم کریگا ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور افغانستان میں دہشتگردانہ حملوں کا ایک دوسرے سے گہرا تعلق ہے ۔ جان نیگروپونٹے نے پاکستان کو لاحق خطرات کے باعث امریکہ کی جانب سے ایک جامع امدادی پالیسی کی ضرورت پر زور دیا ہے۔