|
اردو ٹائمز(نیوز) صدر پرویز مشرف نے کہا ہے کہ خطے میں امن کے قیام کیلئے تصادم کی بجائے مفاہمت کا طریقہ کار اختیار کیا جائے ،پاکستان خطے میں پائیدار امن کیلئے بھارت سمیت تمام ممالک کیساتھ دوستانہ اور مستحکم تعلقات کا خواہاں ہیں ، پاک بھارت مذاکرات کے چوتھے دور میں مسلہ کشمیر کو سر فہرست رکھا جائے جبکہ مسلم امہ کو متحد ہو کر عالم اسلام کو درپیش تمام چیلنجز کا سامنا کرنا ہوگا ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے ایران کی شوریٰ نگہبا ن کے پانچ رکنی وفد سے ملاقات اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے ملاقات کے دوران کیا ۔ ذرائع کے مطابق ملاقات کے دوران صدر پرویز مشرف نے کہاکہ پاکستان خطے میں پائیدار قیام امن کا سب سے بڑا حامی ہے اور اس سلسلے میں وہ سب کیساتھ بات کرنے کو تیار ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ خطے میں امن کے قیام کیلئے تصادم کی بجائے مفاہمت کا طریقہ کار اختیار کیا جائے تاکہ خطے کی عوام کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے تاکہ وہ بلا خوف خطر اپنی زندگی بسر کرسکیں ۔ صدر پرویز مشرف نے ملک میں مسلمانوں کی طرز زندگی میں مثبت تبدیلی کیلئے اسلامی نظریاتی کونسل اور ایران کی شوریٰ نگہبان کے درمیان روابط کے فروغ پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کو اپنی جغرافیائی ، تاریخی اور ثقافتی مشابہت کو مد نظر رکھتے ہوئے باہمی تعلقات کو مزید مستحکم کرنا چاہیے ۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلم امہ کو جن چیلنجز اور مشکلات کا سامنا ہے اسکے حل کیلئے مسلم امہ کو متحد ہو کر مقابلہ کرنا ہوگا ۔ اس موقع پر ایران کی شوریٰ نگہبا ن کے سربراہ آیت اللہ جنتی نے پاکستان میں مکمل جمہوریت کے قیام اور منصفانہ انتخابات کے انعقاد پر خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی میں مفاہمتی کوششیں خوش آئین ہے جبکہ ملک کو عدم استحکام سے دوچار کرنے والے عناصر در اصل اسلام کے دشمن ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ ایران پاکستان کیساتھ باہمی تعلقات کے فروغ کا خواہش مند ہے جبکہ انہوں نے پاکستان میں جمہوریت کو مستحکم بنانے کیلئے صدرمشرف کی مثبت سوچ کی بھی تعریف کی ۔دریں اثنا وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھی صدر پاکستان سے ملاقات کی جس میں ملک کی مجموعی صورتحال ، خارجہ پالیسی اور آج منگل سے شروع ہونیوالے پاک بھارت جامع مذاکرات کے بارے میں تفصیلی مشاورت کی گئی ۔ نجی ٹی وی کے مطابق ملاقات کے دوران شاہ محمود قریشی نے صدر پاکستان پرویز مشرف کو پاک بھارت وزراءخارجہ سطح پر ہونیوالے مذاکرات کے بارے میں اعتماد میں لیا جبکہ ملاقات میں پاک بھارت جامع مذاکرات کے سابقہ تین ادوار میں ہونیوالی پیش رفت کا جائزہ لیتے ہوئے یہ اتفاق کیا گیا کہ 21مئی سے شروع ہونیوالے پاک بھارت مذاکرات کے چوتھے دور میں مسلہ کشمیر کو سر فہرست رکھا جائے اور اس مسلے کے پر امن حل پر زیادہ زور دیا جائے ۔ ملاقات کے دوران وزیر خارجہ نے صدر مملکت کو مذاکرات کیلئے تیار کئے گئے ورکنگ پیپرز پر اعتماد میں لیا اور ان سے راہنمائی بھی حاصل کی ۔
|
|