بنگلہ دیشی حکومت نے انسداد دہشت گردی آرڈیننس کی منظوری دیدی
بنگلہ دیشی حکومت نے انسداد دہشت گردی آرڈیننس کی منظوری دیدی
اردو ٹائمز (نیوز) بنگلہ دیش کی عبوری حکومت نے انسداد دہشت گردی کے لئے نئے قانون کی منظوری دی ہے جس میں دہشت گردی کی سرگرمیوں میں ملوث عناصر کو زیادہ سے زیادہ سزا دی جائے گی چیف ایڈ منسٹر ہیڈ فخر الدین احمد کی زیر صدارت کابینہ کی ایڈوائزری کونسل کا اجلاس منعقد ہوا جس میں انسداد دہشت گردی کے نئے آرڈیننس کی منظوری دیدی گئی اس نئے قانون کے تحت خصوصی عدالتوں میں دہشت گردوں کے مقدمات کو جلد نمٹانے کے علاوہ انہیں تین سے بیس سال تک کی قید دی جا سکے گی اس سے قبل بیگم خالدہ ضیاءحکومت نے بھی انسداد دہشت گردی کے لئے قانون سازی کے لئے مسودہ تیار کر لیا تھا تاہم انہیں منظور کرانے کی مہلت نہ ملی ۔ نئے آرڈیننس میں دہشت گردی کے اقدام کی تعریف کی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ایسا کوئی بھی اقدام جو ملکی سالمیت ،خود مختاری اور سلامتی کے لئے خطرہ ہو یا اس سے عام عوام کو تکلیف پہنچے یا حکومت سرگرمیوں میں رکاوٹ ، بم ڈائنا مائیٹ یا دیگر دھماکہ خیز مواد کا استعمال ، اگر کسی بھی کیمیکل سے کسی کو زخمی یا قتل کرنا ، سرکاری یا غیر سرکاری عمارات کو نقصان پہنچانا ، کسی کو اغواءکر لینا، کسی کو قتل کی دھمکیاں دینا ، فزیکل حملہ آور ہو گا عام عوام کو ڈرانا دھمکانا، نقصان پہنچانا جیسے اقدامات دہشت گردی ایکٹ کے ذمرے میں آئیں گے اور ا ن اقدامات کو کرنے والا یا ایسے کسی بھی شخص یا گروہ کی مالی معاونت کرنے والا چاہیے وہ ملکی ہو یا غیر ملکی اس پر دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ چلایا جائے گا۔