|
اردو ٹائمز (نیوز) لاہور کی ایک عدالت نے پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چئرمین آصف علی زرداری کو منشیات کے کاروبار میں ملوث ہونے کے مقدمے سے بری کر دیا ہے۔آصف زرداری کے وکیل سینیٹر سردار لطیف کھوسہ نے فیصلے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ آصف علی زرداری کے خلاف یہ مقدمہ سیاسی عناد کا نیتجہ تھا اور عدالت میں پیش کی گئی شہادتوں کی بنا پر استغاثہ آصف زرداری کے خلاف الزامات ثابت کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہا۔ انہوں نے بتایا کہ کسی گواہ نے آصف زرداری کے خلاف بیان نہیں دیا اور عدالت نے آصف زرداری کے علاوہ مقدمے کے دیگر ملزم عارف بلوچ کو بھی بری کر دیا ہے۔ خیال رہے کہ آصف علی زرداری کے خلاف یہ آخری مقدمہ تھا جو اب تک عدالت میں زیر سماعت تھا۔ جب کہ آصف زرداری کے خلاف دیگر تمام مقدمات قومی مفامتی آرڈیننس کے تحت حال ہی میں ختم ہو چکے ہیں۔ وکیل صفائی نے عدالت کو بتایا کہ سابق وزیراعظم چودھری شجاعت حسین نے بھی اپنے بیان میں یہ کہا تھا کہ آصف علی زرداری کے خلاف درج مقدمہ بے بیناد ہے۔ سرکاری وکیل آذر لطیف خان نے بریت کی درخواست کی مخالفت نہیں کی اور کہا کہ کوئی ایسا مواد یا شہادت نہیں ہے جس سے آصف زرداری پر عائد الزام ثابت ہو سکے۔انہوں نے کہا کہ اِنہیں قانونی طور پر آصف کی بریت پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ اس سے قبل سردار لطیف کھوسہ نے آصف علی زرداری کی بریت کی درخواست پر دلائل دیتے ہوئے کہا کہ یہ مقدمہ سیاسی بنیادوں پر انتقامی کاروائی پر قائم کیا گیا تھااور لگائے گئے الزامات ثابت نہیں ہوئے لہذا ا±نہیں بری کیا جائے۔ وکیل نے مزید کہا کہ آصف علی زرداری کے خلاف مقدمہ میں کوئی برآمدگی نہیں ہوئی اور ایک معمولی چوری کے زیر حراست ملزم کے بیان کو ایف آئی آر میں تبدیل کیا گیا ہے۔سردار لطیف کھوسہ نے دلائل میں کہا تھا کہ مقدمہ کے تفتیشی افسر عاشق مارتھ نے بھی اپنے بیان میں یہ کہا تھا کہ یہ مقدمہ دباو¿ کے تحت درج کیا گیا تھا۔ آصف علی زرداری کے خلاف یہ مقدمہ نواز شریف کے دورِ حکومت میں اکتوبر1997میں ایک زیر حراست ملزم عارف بلوچ کے بیان کی روشنی میں درج کیا گیا تھا۔مقدمے میں الزام لگایا گیا تھا کہ آصف علی زرداری منشیات کے کاروبار میں ملوث ہیں۔ اس مقدمے کے دیگر ملزم عارف بلوچ اور شورنگ خان تھے جن میں سے شورنگ خان کا چند سال قبل انتقال ہو چکا ہے۔ آصف زرداری کے خلاف منشیات کیس کے تفتیشی افسر عاشق مارتھ بھی گزشتہ ہفتے کو ذاتی دشمنی کی وجہ سے قتل کر دیے گئے تھے۔
|
|