اردو ٹائمز- اردو کی تازہ خبریں
مسلسل اشاعت کے 28 سال
Twenty eight years of publication

 Daily Urdu News USA CANADA UK

    

 Urdu Times Daily Urdu News
 
Mon, 12 May 2008 15:29:00

لندن میں چرڈ باوچر سے ملاقات امریکی نائب وزیر خارجہ درخواست پر ہوئی تھی: نواز شریف

لندن میں چرڈ باوچر سے ملاقات امریکی نائب وزیر خارجہ درخواست پر ہوئی تھی: نواز شریف

اردو ٹائمز(نیوز) مسلم لیگ(ن)کے قائد اور سابق وزیراعظم میاں نوازشریف نے کہا ہے کہ لندن میں امریکی نائب وزیرخارجہ رچرڈ باوچر سے ان کی ملاقات امریکی نائب وزیر خارجہ درخواست پر ہوئی تھی جس کے لیے امریکی نائب وزیرخارجہ نے ہی مجھ سے وقت مانگا تھا‘مگر بات چیت کا مطلب یہ نہیں کہ ہم امریکہ سے پوچھ کر اپنے فیصلے کریں گے، وہ بھی میرا مزاج سمجھتے ہیں اور جانتے ہیں کہ نوا زشریف پاکستان کی حمیت، خود مختاری ، توقیر اور عزت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرتا ملاقات میں مشورہ نہیں محض بات چیت ہوئی، نہ ہم نے کوئی مشورہ مانگا اور نہ انہوں نے کوئی مشورہ دیا‘ کیا ہی اچھا ہوتا کہ جس مقصد کے لیے اتحاد بنا تھا اس مقصد کو ہم حاصل کرتے کسی منفی مقصد کو حاصل کرنے کے لیے ہم نے اتحاد نہیں بنانا تھا‘ اتحاد اس دن بنا تھا جب ہم نے میثاق جمہوریت پر دستخط کیے تھے‘وہ ایک بہت اچھی دستاویز تھی اب اس کو عملی جامہ پہنانے کا موقع آیا ہے تو ہمیں مصلحتوں کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنے ایک انٹرویو میں کیا ‘میاں نوازشریف نے کہا کہ دبئی میں مذکرات میںمجھے اس بات کا اختیار دیا تھا کہ میں دونوں فریقین کی طرف سے جا کر پریس کانفرنس کے ذریعے تاریخ کا اعلان کر دوں کہ بارہ مئی کو ہم ججوں کو ایک قرارداد کے ذریعے بحال کریں گے‘ میں نے مذکرات مکمل ہونے کے بعد بارہ تاریخ کا اعلان کیا لہذا ہم بارہ تاریخ کے پابند تھے اورآصف زرداری بھی پابند تھے، اس سے پہلے ہم تیس اپریل کے پابند تھے، کیونکہ مری ڈکلیریشن میں تیس دنوں میںججوں کی بحالی کا خاص ذکر ہے، تو اس کے بعد وہ التواءمیں پڑا اور اب بارہ مئی بھی کچھ کنفیوژن ہے، ہماری جو میٹنگ ہوئی ہے وہ بے نتیجہ رہی ہے‘ہم تو پاکستان کو خودمختار، آزاد ریاست سمجھتے ہیں ہم اپنے فیصلے خود کرنے کے عادی ہیں، خود کرنے والے لوگ ہیں، باہر سے فیصلے نہیں لیتے انہوں نے کہا کہ مشرف نے غیر قاونی طور پر ، جس کا انہوں نے خود اعتراف کیا ہے کہ میں تین نومبر کو سارے کام غیر قانونی کیے ہیں‘ مشرف نے غیر قانونی طور پر ججوں کو باہر نکال دیا اور ہم نہ جانے کون سے قانون کی تلاش میں ہیں ان کو بحال کرنے کے لیے‘لہذا ہمیں غیر قانونی کام کو سیدھا کرنا ہے، اور غیر قانونی کام کو سیدھا کرنا چاہیے عوام نے اٹھارہ فروری کو جو فیصلہ دیا ہے اس کی رو سے یہ تبدیلی کا مینڈیٹ ہے عوام ججوں کو بحال ہوتے دیکھنا چاہتے ہیں وہ مشرف کو صدر نہیں دیکھنا چاہتے وہ اپنے مسائل کا حل چاہتے ہیںیہ مینڈیٹ دیا ہے انہوں نے پیپلز پارٹی کو اور ہمیں بھی یہ تینوں کام ایک ساتھ منسلک ہیں، یہ نہیں ہو سکتا کہ آپ ایک کو چھوڑیں اور دوسرے کو پکڑ لیں اس وقت جو سب سے پہلا کام کرنے والا ہے اور لوگوں کی بیروز گاری ، مہنگائی، غربت کے خاتمے کی ہے، بجلی کا بہت بڑا بحران ہے جو ان چند دنوں کا نہیں ہے، یہ پچھلے آٹھ سالوں کا پیدا کردہ ہے ، لیکن اس کا بہت قریبی تعلق ہے معاشرے کے انصاف سے، معاشرے میں انصاف نہیں ہوگا، کہاں سے روٹی ملے گی، کہاں سے غربت، بیروز گاری ختم ہو گئی ، کہاں سے گڈ گورننس آئے گی، میرٹ کی حکمرانی کہاں سے آئے گی ان سب چیزوں کے لیے آزاد عدلیہ کی ضرورت ہے آزاد عدلیہ کھڑی ہوئی ہے اس نے آمر کے آگے جھکنے سے انکار کیا ہے اب اس عدلیہ کا احترام کرتے ہوئے ہمیں اسے بحال کرنا چاہیے کچھ کام ہوتے ہیں پہلے دس دن میں کرنے کے ، کچھ کام ہوتے ہیں پہلے تیس دن میں کانے کے، کسی کام کے لیے مواقع ہمیشہ نہیں رہتے لہذا میں سمجھتا ہوں کہ اس وقت پوری قوم کی نگاہیں لگی ہوئی ہیں اس کے بعد قوم کا باقی ایجنڈا پورے اطمینان کے ساتھ لے کر آگے بڑھیں باقی معاملات کو پہلے آگے بڑھانے سے قوم کے اندر تشنگی باقی رہے گی بے چینی رہے گی ، یہ ملک کے لیے اچھا نہیں ہے ہماری پوری کوشش ہے کہ اتحاد باقی رہے، اتحاد ٹوٹنے کے بھی کافی نقصانات ہیں لیکن عدلیہ کے بحال نہ ہونے کے نقصان اس سے کہیں زیادہ ہیں اس سے بہت زیاد ہیں غلام قسم کی عدلیہ کے نقصانات کا اندازہ لگائیں آپ، اس کا تو پاکستان کی زندگی ، شہ رگ کے ساتھ تعلق ہے یہ اتحاد اگر کسی وجہ ٹوٹ بھی جاتا تو بدنصیبی ہو گی لیکن کوئی بات نہیں، پھر بن جائیں گے ہمارا پیپلز پارٹی کے ساتھ ایک معاہدہ ہے، اعلان مری موجود ہے جو بھوربن میں دستخط ہوا ہے‘اس معاہدے کی رو سے وہ اور ہم مل کر قرارداد کے ذریعے ججوں کی بحالی کے پابند ہیں تیس دنوں کے اندر اندر پابند ہیں اور اسی پوزیشن پر کرنے کے پابند ہیں ، جو دو نومبر دو ہزار سات کو موجود تھی اس معاہدے کی بھی تو ایک اہمیت ہے اس معاہدے میں کسی پیکج کا ذکر نہیں ہے اس میں صاف ستھرا، ججوں کی بحالی کا ذکر ہے اور قرارداد کے ذریعے ذکر ہے قوم کے سامنے میں نے اور آصف زرداری نے دستخط کیے قوم کے سامنے ہمارا یہ عہد ہے یہ تو پھر بدنیتی ہے اگرعہد کو پورا نہ کیا جائے اس بدنیتی کو تو ہم نہیں پسند کرتے ہم تو انتخابات اور اقتدار کی نہیں پاکستان کی بات کر رہے ہیں ہم تو زرداری کے اصرار پر ان کے ساتھ اقتدار میں شریک ہوئے تھے ہم نے تو یہ کڑوی گولی اسی لیے کھائی کہ جج بحال ہو جائیںگے‘انہوں نے کہا کہ ہم اسی اور نوے کی دہائی کی سیاست نہیں کرینگے ہم اختلاف بھی کریں گے تو تہذیب کے دائرے میں رہ کر اصولوں کو سامنے رکھتے ہوئے‘ میری رائے سے پہلے آپ اٹھاری فروری کے انتخابات کا نتیجہ دیکھ لیںقوم نے تو ان کے خلاف فیصلہ دیا ہے اور بہت ہی مضبوط فیصلہ دیا ہے مشرف نے بھی کہا تھا کہ قوم جب نہیں چاہے گی تو نہیں رہوںگا تو قوم نے جب فیصلہ دے دیا تو ابھی تک کیوں بیٹھے ہوئے ہیں۔







  کھیل

 تازہ ترین

 اہم ترین

© 2008 All Rights Reserved. Urdu Times Group of Publications