|
اردو ٹائمز(نیوز) دولت مشترکہ ویمن پارلیمنٹرین کی چیئرپرسن کشمالہ طارق نے دولت مشترکہ میں پاکستان کی رکنیت بحال ہونے کے فیصلہ کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کاکریڈٹ صدرپرویزمشرف کوجاتا ہے۔آن لائن سے بات چیت کرتے ہوئے انہوںنے کہاکہ موجودہ حکومت کایہ دعویٰ بالکل غلط ہے کہ ان کے اقدامات کی وجہ سے دولت مشترکہ میں پاکستان کی رکنیت بحال ہوئی ہے۔ انہوںنے کہاکہ دولت مشترکہ نے پاکستان میں ایمرجنسی کے نفاذ پر پاکستان کی رکنیت معطل کردی تھی اور صدر پرویزمشرف نے ملک میں ایمرجنسی کا نفاذ ¾ پرامن اورشفاف انتخابات کاانعقادکرکے دولت مشترکہ میں پاکستان کی رکنیت کی بحالی سے متعلق شرائط کو پوراکردیا۔انہوںنے کہاکہ پاکستان کی ر کنیت بحال کرنے کے متعلق دولت مشترکہ کا یہ کوئی خصوصی اجلاس نہیں تھا بلکہ دولت مشترکہ کے ہرسال دو اجلاس ہوا کرتے ہیں اوردسمبر میں ہی دولت مشترکہ کے اس اجلاس کی تاریخ طے ہوگئی تھی۔جس میں دولت مشترکہ نے پاکستان کی ر کنیت بحال کردی ہے۔ کشمالہ طارق نے کہا کہ دولت مشترکہ کے 21سے 26اپریل تک ہونے والے مڈایئر اجلاس میں انہیں مشاورت کے لئے بلایاتھا جس میں انہوںنے پاکستان کی رکنیت بحال کرنے سے متعلق وہ تمام شرائط پیش کردی جنہیں صدرپرویزمشرف نے پورا کیاتھا۔انہوںنے کہاکہ جب سے صدرپرویزمشرف نے ملک میں ایمرجنسی ختم کرنے کااعلان کیاتھا اوراس کے بعد ملک میں شفاف اور غیرجانبدار انتخابات کرائے تو دولت مشترکہ نے پاکستان کے ان اقدامات کی وجہ سے پاکستان کی رکنیت بحال کرنے کاعندیا دیاتھا۔ کشمالہ طارق نے کہاکہ دولت مشترکہ میں پاکستان کی رکنیت کی بحالی صدرپرویزمشرف کے اقدامات کی وجہ سے عمل میں آئی ہے اوراس میں موجودہ حکومت کا کوئی کردارنہیں ہے۔ واضح رہے کہ کشمالہ طارق گزشتہ سال اگست میں دولت مشترکہ وویمن پارلیمنٹرین کی چیئرپرسن منتخب ہوئی تھی اورانہوںنے اسی عہدے کی وجہ سے دولت مشترکہ مڈ ایئر اجلاس میں شرکت کی تھی
|
|