ججز بحال نہ ہوئے تو یہی سمجھا جائے گا کہ ایک آمر نے جو اقدام کیا تھا اسے ختم نہیں کیا جاسکتا: اعتزاز احسن
ججز بحال نہ ہوئے تو یہی سمجھا جائے گا کہ ایک آمر نے جو اقدام کیا تھا اسے ختم نہیں کیا جاسکتا: اعتزاز احسن
اردو ٹائمز(نیوز) سپریم کورٹ بار کے صدر وکلاءتحریک کے رہنماءبیرسٹراعتزاز احسن نے ججز کی بحالی کے حوالے سے سپریم کورٹ تقسیم کرنے کی تجویز مسترد کردی ہے نجی ٹی وی کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے بیرسٹر اعتزاز احسن نے کہا کہ ججز کی بحالی کا راستہ صرف آئینی اور قانونی ہے اور مائنس ون حل ہے جسٹس افتخار محمد چوہدری کی بحالی کے بغیر کام نہیں چلتا انہوں نے کہا کہ مائنس ون فارمولا مان لیتے تو لوگ ان کا نام بھی ملک قیوم اور شریف الدین پیرزادہ رکھ دیتے اعتزاز نے کہا کہ ججز کی بحالی کیلئے وہ پارٹی قیادت کو قائل کرنے کی کوشش کررہے ہیں اور آئندہ بھی کرتے رہیں گے انہوں نے کہا کہ فرد واحد ججز کو معزول کر سکتا ہے تو بحالی کیلئے دو تہائی اکثریت کی کیا منطق ہے۔ صدر سپریم کورٹ بار نے کہا کہ ججز بحال نہ ہوتے تو سمجھا جائے گا کہ ایک آمر نے جو اقدام کیا اسے ختم نہیں کیا جاسکتا انہوں نے کہا کہ حفیظ پیرزادہ سے اختلاف اس بات پر ہے کہ وہ 3 نومبر کے اقدام کو ماحورائے آئین سمجھتے ہیں اور میں اس کارروائی کو آئین کی کھلی خلاف ورزی سمھجتا ہوں اعتزاز احسن نے کہا کہ ججز کی بحالی خود پیپلزپارٹی کے مفاد میں ہے ججز کی بحالی کیلئے ان کا موقف بالکل واضح ہے اور اس موقف سے الگ نہیں ہوسکتا ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ ضمنی انتخابات میں آکر پیپلزپارٹی ٹکٹ جاری نہ کرتی تو آزاد حیثیت سے انتخابات میں حصہ لینے کا کوئی پروگرام نہیں تھا۔