مشرف حکومت کشمیر پر فیصلہ کر چکی تھی‘ چیف جسٹس کا بحران پیدا نہ ہوتا تو دستخط بھی ہوچکے ہوتے: بیرسٹر سلطان چوہدری
مشرف حکومت کشمیر پر فیصلہ کر چکی تھی‘ چیف جسٹس کا بحران پیدا نہ ہوتا تو دستخط بھی ہوچکے ہوتے: بیرسٹر سلطان چوہدری
اردو ٹائمز(نیوز) آزاد کشمیر کے سابق وزیراعظم و جموں و کشمیر پی ایم ایل کے صدر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے کہا ہے کہ مشرف حکومت کشمیر پر فیصلہ کر چکی تھی اور اگر چیف جسٹس کا بحران پیدا نہ ہوتا تو دستخط بھی ہوچکے ہوتے اور فیصلہ یہ تھا کہ لائن آف کنٹرول کو مستقبل بارڈر بنایا جائے نئی حکومت سے ہمیں بڑی توقعات تھیں لیکن بعض حکومتی ذمہ داران کی طرف سے ایسے بیانات آئے ہیں جس سے مشرف حکومت کی تقسیم کشمیر والی پالیسی جاری رکھنے کے اشارے مل رہے ہیں تاہم ہم یہ واضح کردینا چاہتے ہیں کہ کشمیری کسی صورت تقسیم کشمیر کو تسلیم نہیں کریں گے ان خیالات کا اظہار انہوں نے بعض سفارتی اور سیاسی شخصیات کو اپنی ملاقاتوں میں بریفنگ دیتے ہوئے کیا۔ بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے کہا کہ حکومت کے اپنے بیرونی آقاﺅں کے اشاروں پر تقسیم کشمیر کی پالیسی کو بھانپتے ہوئے ہم نے مسئلہ کشمیر کو از خود اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے اور اس سلسلے میں پچھلے ماہ برطانیہ‘ فرانس ‘ بیلجیم ‘ سویڈن اور ناروے کا دورہ کیا تھا اور اس ماہ پھر بیرونی دورے پر جارہا ہوں اور میں بین الاقوامی دنیا کو دو ٹوک الفاط میں بتا رہا ہوں کہ پاکستان اور بھارت ایک نہیں ایک سو ایک معاہدے کرلیں ہمارے لئے قابل قبول نہیں کیونکہ مسئلہ کشمیر کے اصل فریق کشمیری عوام ہیں اور جب تک کشمیری عوام اس بات چیت میں شامل نہیں ہوں گے اس وقت تک ہمارے لئے کوئی فیصلہ قابل قبول نہیں ہوگا بھارت اور پاکستان نمبر دو اور نمبر تین فریق تو ہوسکتے ہیں لیکن اس مسئلے کے نمبر ایک فریق کشمیری عوام ہیں کیونکہ کشمیریوں کے ہی مستقبل کا فیصلہ ہونا ہے اور ریاست جموں و کشمیر‘ کشمیریوں کی ہے اور بیرونی اشاروں پر پاکستان اور بھارت کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ وہ اپنے مفادات میں کشمیریوں کا سودا کریں بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے کہا کہ میں پہلے سے کہہ رہا ہوں لیکن اب حالات واقعات اور حقیقتوں نے ثابت کردیا ہے کہ میری بات درست تھی کہ تقسیم کشمیر کی پالیسی کو آگے بڑھانا اور اس پر ضرب کاری لگانے کے لئے ہی آزاد کشمیر میں ایک بڑے پیمانے پر دھاندلی کرکے عتیق حکومت کو مسلط کیا گیا جو کہ نہ صرف دونوں ہاتھو ں سے کرپشن اور لوٹ مار کی پالیسی پر گامزن ہے بلکہ تقسیم کشمیر کی بھی راہ ہموار کررہی ہے اور آج یہاں آزادی کے بیس کیمپ کی حکومت کا پہلا اور آخری مقصد مسئلہ کشمیر کو اٹھانا ہونا چاہیے تھا لیکن باپ بیٹا اور اس کے حواری بیرون ملک دورے کرکے کروڑوں روپے ہڑپ کر چکے ہیں اور میں اور میرے ساتھی اپوزیشن میں ہوتے ہوئے اپنے اخراجات پر مسئلہ کشمیر پوری شد و مد سے اور جارحانہ انداز میں بین الاقوامی فورم پر اٹھا رہے ہیں اور میں نے دنیا پر یہ باور کرایا ہے۔