اردو ٹائمز(نیوز) ایران نے کہا ہے کہ وہ امریکہ کے ساتھ عراق کے معاملے پر مذاکرات دوبارہ شروع کرنے پر غور کررہا ہے جبکہ ایٹمی بحران پر اقوام متحدہ سے مذاکرات کا عمل آئندہ ہفتے شروع کیا جائے گا غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان محمد الحسینی نے گزشتہ روز ایک پریس بریفنگ میں کہا کہ اگر ان کی شرائط مان لی جائیں تو امریکہ کے ساتھ عراق کی سکیورٹی کے حوالے سے مذاکرات کرسکتے ہیں ترجمان نے مزید کہا کہ ان مذاکرات کا مقصد امریکہ کے ساتھ تعلقات میں بہتری پیدا کرنا نہیں بلکہ عراق میں مقتدیٰ الصدر کے حامیوں اور امریکی فوج کے درمیان عام شہریوں کی ہلاکت کے معاملات پر بات چیت کرنا ہے واضح رہے کہ اس سے قبل بھی ایران اور امریکہ کے درمیان بغداد میں تین مذاکرات ہوچکے ہیں جو ناکام رہے ہیں دونوں ممالک نے تعطل شدہ مذاکرات فروری میں شروع کرنے کا اعلان کیا تھا جو ملتوی ہوگئے تھے امریکہ کا الزام ہے کہ ایران عراق میں عسکریت پسندوں کی حمایت کرتا ہے ایران کے اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے ک وہ عراق میں محض قیام امن کا خواہاں ہے دریں اثناء ترجمان وزارت خارجہ نے مزید کہا کہ وہ ایٹمی بحران پر اقوام متحدہ سے مذاکرات آئندہ ہفتے پھر شروع کرے گا انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل اور یورپی یونین کی جانب سے تہران کو ابھی تک یورینیم کی افزودگی کے حوالے سے کوئی اشارہ نہیں ملا اور نہع ہی ہم کسی مغربی دباﺅ اور شرائط کو تسلیم کرتے ہیں