معزول ججز کی بحالی کے لئے 12 مئی کو قومی اسمبلی کا اجلاس کال ہوتا ہوا نظر نہیں آ رہا :وزیرقانون
معزول ججز کی بحالی کے لئے 12 مئی کو قومی اسمبلی کا اجلاس کال ہوتا ہوا نظر نہیں آ رہا :وزیرقانون
اردو ٹائمز (نیوز) وفاقی وزیر قانون و پارلیمانی امور فاروق ایچ نائیک نے کہا ہے کہ آئینی کمیٹی کے اختلافات کے باعث معزول ججز کی بحالی کے لئے 12 مئی کو قومی اسمبلی کااجلاس کال ہوتا ہوا نظر نہیں آ رہا تاہم پارٹی قیادت نے گرین سگنل دیا تو اجلاس طلب کرنے کے لئے سمری فوراً بھجوا دی جائے گی‘ اعتزاز احسن کے بعد امید ہے کہ عبدالحفیظ پیرزادہ بھی اپنی رائے دے دیںگے‘ تمام ججز سب کو قبول ہوئے تو ججز کی تعداد پر غور کیا جائے گا‘ ججز کی بحالی کا معاملہ آئینی کمیٹی سے نکل کر اب پارٹی قائدین کے پاس چلا گیا ہے جبکہ صدر پاکستان سے پوچھا جائے کہ وہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کیوں نہیں کر رہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو پارلیمنٹ ہا¶س میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ آئین کے اندر پارلیمنٹ کا مطلب سینٹ اور قومی اسمبلی ہے جبکہ آئین کے نیچے صرف صدر پاکستان کے پاس پاور ہے کہ وہ جوائنٹ سیشن کال کرے جبکہ انہیں وزیراعظم کی ایڈوائس پر یہ اجلاس بلانا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ معزول ججز کو قانون و آئین کے مطابق بحال کیا جائے گا اور اس کا طریقہ کار طے کرنے کے لئے حکمران اتحاد کی جانب سے قائم ہونے والی آئینی کمیٹی میں اختلافات کے باعث طے نہیں ہو سکے اور اس حوالے سے دومختلف تجاویز سامنے آئی ہیں جو پارٹی قائدین کے سامنے پیش کر دی جائیںگی جس کے بعد جو بھی فیصلہ ہو گا اس کے مطابق ججز کی بحالی کی قرارداد پر عملدرآمد کیا جائے گا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بڑے سیاسی اتحاد پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلزپارٹی کے قائدین کی مشاورت اور منظوری کے بعد ہی معزول ججز کی بحالی کے لئے آئینی کمیٹی بنائی گئی تھی۔ اب سارا مسئلہ کمیٹی سے نکل کر پارٹی قائدین کے پاس چلا گیا ہے جو معزول ججز کی بحالی کے حوالے سے قرارداد کو حتمی شکل دیںگے۔ ان کا کہنا تھا کہ معزول ججز کی بحالی کی قرارداد کے حوالے سے تمام چیزیں مکمل نہیں ہو سکیں اور تمام تحفظات ختم نہیں کئے جا سکے جس کے بعد 12 مئی کو قومی اسمبلی کا سیشن کال ہوتا ہوا نظر نہیں آ رہا تاہم اگر دونوں سیاسی قائدین نے گرین سگنل یا کلیئرنس دی تو ہم قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کرنے کے لئے سمری فوراً بھیج دیںگے۔ فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ اعتزاز احسن نے اپنی رائے تحریری صورت میں آئینی کمیٹی کو دے دی ہے اور امید ہے کہ آئینی کمیٹی کے دوسرے اہم رکن عبدالحفیظ پیرزادہ بھی اپنی رائے کمیٹی کو دے دیںگے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ آئین میں درج ہے کہ ہر پارلیمنٹری سیشن سے قبل صدر پاکستان خطاب کرتے ہیں اور اس کا فیصلہ نہ تو وزارت قانون اور نہ ہی وزیراعظم کر سکتے ہیں تاہم یہ فیصلہ خود صدر پاکستان نے کرنا ہوتا ہے کہ وہ پارلیمنٹری سیشن سے کب خطاب کریںگے۔ انہوں نے مزید کہا کہ صدر مملکت اس آئینی اقدام کو نظرانداز کیوں کر رہے ہیں اور ان سے پوچھا جائے کہ وہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کیوں نہیں کر رہے؟ انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم سے ہونے والی ملاقات میں انہوں نے کچھ چیزوں کی نشاندہی کرائی ہے اور ان کی خواہش ہے کہ ملک میں جلد از جلد صوبائی خودمختاری آ جائے اس لئے وہ چاہتے ہیں کہ آئین کے اندر تبدیلی کی جائے اور چھوٹے صوبوں کی دل آزاری کو بند کیا جائے۔ وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ اگر تمام ججز سب کو قبول ہوئے تو ججز کی تعداد پر غور کیا جائے گا اور سپریم کورٹ کے ایکٹ میں بل کے ذریعے ترمیم کرنی پڑے گی جو پارلیمنٹ میں پیش کی جائے گی یا پھر ججز کی تعداد پر غور کے لئے آئین کے آرٹیکل 89 کے تحت آرڈیننس لانا پڑے گا جو صدر مملکت کے ذریعے لایا جا سکتا ہے۔ تاہم ابھی اس حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا کہ کون سا راستہ اختیار کیا جائے گا۔