لبنان حکومت اور حزب اللہ کے حامیوں کے درمیان جھڑپوں میں 10افراد ہلاک‘ متعدد زخمی
لبنان حکومت اور حزب اللہ کے حامیوں کے درمیان جھڑپوں میں 10افراد ہلاک‘ متعدد زخمی
اردو ٹائمز (نیوز)) لبنان کے دارالحکومت بیروت میں حکومت اور حزب اللہ کے حامیوں کے درمیان جھڑپوں کے دوران کم از کم 11 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں حزب اللہ نے دارالحکومت کے بڑے حصوں پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے جس کے بعد حکمران جماعت سے حزب اللہ کو مذاکرات کی دعوت دیدی ہے۔ دوسری جانب اقوام متحدہ اور امریکہ نے لبنان کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اپوزیشن سے کارروائیاں بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ عالمی ذرائع ابلاغ کی رپورٹ کے مطابق لبنان میں یہ جھڑپیں ایسے وقت شروع ہوئی ہیں۔ حزب اللہ کے سربراہ حسن نفر اللہ نے حکومت کے حالیہ اقدامات کو یہ کہتے ہوئے اعلان جنگ قرار دیا ہے کہ حزب اللہ کے اثر و رسوخ کو کمزور کرنا چاہتی ہے۔ حسن نصر اللہ کی جانب سے گولی کا جواب گولی سے دینے سے متعلق بیان کے بعد بیروت کے مختلف علاقوں میں حزب اللہ اور حکومت کے حامی گروپوں میں جھڑپوں کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا جو دیگر کئی علاقوں تک پھیل گیا۔ بیروت کے علاقے اس النبع میں جھڑپوں کے بعد لوگوں نے نقل مکانی شروع کر دی ہے جبکہ جھڑپوں کا دائرہ بیروت کے وسطی علاقوں تک بھی پھیل چکا ہے۔ جھڑپوں میں 10 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو چکے ہیں۔ ادھر بیروت میں پریس کانفرنس کے دوران حکمران جماعت کے سربراہ سعد الحریری نے کہا کہ مسلح گروہوں نے عملاً بیروت کا محاصرہ کر لیا ہے۔ ملک کی سالمیت اور وحدت کو خطرات لاحق ہیں۔ انہوں نے جھڑپوں کے خاتمے کے لئے حسن نصر اللہ کو چار تجاویز پیش کیں۔ سعد الحریری نے کہا کہ ملک میں اسلحے کی نمائش پر پابندی عائد کر دی جائے بند شاہراہیں کھول دی جائیں۔ بیروت ایئرپورٹ کا محاصرہ ختم کر دیا جائے اور حکومت کے متنازعہ فیصلوں کو فوج کے ذریعے حل کرایا جائے۔ انہوں نے حسن نصر اللہ کا یہ الزام مسترد کر دیا کہ حزب اللہ کے خلاف حکومتی فیصلے اسرائیل کو خوش کرنے کے لئے کئے گئے تھے۔ ادھر بیروت میں ہونے والی خونی لڑائی کو ٹیلی ویژن پر دکھایا گیا ہے۔ لبنان میں جاری لڑائی تیسرے روز میں داخل ہو گئی ہے۔ سیکورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ حزب اللہ نے بیروت کے بڑے مرکزی حصوں پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ شہر بیروت کے مرکزی اور جنوبی حصوں پر مسلح افراد رائفل اور راکٹ سے چلنے والے بم داغ رہے ہیں۔ عینی شاہدین کے مطابق شہر میں دھماکوں کے بعد دھوئیں کے کالے بادل اٹھتے دکھائی دے رہے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں ایک خاتون اور اس کا بیٹا شامل ہے۔ دوسری جانب وائٹ ہا¶س سے حزب اللہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ جارحانہ اقدام ترک کر دے‘ وائٹ ہا¶س کے ترجمان گورڈن جوھنڈرو نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حزب اللہ کو دو میں سے کسی ایک چوائس کا انتخاب کرنا ہو گا کہ وہ دہشت گرد تنظیم بننا چاہتی ہے یا سیاسی جماعت کے طور پر خود کو منوانا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حزب اللہ کو تعمیری کردار ادا کرنا چاہئے۔ ادھر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بین کی مون نے بھی لبنان میں اپوزیشن پر زور دیا ہے کہ وہ سڑکیں بلاک کرنا اور ایئرپورٹ کو بند کرنے کا سلسلہ چھوڑ دے۔ اقوام متحدہ کے نمائندے روئیڈ لارسن نے نیویارک میں سلامتی کونسل کو بریفنگ کے دوران بتایا ہے کہ سیکرٹری جنرل بین کی مون نے لبنان میں صورتحال مزید خراب ہونے پر گہری تشویش ظاہر کی ہے۔ دریں اثناءحزب اللہ کے سربراہ حسن نصر اللہ سے بیروت میں ایک ویڈیو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایک بار پھر الزام عائد کیا ہے کہ مغرب نواز لبنانی حکومت حزب اللہ کو غیرمسلح کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ ان کی تنظیم اپنے دفاع کے لئے ہتھیار استعمال کرنے سے بھی گریز نہیں کرے گی۔ انہوں نے جنگ بندی کرنے کی کسی بھی حکومتی پیشکش کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کی طرف سے جاری تشدد کی کارروائیاں امریکا اور اسرائیل کے کہنے پر شروع کی گئی ہیں۔ حسن نصر اللہ نے کہا کہ جس نے بھی مزاحمت دبانے کی کوشش کی وہ ہاتھ کاٹ دیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ جنہوں نے ہمارے حقوق اور اسلحہ کے خلاف جنگ شروع کی ہے ان کا مقابلہ کرنا ہمارا حق ہے حسن نصر اللہ نے کہا کہ حزب اللہ حکومت سے بات چیت کے لئے تیار ہے مگر اس کے لئے حکومت کو ان کی جماعت کے خلاف کارروائیوں کو بند کرنا ہو گا۔ ادھر امریکا کے قومی سلامتی کونسل کے ترجمان کا کہنا ہے کہ حزب اللہ کو سیاسی تنظیم یادداشت تنظیم میں سے کوئی ایک راستہ اختیار کرنا ہو گا مگر دونوں طرز پر چلنے کو ختم کرنا ہو گا۔