|
اردو ٹائمز (نیوز)اراکین سینٹ نے حکومت سے کہا ہے کہ وہ اب امریکہ سے باقاعدہ آ زادی حاصل کر کے اپنی پالیسیاں خود تشکیل دے۔امریکہ کو زوال آ رہا ہے ہمیں اب ایشیائی ممالک کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھانا چاہیے امریکہ نواز پالیسیوں کی وجہ سے آج پاکستان بھی خطرات میں گھیرا ہوا ہے بھارت کے ساتھ تعلقات اچھے ہونے چاہیں مگر کشمیر کی قیمت پر نہیں ۔سینٹ کے اجلاس میں سینیٹرسواتی نے جمعہ کے روز خارجہ پالیسی پر بحث کرتے ہوئے کہا کہ ہماری خارجہ پالیسی امریکی مفادات کے لئے ہے جس کے باعث آج ہماری مغربی سرحدیں غیر محفوظ ہو گئیں اگر یہی سلسلہ جاری رہا تو ہم اپنی سالمیت کھو دیں گے ڈاکٹر عبد المالک نے کہا کہ جنرل ایوب سے جنرل مشرف تک ہماری خارجہ پالیسی دو نکات پر مشتمل تھی ایک امریکی نوازدوسری بھارت مخالف۔ ایک طرف ہم کشمیر کی آزادی چاہتے ہوئے بھارت کو توڑنا چاہتے ہیں دوسری جانب ہم اس کے ساتھ دوستی کرنا چاہتے ہیں ۔پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات بہتر کرنا چاہتے ہیں پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے کے لئے ہمیں اپنی خارجہ پالیسی کو موثر کرنا ہو گا انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنے آپ کو بحیثیت قوم ایک کرنا ہو گا نثار اے میمن نے کہا کہ پاکستان کی قومی سلامتی کسی بھی حکومت کی خارجہ پالیسی کا بنیادی نکتہ ہوتا ہے سابقہ حکومت کی کامیاب خارجہ پالیسی کے باعث ہم نے دفاعی صلاحیت کا انحصار امریکہ سے کم کر کے اسے چین کی جانب مبذول کر دیا گیا ۔ صدر مشرف نے اس ملک کو ایک کامیاب خارجہ پالیسی دے کر مضبوط کیا ۔مولانا گل نصیب نے کہا کہ ہماری خارجہ پالیسی مکمل طور پر ناکام نہیں رہی کئی ایک کامیابیاں حاصل کیں مگر بحیثیت قوم جو حاصل کرنا چاہیے تھا وہ نہ کر سکے ۔خارجہ پالیسی میں پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات انتہائی اہمیت کے حامل ہو گئے ہیں پڑوسی ممالک محفوظ ہو تو ملک محفوظ ہو گا ۔آزاد خارجہ پالیسی تشکیل دینے کے لئے ملک میں سیاسی داخلی اور معاشی استحکام پیدا کرنا ہو گا اس ملک میں جمہوری قوتوں کو اقتدار تو ملا مگر اختیار نہیں ملا اگر دونوں مل جائیں تو ہم بے تحاشا ترقی کر سکتے ہیں۔ایس ایم ظفر نے کہا کہ خارجہ پالیسی ایک دم نہیں بن سکتی اس کے لئے وقت درکار ہوتا ہے بھارت کےساتھ تعلقات بتدریج بہتر ہو رہے ہیں مسئلہ کشمیر کا ایسا حل نکالنا ہوگا جو کہ تینوں فریقین کے قابل قبول ہو ہم نے نئی حکومت کو ایک اچھی خارجہ پالیسی دی جس کا وہ بھر پور فائدہ اٹھا سکتے ہیں ہمارے دفتر خارجہ میں قابل اور محنتی افراد موجود ہیں انہوں نے کہا کہ عالمگیریت کے اس دور میں امریکہ اہمیت کا حامل ہے ہم اس کے ساتھ تعلقات رکھے بغیرکچھ نہیں کر سکتے ۔ موجودہ حالات میں پاکستان بھی امریکہ کی ضرورت ہے گو کہ چین کے ساتھ ہمارے تعلقات مثالی ہیں مگر ہم روس کو بھی نظر انداز نہیں کر سکتے عراق سے اتحادی افواج کا انخلاءہماری خارجہ پالیسی کا حصہ ہونا چاہیے آج کا سپر پاور ہمیشہ سپر پاور نہیں رہے گا اس کی طاقت اسی دن کم ہونا شروع ہو گئی تھی جب عراق پر حملہ کیا گیا ہمیں مغرب کے بجائے ایشیاء پر توجہ دینا ہو گی آنے والا دور ایشیاءکا ہے جس میں عباس کمیلی کا کہنا تھا کہ خارجہ پالیسی اس کی ہوتی ہے جو آزاد ہوتا ہے اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنی آزادی کا کھل کر اظہار کریں ہمیں صرف امریکہ پر تکیہ نہیں کرنا چاہیے بلکہ چین اور ایران اور اسلامی ممالک پر توجہ دینا چاہیے ۔سعدیہ عباسی نے کہا کہ امریکہ کی طرف سے گائیڈ لائن نہیں لینی چاہیے مشرف کی پالیسیوں کے باعث عسکریت پسندی اور گوانتاناموبے کا نیا کلچر پیدا ہوا ۔ فوزیہ فخرالزمان نے کہا کہ حکومت بے نظیر کے حوالے سے اقوام متحدہ سے تحقیقات کروانا چاہتی ہے تحقیقات ہونی چاہیے تا کہ ملوث افراد کو بے نقاب کیا جائے اس اسماعیلبلیدی نے کہا کہ ماضی میں وزیر خارجہ اور وزیر خزانہ امریکہ کی مرضی سے تعینات کئے جاتے تھے موجودہ حکومت نے اپنی مرضی سے ان وزراءکا فیصلہ کیا انہوں نے کہا کہ پاکستان عملی طور پر امریکہ کی کالونی بن چکا ہے نائن الیون پر ہمیں آزادی کا بھر پور موقع ملا تھا مگر مشرف نے یہ موقع ضائع کر دیا جاوید اشرف قاضی نے کہا کہ امریکہ نے ضرورت پڑنے پر ہماری طرف ہاتھ بڑھایا جب مطلب نکل گیا تو آنکیھں پھیر لیں۔ ذو الفقار بھٹو نے اس ملک کو کامیاب خارجہ پالیسیی دے کر چین اور روس کے قریب کیا ہمیں اسلامی ممالک سے زیادہ توقعات وابستہہ نہیں کرنی چاہیں ۔
|
|