افغانستان‘ افغان پولیس کا 2 کمانڈوز سمیت 6 طالبان کو ہلاک کرنے کا دعویٰ
افغانستان‘ افغان پولیس کا 2 کمانڈوز سمیت 6 طالبان کو ہلاک کرنے کا دعویٰ
اردو ٹائمز (نیوز)مغربی افغانستان میں افغان پولیس نے ایک کارروائی کے دوران طالبان کی جانب سے مقرر کئے گئے گورنر اور طالبان پولیس کے سربراہ سمیت 6 طالبان جنگجو¶ں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے جبکہ دارالحکومت کابل میں ایک خودکش کار بم دھماکے میں 5 افراد زخمی ہو گئے۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق افغان وزارت داخلہ کی طرف سے کابل میں جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ مغربی صوبہ غور کے ضلع توری کے علاقے بالااسار میں افغان پولیس کے ایک یا دستے نے چھاپہ مارا جہاں پولیس کو اطلاع دی تھی کہ علاقے میں طالبان رہنما دہشت گردی کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ اس دوران طالبان کی طرف سے پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کی گئی جس پر جھڑپ شروع ہو گئی جو کئی گھنٹے جاری رہی۔ صوبائی پولیس سربراہ شاہ جہان نوری نے غیرملکی خبررساں ادارے کو بتایا کہ خونریز جھڑپ میں 6 طالبان مارے گئے ہیں جنہیں طالبان کی طرف سے مقرر کئے گئے گورنر سید جلیل اور طالبان پولیس سربراہ ملاعبدالجلیل بھی شامل ہیں جبکہ جھڑپ میں 2 پولیس اہلکار اور 2 عام شہری بھی زخمی ہوئے ہیں۔ طالبان کی طرف سے فوری طور پر کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔ دریں اثناءافغان وزارت داخلہ کے ترجمان زمیری باشرے کے مطابق دارالحکومت کابل کے مغرب میں ایک خودکش کار بم دھماکہ کیا گیا جس میں 5 شہری زخمی ہو گئے ترجمان کے مطابق خودکش حملے کا ٹارگٹ واضح نہیں تھا جبکہ دھماکے کے وقت کوئی افغان و اتحادی فوجی یا حکام وہاں موجود نہیں تھے۔ ادھر طالبان کے ترجمان زبیع اللہ مجاہد نے خودکش حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنوبی صوبہ قندھار سے تعلق رکھنے والے طالبان جنگجو نے یہ خودکش بم دھماکے کیا ہے۔