اردو ٹائمز (نیوز) چینی صدر ہُوجنتا¶ نے کہا ہے کہ چین کی ترقّی جاپان کیلئے خطرہ نہیں ہے اور دونوں ملکوں کو ایکدوسرے کی ترقّی کو تسلیم درست طریقے سے تسلیم کرنا چاہئیے اور آپس میں ایکدوسرے کو حریف کے طور پر نہیں بلکہ تعاون کرنیوالے شراکتدار کے طور پر دیکھنے چاہئیے ۔چین کے صدر ٹوکیو میں واقع جاپان کی معروف واسیدا یونیورسٹی میں خطاب کررہے تھے ۔ 1930ءکی دہائی میں جاپان کیجانب سے چین پر جارحیت جو 9ستمبر 1945ءکو ختم ہوئی تھی دونوں ملکوں کے درمیان اب بھی ایک کشیدہ مسئلہ ہے اور تاریخ کے مختلف تشریحات کے باعث یہ جاپان اور چین میں ایک نازک دوطرفہ مسئلہ ہے جسکی بازگشت ا ندونوں ملکوں کے تعلقات کر ہر موڑ پر سُنی جاسکتی ہے لیکن دونوں جانب سے ماضی کو فراموش کرکے مستقبل سے وابستہ تعلقات قائم کرنیکی پیشرفتیں دیکھنے میں آتی رہی ہیں گوکہ چینی عوام ماضی میں کئے جانیوالے مظالم کیخلاف آواز اٹھاتے رہتے ہیں ۔واسیدا یونیورسٹی میںچینی صدر کا خطاب اُنکی اس خواہش کا عکّاس تھا کہ چین ایک اچھے ہمسائے کی طرح جاپان کیساتھ باہمی تعلقات قائم کرنا چاہتا ہے ۔ دوسری جانب یہ حقیقت بھی ہے کہ جاپانی معیشت تیزی سے انحطاط کیجانب مائل ہے اور یہاں جاپان میں چین کی تیزرفتار ترقّی کو ملے جُلے جذبات کیساتھ دیکھا جارہا ہے ۔ صدر ہُو نے واسیدا یونیورسٹی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ملکوں کو ایکدوسرے کی پرامن ترقّی کی حمایت کرنی چاہئیے اور دوسرے کی ترقّی کو خطرے کے طور پر نہیں بلکہ ایک موقع کے طور پر دیکھنا چاہئیے ۔ اُنہوں نے ماضی کے اوراق پلٹتے ہوئے کہا کہ چین پر جاپان کی فوجی جارحیت سے دوستانہ تعلقات کو سخت نقصان پہونچا اور اس سے صرف چینی عوام ہی کو تکالیف نہیں اُٹھانا پڑیں بلکہ جاپانی عوام کو بھی سخت خطرہ لاحق ہوا ۔اُنہوں نے مزید کہا کہ چین یہ نہیں چاہتا کہ ماضی کو بھلادیا جائے اور یہ نازل محسوسات کو جاری رکھنے کیلئے نہیں ہے بلکہ ماضی سے سبق حاصل کرنے کیلئے ہے ۔ قبل ازیں صدر ہُو جنتا¶ نے جاپان کے چار سابق وزرائے اعظم یاسُوہیرو ناکاسونے ، توشیکی کائفُو ، یوشیرو موری اور شنزوآبے سے ملاقات کی اور چین کیساتھ جاپان کے تعلقات میں اضافے کی اہمیت پر زور دیا۔