اردو ٹائمز- اردو کی تازہ خبریں
مسلسل اشاعت کے 28 سال
Twenty eight years of publication

 Daily Urdu News USA CANADA UK

    

 Urdu Times Daily Urdu News
 
Fri, 09 May 2008 07:35:00

پاکستان کی سرزمین پر کسی کو بھی کارروائی کی اجازت نہیں دی جائے گی :شاہ محمود قریشی

پاکستان کی سرزمین پر کسی کو بھی کارروائی کی اجازت نہیں دی جائے گی :شاہ محمود قریشی

اردو ٹائمز( نیوز)وفاقی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان کی سرزمین پر کسی کو بھی کارروائی کی اجازت نہیں دی جائے گی حکومت دہشت گردوں سے کوئی مذاکرات نہیں کرے گی صرف اس طبقے سے بات کی جائے گی جو امن وامان کا خواہش مند ہے ہم جنرل ہڈ جیسی سوچ کو کبھی پاکستان میں داخل نہیں ہونے دیں گے بھارت کے ساتھ امن مذاکرات اور اعتماد سازی کا عمل جاری رہے گا لیکن ہم کشمیر پر اپنے اصولی موقف سے کبھی پیچھے نہیں ہٹیں گے پاکستان فلسطین کے لئے علیحدہ ریاست کے قیام کا مطالبہ جاری رکھے گا پاکستان آئی پی آئی گیس پائپ لائن منصوبہ کو ہر صورت میں مکمل کرے گا چاہے امریکہ ناراض ہی کیوں نہ ہو جائے پر امن مقاصد کے لئے ایران کے ایٹمی پروگرام کی حمایت جاری رکھیں گے اور ایران پر کسی بھی قسم کے حملے کی سختی سے مخالفت جاری رکھیں گے پاکستان کے ایٹمی اثاثے انتہائی محفوظ ہاتھوں میں ہیں جن پر کوئی ملک انگلی نہیں اٹھا سکتا اور حکومت بے نظیر قتل کی تحقیقات اقوام متحدہ کے ذریعے کروانے کے موقف پر قائم ہے تحقیقات اقوام متحدہ سے ہی کروائیں گے ۔جمعہ کے روز سینٹ میں ملکی خارجہ پالیسی پر جاری بحث کو سمیٹتے ہوئے وفاقی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہم ایک آ زاد و خود مختار ملک ہیں اور اپنی آزادی کا ہر طریقے سے دفاع کریں گے ہم اندرونی طور پر جتنے مضبوط ہو گئے اتنی ہی ہماری خارجہ پالیسی مضبوط ہو گی ہمیں اندرونی انتشار سے بچنا ہے انہوں نے کہا کہ خارجہ پالیسی میں اگر تمام جماعتوں کا اتفاق ہو تو بیرون ممالک قائم ہمارے سفارت خانے احسن طریقے سے ہماری پالیسی پر عمل کر سکتے ہیںانہوں نے کہا کہ میں اس بات سے اتفاق کرتا ہوں کہ ہمیں اپنے پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات پر توجہ دینی چاہیے اور بہتر تعلقات استوار کرنے چاہیں ملکی خارجہ پالیسی پر وقت کی ضرورت کے مطابق نظر ثانی ضرور ہونی چاہیے لیکن ہماری خارجہ پالیسی سٹرٹیجک مفادات کی ترجمانی کرتی ہے جن کو راتوں رات تبدیل نہیں کیا جاسکتا اس حوالے سے ہمیں پارلیمنٹ میں اتفاق رائے پیدا کرنا ہو گا انہوں نے کہا کہ دفتر خارجہ سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے امور خارجہ کی رپورٹس کو سٹڈی کر رہا ہے جن پر عمل کرنے کی پوری کوشش کی جائے گی ملک میں جمہوریت کی بحالی سے متعدد ممالک نے پاکستان پر اعتماد کا اظہار کیا ہے حکومتیں تبدیل ہونے کے باوجود خارجہ پالیسی میں تسلسل ہونا چاہیے انہوں نے کہا کہ مشاہد حسین سید کا مشاہدہ درست ہے کہ گزشتہ کچھ عرصہ میں دفتر خارجہ کا ملکی خارجہ پالیسی کے حوالے سے کردار ختم ہو رہا ہے صرف دفتر خارجہ ہی نہیں دیگر سرکاری اور حکومتی اداروں کا بھی گزشتہ پانچ سالوں میں کردار بتدریج کم ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم دو ٹاسک فورسز قائم کر رہے ہیں جو دیکھیں گی کہ کیا ہماری خارجہ پالیسی ملکی ضروریات سے مطابقت رکھتی ہے یا نہیں حکومت خارجہ پالیسی کی تشکیل کے حوالے سے پارلیمنٹ اور دیگر ذرائع سے تجاویز ضرور لے گی۔ ہم وزارت خارجہ میں اقتصادی ڈپلومیسی ٹاسک فورس قائم کر رہے ہیں جو دیگر ممالک کے ساتھ معاشی و اقتصادی تعلقات کی پالیسی اور معاشی و سماجی ترقی کے حوالے سے خصوصی اقدامات اٹھائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک کو بیرونی نہیں اندرونی خطرات لاحق ہیں اور بیرونی طور پر محفوظ ہونے کے لئے ہمیں اندرونی حفاظت کو یقینی بنانا ہو گا۔ حکومت کوشش کرے گی کہ خارجہ پالیسی ملکی ترقیاتی عمل کو تقویت دینے میں استعمال ہو۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ممالک قائم پاکستانی سفارت خانوں میں موجود اہلکار انتہائی محدود وسائل میں کام کر رہے ہیں اور ہم کوشش کریںگے کہ ہم انہیں زیادہ سے زیادہ وسائل مہیا کریں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی ترجیحات میں خوراک کا تحفظ بھی شامل ہے۔ہم عالمگیریت کے دور میں رہ رہے ہیں اور خطے سمیت دنیا کے دیگر ممالک سے الگ ہو کر ہم نہیں رہ سکتے۔ اس حوالے سے ہمیں اپنی علاقائی خارجہ پالیسی پر نظرثانی کرنا ہو گی۔ ہمیں ایشیائی ممالک کے ساتھ اپنے سفارتی و اقتصادی تعلقات کو فروغ دینا ہو گا۔ ماضی میں ہم صرف مغرب کے ساتھ تعلقات استوار کرنے میں مصروف رہے ہیں اور ہم نے علاقائی خصوصاً ایشیائی ممالک کو نظرانداز کیا۔ ہماری خارجہ پالیسی کا ایک اہم جزو ہو گا۔ علاقائی امن و استحکام کیونکہ امن کے قیام کے بغیر بہتر اقتصادی تعلقات قائم کرنا ممکن نہیں ہے اور ایسے میں مجھے چین نظر آتا ہے جس کے ساتھ ہمارے دوطرفہ تعلقات بہت اچھے رہے لیکن اقتصادی شعبے میں ہم مطلوبہ تعاون حاصل نہ کر سکے۔ حکومت ایک جامع فریم ورک مرتب دے رہی ہے جس کے تحت آئندہ کچھ سالوں میں چین کے ساتھ اقتصادی تعلقات کو تقویت دی جائے گی۔ چین ہمیں رعایتی اور آسان قرضے فراہم کرنے کے لئے تیار ہے۔ چین ہمیشہ سے ہمیں ٹیکنالوجی اور فنڈز مہیا کرنے کے لئے تیار ہے جبکہ اس حوالے سے ان کی جانب سے سیاسی ارادہ بھی سامنے آ چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اور ایران کے تعلقات خوشگوار نہیں ہیں اسی لئے امریکہ آئی پی آئی گیس پائپ لائن منصوبے کی مخالفت کر رہا ہے لیکن میں ایوان کو یقین دلاتا ہوں کہ ہم ہر قیمت پر اس منصوبے کو مکمل کریںگے چاہے اس سے کوئی ناراض ہی کیوں نہ ہو۔ ایران ہمارا دیرینہ ساتھی ہے اور ہم ایران کے ایٹمی پروگرام کو تسلیم کرتے ہیں اور ہمیں یقین ہے کہ وہ پرامن مقاصد کے لئے ایٹمی پروگرام کو جاری رکھیںگے۔ ہم ایران پر کسی قسم کے بھی حملے کی مخالفت کریںگے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کرنا ہماری ضرورت ہے اور ان کے سیکورٹی خدشات دور کرنے میں ہم ان کی مدد کرنا چاہتے ہیں جبکہ پاکستان بحالی نو کے لئے بھی افغانستان کی مدد کر رہا ہے اور اس حوالے سے 300 ملین ڈالر کے امدادی پیکج کا پروگرام شروع ہو چکا ہے۔ ہمیں ایک دوسرے پر الزام تراشی کرنے کی بجائے یہ سمجھنا ہو گا کہ ہم ایک دوسرے کی ضرورت ہیں اور یہ بھی سوچنا ہو گا کہ فاٹا میں حالات خراب ہوںگے تو اس کا اثر افغانستان اور افغانستان میں خراب حالات کا اثر ہمارے قبائلی علاقوں پڑے گا۔ افغانستان میں قیام امن میں پاکستان کا مفاد ہے کیونکہ افغانستان کے ذریعے ہم وسطی ایشیائی ریاستوں تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔ میں اپنا پہلا دورئہ افغانستان کا کروںگا۔ انہوں نے کہا کہ ہم خارجہ پالیسی کو مرتب کرتے ہوئے بھارت کے مسلمہ وجود کو نظرانداز نہیں کر سکتے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں بھارت کے ساتھ امن عمل بہت آگے گیا لیکن مختلف ادوار میں یہ معاملہ کھٹائی میں پڑ گیا اور موجودہ حکومت نے برسراقتدار آتے ہی اس عمل کو آگے بڑھانے کا کام شروع کر دیا ہے۔ ہم ویزا پالیسی کو آزاد بنانے کا ارادہ رکھتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ دونوں ممالک کے عوام کے درمیان روابط بڑھیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم آگے بڑھیں اور اعتماد سازی کی فضا قائم کریں اور دونوں ممالک سمجھتے ہیں کہ تمام معاملات حل ہونے چاہئیں۔ 21 مئی اور 20 مئی کو بھارتی سیکرٹری و وزیرخارجہ پاکستان آ رہے ہیں اور اس موقع پر ان سے مثبت مذاکرات میں پیشرفت کی توقع ہے لیکن کشمیر سے اپنی جذباتی وابستگی کو نظرانداز نہیں کر سکتے‘ کوئی پاکستانی جس کے دل میں وطن کے لئے محبت ہے وہ کشمیر کو نہیں بھلا سکتے لیکن ہمیں یہ بھی دیکھنا ہو گا کہ دونوں ممالک ایٹمی طاقتیں بن چکی ہیں اور ماضی میں کی گئی فوج کشی کا بھی کوئی نتیجہ حاصل نہیں ہو سکا۔ میں یقین دلاتا ہوں کہ حکومت کشمیر پر اپنے اصولی م¶قف سے نہیں ہٹے گی لیکن تعمیری مذاکرات ہونے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہم نے امریکہ کی آنکھیں بند کر کے تائید کی جس کی وجہ سے ہم ان کے تابع ہو کر رہ گئے لیکن ہمیں دیکھنا ہے کہ کیا یہ جنگ کسی کی ہے یا ہماری اپنی بقاءکی۔ حکومت اس بات کی قائل نہیں ہے کہ یہ جنگ صرف طاقت کے ذریعے جیتی جا سکتی ہے بلکہ اس کے لئے ہمیں دلوں کو جیتنا ہو گا۔ نئی حکومت کے م¶قف کو سن کر امریکہ نے بھی اپنے بیانات تبدیل کر لئے ہیں ہم دہشت گردوں کے ساتھ مذاکرات نہیں کریںگے بلکہ صرف اس طبقے کے ساتھ مذاکرات کے لئے جائیںگے جو قیام امن کا خواہش مند ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں امریکی حکومت کے اس اقدام کو تسلیم کرنا چاہئے جس کے تحت وہ قبائلی علاقوں میں 750 ملین ڈالر کا ترقیاتی پیکج لایا اور تعمیرنو بحالی زون تعمیر کرنے جا رہا ہے جس سے قبائلی علاقوں میں ترقی کا عمل شروع ہو جائے گا۔ حکومت اپنی سرزمین پر کسی اور ملک کی افواج کو کارروائی کی اجازت نہیں دے گی اگر کوئی کارروائی کی گئی تو وہ ہماری اپنی فورسز کریںگی۔ ہمیں یہ ملک عزیز ہے اور ہم اپنے مفادات کو کبھی نہیں فروخت کریںگے۔ ہمیں اس ملک میں رہنا ہے ہمارے پاس نہ تو امریکہ نہ ہی کینیڈا کا پاسپورٹ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم جنرل ہڈ جیسی سوچ کو پاکستان میں داخلہ نہیں ہونے دیںگے۔ (تنویر ملک)








© 2008 All Rights Reserved. Urdu Times Group of Publications
sponsors: air purifier