اردو ٹائمز(نیوز) سابق وزیراعظم اور(ن) لیگ کے قائد میاںنوازشریف نے کہا ہے کہ پاکستان میں جمہوریت کے لئے آزاد عدلیہ ناگریر ہے۔12مئی کوججز بحال قراداد پارلیمنٹ میں پیش کرنے کا فیصلہ آصف زرداری سے ملکرکیا۔ گزشتہ روز یہاں لندن میں میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے انہوںنے کہاکہ برطانوی پارلیمنٹ کی اکثریت پاکستان میں ججز کی بحالی کے حق میں ہے 12مئی کوججز کی بحالی کی قرارداد پارلیمنٹ میں پیش کرنے کافیصلہ متفقہ تھا اور آصف زرداری سے مل کر ججز کوبحال کرنے کااعلان کیاتھا۔ ججز کی بحالی کے لئے کسی قانون کاسہارا لینے کی ضرورت نہیں صدرمشرف سے پوچھنا ضروری ہے کہ 3 نومبر کوکس قانون کے تحت ججز کومعزول کیاتھا۔ نوازشریف نے کہاکہ معزول ججز کو دوبارہ عدالت میں بٹھانے کے لئے پوری قوم نے ساتھ دیتا ہوں اور آئندہ دو تین روز میں بنچ سامنے آجائے گا۔نوازشریف نے کہاکہ وہ پرامید ہیں کہ آصف علی ز رداری ججز کی بحالی کے معاملے بھرپور معاون ثابت ہونگے میں ایک روزقبل پاکستان واپس جارہاتھاکہ مجھے پیغام ملا کہ آصف علی زرداری لندن آرہے ہیں تو اس وجہ سے واپسی کے پروگرام میں تبدیلی کی۔نوازشریف نے کہاکہ سیاسی جدوجہد کے ذریعے ہی ججز بحال ہونگے۔ صدرمشرف نے ایک غلط کام کرنے کے لئے نہ آئین کی اورنہ قانون کی اسی لئے ہم بھی اس بات کاحق رکھتے ہیں کہ ججز کو جوںکاتوں ہی بحال کیاجائے اور ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ جب ملک میں مارشل لا ءلگتا ہے تو کون سے قانون کے تحت لگتاہے۔ انہوں نے کہاکہ ڈکٹیٹرشپ کے خاتمے کے لئے ضروری ہے کہ مارشل لاءمیں توڑی جانے والی اسمبلیاں بھی بحال ہونی چاہئیں اور آمروںکی موجودگی میں زوروشور سے یہ کام ہوں تاکہ آئندہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ان کا لاپتہ بند ہو جس شدت کے ساتھ آمر اسمبلیاں توڑتے ہیں اس کے تحت اسی شدت سے ان کا راستہ روکنا ضروری ہے۔ نوازشریف نے کہاکہ صدرمشرف کے اطمینان کے لئے ہم ججز کی بحالی کے لئے آئین اورقانون کے راستے نہیں ڈھونڈ سکتے