بیجنگ
(اردو ٹائمز) برطانوی ٹیلی ویژن کے مطابق چینی حکام نے اہل چین پر اولمپکس کے
دوران کھیلوں کے موقع پر غیر ملکی مہمانوں سے بات چیت کے دوران ناک یا بال کھجانے
اور جمائیاں لینے سے ممانعت برتنے کو کہا ہے اس کے علاوہ چینی حکام نےچینی شہریوں
کو ایک لمبی فہرست بھی دی ہے جس میں وہ تمام سوالات شامل کیے گئے ہیں جو چینی لوگ
غیر ملکیوں سے نہیں پو چھ سکتے۔ ایسے افراد جو اولمپکس میں حصہ نہیں لے رہے ان
افراد کو پیرا اولمپکس میں حصہ لینے والے معذور افراد سے گفتگو کرنے کے لیے بھی
چند ہدایات دی گئیں ہیں۔ ان سب کے احکامات کے پیچھے چینی حکام کا مقصد اولمپکس
جیسے بڑے موقع پر عام لوگوں کا مہذب ترین ملک کے شہری ہونے کا ثبوت دینا ہے۔
پروپیگنڈا ڈیپارنمٹ کی طرف سے تیار کیے جانے کتابچے میں مقامی لوگوں کے لیے گیمز
کے حوالے سے تعارفی باب بھی شامل ہے۔ اس کتابچے
میں ایک باب غیر ملکیوں سے پیش آنے کے حوالے سے دیا گیا ہے جس مین ان سے
بات چیت کے دوران کے آداب واضح کیے گئے ہیں۔ اس میں کہا گیا ہے کہ چینی عوام
دوران گفتگو مسکراتےرہیں، بہت دیر تک گھورنے یا دیکھنے سے پرہیز کریں اور کوئی
ایسا عمل نہ کریں جس سے لوگ تنگ ہونا شروع ہ وجائیں۔ کتابچے میں بیجنگ کے شہریوں
کو ناک رگڑنے ، سر کھجانے اور ناخنوں سے کھیلنے سے بھی منع کیا گیا ہے۔ اس کے
علاوہ کتانچے میں لوگون کو غیر ملکیوں کے ساتھ وہ آٹھ سوالات جو کتابچے میں شامل
ہیں پوچھنے سے منع کی اگیا ہے۔ ان 8
سوالوں میں "غیر ملکیوں کی آمدنی کتینی ہے، کتنا خرچ کرتے ہیں، عمر کتینی ہے
اور کیا وہ شادی شدہ ہیں جیسے سوالات شامل ہیں۔