لاہور (اردو ٹائمز) لاہور ہائی
کورٹ نے فاسٹ بولر شعیب اختر کی سز معطل کرتے ہوئے انہیں کرکٹ کھیلنے کی اجازت دے
دی ہے تاہم ان پر عائد کردہ جرمانہ 70 لاکھ انہیں ادا کرنا ہوگا۔ ہائی کورٹ نے
شعیب اختر کی سزا کے خلاف دائر رٹ کا فیصلہ آنے تک انہیں کرکٹ کھیلنے کی اجازت دے
دی ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کی ڈسپلنری
کمیٹی نے ڈسپلن کی خلاف ورزی کرنے پر شعیب
اختر 5 سال تک کرکٹ کھیلنے کی پابندی لگائی تھی۔ سزا کے خلاف اپیل پر اپہلیٹ
تربیونل نے شعیب اختر کی ڈیڑھ سال کی سزا عائد کی تھی اور ان پر 70 لاکھ روپے کا
جرمانہ عائد کیا تھا۔ ہائی کورٹ کے فیصلے مطابق رٹ پر فیصلہ آنے تک شعیباختر ملک
اور بیرون ملک پاکستان کی نمائندگی کر سکتے ہیں۔ رٹ کے ساتھ ہی جرمانہ پر بھی
فیصلہ ہوگا شعیب اختر نے سزا کو مکمل طور پر ختم کرنے کی درخواست کی ہے۔ اپیل کی اگلی سماعت کی تاریخ کااعلان
نہیں کیا گیا ہے کیونکہ عدالتیں گرمیوں کی تعطیلات کے لیے بند ہیں اور اگلی سماعت
چھٹیوں کے بعد ہوگی۔ شعیب اختر کے وکیل عابد منٹو نے گذشتہ سماعت میں فیصلے کو
عارضی طور پر معطل کرنے کی درخواست دی تھی۔ شعیب اختر نے عدالتی فیصلے پر اطمینان
کا اظہار کرتے ہوئئ کہا ہے کہ میں اپنے ملک کی نمائندگی کرنے کےلیے بے چین ہوں۔
انہوں نے ٹیسٹ کرکٹ میں 179 ، اور ون ڈے میں 219 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا ہے۔ انہوں
نے دسمبر میں اپنا آخری ٹیسٹ بھارت کے خلاف بنگلور میں کھیلا تھا۔