ارد و ٹائمز(نیوز) پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین ڈاکٹر نسیم اشرف کی جانب سے قانونی نوٹس کا جواب موصول نہ ہونے پرفاسٹ باو لر شعیب اختر کے خلاف بائیس کروڑ روپے ہرجانے کے دعویٰ کی سماعت سولہ مئی تک ملتوی ہوگئی ۔سول کورٹ کی جج حنا مظفر نے شعیب اختر سمیت دونوں فریقین کو نوٹس جاری کر تے ہوئے سولہ مئی کو عدالت میں طلب کر لیا ہے۔ ڈاکٹر نسیم اشرف کی جانب سے پی سی بی کے وکیل تفضل رضوی پیش ہوئے جبکہ شعیب اختر کی جانب سے کوئی وکیل پیش نہیں ہوا۔ عدالت میں سماعت کے دوران پی سی بی کے وکیل تفضل رضوی نے اپیل کی کہ ہرجانے کی درخواست کے فیصلے تک شعیب اختر کو غیرمنقولہ جائیداد فروخت کرنے سے روکا جائے۔وا ضح رہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین ڈاکٹر نسیم اشرف نے قانونی نوٹس کا جواب موصول نہ ہونے پر لاہور کی عدالت میں فاسٹ باو لر شعیب اختر کے خلاف بائیس کروڑ روپے ہرجانے کا دعوی دائر کیا تھا۔فاسٹ بولر شعیب اختر نے پی سی بی کی جانب سے لگنے والی پانچ سالہ پابندی کے بعد ایک انٹرویو میں چیئرمین ڈاکٹر نسیم اشرف اور ساتھی کھلاڑیوں پر سنگین الزامات لگائے تھے جس کے بعد ڈاکٹر نسیم اشرف نے قانونی مشیر تفضل رضوی کے ذریعے فاسٹ بولر شعیب اختر کو بیس کروڑ روپے ہر جانے کا نوٹس بھجوایا تھا۔اس نوٹس کا جواب موصول نہ ہونے کے بعد تفضل رضوی نے لاہور میں سول عدالت میں بائیس کروڑ روپے ہرجانے کا دعویٰ کر دیا ہے جس میں دو کروڑروپے کے قانونی اخراجات بھی شامل ہیں۔تفضل رضوی نے بتایا کہ ہر جانے کے دعوے کے ساتھ ساتھ ایک درخواست یہ بھی دی گئی کہ جب تک کیس کا فیصلہ نہیں ہوتا تب تک شعیب اختر کو غیر منقولہ جائیداد فروخت کرنے سے روک دیا جائے۔