ہندوستانی تارکین وطن کی خدمات قابل قدر ہیں، قونصل سیریل تِگّا
بشکریہ: آواز
جشن آزادی کے موقع پر کیک کاٹتے ہوئے تصویر میںگلوکار کلیم،شمس احسن، کے کے وجئین، عمر محسن باغزال، عارف قریشی سیریل تگّا ، دیپک آنند اور ڈاکٹر دلشاد احمد
گہوارہ علم و دانش
جدہ میں مقیم باشندگان ہند کی سب سے قدیم، پہلی اور بڑی تنظیم انڈین کلچرل سوسائٹی
اور بزم عثمانیہ جدہ نے اپنی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے ہر سال کی طرح امسال بھی
21 اگست کی شام ہندوستان کے 62 ویں جشن آزادی کی تقریب شاندار پیمانے پر منائی۔ مہمانان
خصوصی کی حیثیت سے انڈین قونصلیٹ جدہ کے قونصل ایجوکیشن اینڈ کلچر اینڈ ہیڈ آف دی چانسلری
سیریل تِگّا ، قونصل کمیونٹی اینڈ ویلفیئرکے کے وجئین، ائیر انڈیا ریجنل مینجر سعودی
عرب دیپک آنند، مینجنگ ایڈیٹر سعودی گزٹ شمس احسن، عمر علی علوی انڈومی مینجر،الراشد
بیکری کے جنرل مینیجرپی کے ڈے ، پرامس واراپا جنرل مینجر اسٹیٹ بینک آف انڈیا ،جدہ
برانچ نے شرکت کی۔سرپرست انڈین کلچرل سوسائٹی ڈاکٹر دلشاد احمد شمسی نے استقبالیہ تقریر
میں تمام مہمانانِ خصوصی اور حاضرین محفل کا خیر مقدم کیا اور کہا کہ ہم جدہ میں تقریباً
30 برسوں سے جشن آزادی اور جشن جمہوریہ تقریبات کا اہتمام کررہے ہیں ۔اس کے علاوہ ہماری
خدمات انڈیا میں بھی جاری ہیں۔ ہم برسوں سے اسکول کے طالب علموں سے کتابیں حاصل کرکے
ان کو ٹھیک ٹھاک کرکے مستحق طالب علموں میں تقسیم کرتے ہیں اور غریب مستحق لڑکیوں کی
شادیاں بھی کرواتے ہیںاور مستحق طالب علموں میں یونیفارم اور فیس بھی دیتے ہیں۔عارف
قریشی صدر انڈین کلچرل سوسائٹی و بزم عثمانیہ نے مہمانانِ خصوصی اور حاضرین محفل کا
خیر مقدم کرتے ہوئے ملک کو آزادی دلوانے کے لئے اپنی جان و مال و اولاد کی قربانی دینے
والے مجاہدین کوخراج عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی آزادی میں مسلمانوں
اور بالخصوص علمائے کرام کی قربانیوں کو ملک کبھی فراموش نہیں کرسکتا اور اس جدوجہد
آزادی میں ہندوستان کے تمام مذاہب سے تعلق رکھنے والوں نے حصہ لیا اور اپنی جان و مال
کی قربانی دی اور ملک کو آزادی دلوائی۔ عارف قریشی نے اس موقع پر آواز کی دنیا کے بے
تاج بادشاہ محمد رفیع مرحوم کی زبردست خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی آواز
دنیا کے کونے کونے میں آج بھی زندہ ہے ۔ہم آج اس خوشی کے موقع پر 'یادِ رفیع' کے نام
سے پروگرام پیش کررہے ہیں۔ یہی ہمارا ان کے لئے خراج عقیدت ہے ۔
مہمان خصوصی شمس احسن
مینجنگ ایڈیٹر سعودی گزٹ نے کہا کہ یہ بڑی خوشی کی بات ہے کہ انڈین کلچرل سوسائٹی و
بزم عثمانیہ تقریباً 30 برسوں سے اپنے ملک کے قومی تہوار پابندی سے منعقد کررہی ہے۔
ہم کو چاہئیے کہ ہم ان سے تعاون کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم ہندوستانی کہیں بھی
رہیں، ہم کو چاہئیے کہ ہم اپنے ملک کے کلچر، تہذیب ، اخلاق اور جھنڈے کو بلند رکھیں
کیونکہ ہم پردیس میں ہیں اور پردیس میں سارے ہندوستانی ایک جیسے ہیں۔
سرپرست بزم عثمانیہ
عمر محسن باغزال نے کہا کہ عارف قریشی ہمیشہ کچھ نہ کچھ کرتے رہتے ہیں اور ہم کو کسی
بھی بہانے ان کا شکریہ ادا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے تمام ہندوستانیوں کو ملک کی آزادی
کی مبارکباد دی۔مہمان خصوصی سیریل تِگّا قونصل ایجوکیشن اینڈ کلچر اینڈ ہیڈ آف چانسلری
انڈین قونصیلٹ جدہ نے اپنی تقریر میں کہا کہ جدہ میں 124 انجمنیں ہیں ،جو ہمارے قونصلیٹ
میں ریکارڈ پرہیں۔ ان میں سے چند انجمنیں ہی کام کررہی ہیں، جس میں انڈین کلچرل سوسائٹی
اور بزم عثمانیہ جدہ بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ اس سوسائٹی اور بزم کی اور بھی کئی
خدمات ہیں جو ہماری کمیونٹی کے فائدے کے لئے کی جارہی ہیں جس سے قونصلیٹ اچھی طرح واقف
ہے۔انہوں نے کہا کہ آزادی کے بعد ہم نے تقریباً زندگی کے ہر شعبے میں شاندار کامیابی
حاصل کی ہے، جن میں سماجیات ، ثقافت، اعلیٰ تعلیم، اقتصادیات ، اور سائنس و ٹکنالوجی
شامل ہیں ۔جس کی وجہ سے آج ہمارا ملک ترقی یافتہ ممالک میں شامل ہوچکا ہے۔ انہوں نے
خادمِ حرمین شریفین شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز اور ان کی حکومت کا شکریہ ادا کیا ،جنہوں
نے ہندوستانی کمیونٹی کی خدمات کی تعریف کی اور ہماری ہمت افزائی فرمائی۔ انہوں نے
کہا کہ خادمِ حرمین شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز کے جنوری 2006 ء میں ہندوستان کے تاریخی
دور ے کے بعد دونوں ملکو ں کے درمیان زندگی کے ہر شعبے میں مزید مضبوطی اور مستحکم
دوستی میں اضافہ ہوا ہے۔مہمان خصوصی نے ہندوستان کمیونٹی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ
قونصلیٹ جنرل آفس کے دروازے ہر ہندوستانی کے لئے ہر وقت کھلے ہیں کیونکہ ہم کمیونٹی
کی خدمت کو اپنا اولین فرض سمجھتے ہیں۔اس موقع پر جشن آزادی کا کیک کاٹا گیا ۔پروگرام
کا آغاز ہندوستان کے مشہور قومی گیت 'ائے میرے وطن کے لوگو' سے کیا گیا۔ اس کے بعد
جدہ کے نامور و مقبول گلوکاروں جمی فرید الوحیدی، احمد صدیقی، مجیب ، ماہر ، علیم محسن،
کلیم، سریتاکمار اور نوین فاروق نے محمد رفیع مرحوم کے سدا بہار انغمے محمد رفیع مرحوم
کی ہی آواز میں پیش کرکے سامعین کو زبردست داد دینے پر مجبور کردیا۔ اس یادگار محفل
میں ہندوستانیوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی ۔عارف مسعود صدیقی نے شاندار کمپئرنگ کی
۔صوتی اثرات سلیم خان نے ترتیب دئے۔