21 اگست 2008ء کو انٹر نیشنل کشمیر پریس کلب نے جشن آزادی پاکستان کی
تقریب سادگی اور پر وقار انداز میں شعلہ ہال میں منائی۔ صدارت انٹر نیشنل کشمیر پریس
کلب کے مرکزی صدر سردار محمد رزاق خان نے کی ۔مہمان خصوصی سفارت خانہ پاکستان کے ویلفیر
کونسلر ظہورالحسن گیلانی جبکہ اعزازی مہمان خصوصی محمد جہانگیر ملک اور عبدالقیوم ملک
تھے ۔ نظامت کے فرائض وسیم ساجد نے انجام دئیے۔ تلاوت کلام پاک کی سعادت حافظ محسن
علی کو نیزنعت رسول مقبول ۖکی سعادت قاری معید افضل کو حاصل ہوئی۔ پاکستانی قومی ترانہ
غلام سرور جہانگیر فیصل جہانگیر عبدالہادی منصور عزیز اور عبداللہ جہانگیر عبداللہ
عبدلقیوم ملک نے پیش کیا ۔مہمان خصوصی ویلفیرقونصلر سفارت خانہ پاکستان ظہورالحسن گیلانی
نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہمیں نئے چیلنجوں کا سامنا ہے، جبکہ ہمارے سامنے بہت سی راہیںہیں۔
ڈپٹی جنرل سیکرٹری سردار محمد نصیر خان نے کہا کہ پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کے لیے
صرف باتیں کرنے کے بجاے کچھ عملی طور پر کرنے کی ضرورت ہے ۔انٹر نیشنل کشمیر پریس کلب
ریاض ریجن کے کنوینر خواجہ وجاہت مقبول نے کلب کاتعارف پیش کیا۔خالد جاوید نے اپنی
تقریر میں کہا کہ دنیا میں ہماری پہچان ایک آزاد قوم کی حیثیت سے ہوئی ہے۔ عظیم قومیں
اپنے اکابرین سے وفاکرتی ہیں۔ شفیق متلا نے کہا کہ پاکستان میں آج تک جمہوری اداروں
کو مظبوط ہی نہیں ہونے دیا گیا ۔مرکزی کنوینئیر رانا خادم حسین نے پنجابی میں نظم پیش
کر کے سامعین سے خوب داد حاصل کی۔رانا خادم حسین کی کلب میں بہترین کارکر دگی پر ان
کو سند دی گی۔ انٹر نیشنل کشمیر پریس کلب کے مرکزی سینئیر نائب صدرمحمد ظاہر شاہ نے
پشتو میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ یہ ملک آپ کا ہے اور آپ ہی نے اس ملک کی حفاظت کرنی
ہے۔میاں نثار علی نے انگریزی میں تقریر کرتے ہوے کہا کہ ہم اپنے ملک کی پہچان ایک اچھے
پاکستانی بن کر کروائیں تاکہ دنیا کی کوئی طاقت ہماری طرف آنکھ اٹھاکر نہ دیکھ سکے۔ریاض
ریجن کے جنرل سیکرٹری قاری عبدالباسط خان نے کشمیر کے حوالے سے تقریر کرتے ہوے کہا
کہ ایک کروڑ پچاس لاکھ کشمیر یوں کے بنیادی حق خودارادیت کا مسئلہ ہے، جسے اقوام متحدہ
کی قراردادںمیں پوری دنیا اور خود بھارت نے بھی تسلیم کیا ہے ۔ھدیٰ عبدالباسط نے خوبصورت
انداز میںملی نغمہ پیش کر کے سامعین سے خوب داد حاصل کی ۔ مر کزی رابطہ سیکرٹری ذولفقار
عظیم نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان جو اسلام کا قلعہ تھا، آج روشن خیالی کی دیمک
اسے چاٹ رہی ہے ۔وسیم سجاد نے کہا کہ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ حقائق کی روشنی میں
حکومت سماجی ناہمواری، معاشی ناانصافی اور غربت دور کرنے، صحت ،تعلیم اورصاف پانی جیسے
امور کیلئے جامع حکمت عملی طے کرے۔ محمد ملک مکی نے عربی میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ
ریاست پاکستان کسی جغرافیائی حادثے کی بنا پر وجود میں نہیں آئی تھی ۔کلب کے مرکزی
سیکرٹری اطلاعات آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس ٹریڈونگ ریاض کے صدر نے اپنی تقریرمیں
کہا کہ یہ ایک نا قابل تردید حقیقت ہے کہ پاکستان کا قیام برصغیر جنوبی ایشیا کے مسلمانوں
کی امنگوں اور آرزؤں کا مظہر ہے ۔اعزازی مہمان مرکزی نائب صدر اول عبدالقیوم ملک نے
اپنی تقریر میں کہا کہ ہمارا کلب ایک غیر سیاسی کلب ہے اور اس میں پاکستان کے حوالے
سے بات کی جاتی ہے۔مہمانان خصوصی کو یادگاری شیلڈز بھی پیش کی گئیں۔