تعطیلات میں عارضی ملازمتوں کے مواقع نہیں. تارکین نوجوان
عثمان شاہد ۔۔۔ جدہ
Article Written By: Usman Shahid
جیسے جیسے موسم گرما کی تعطیلات قریب تر ہوتی ہیں، نوجوان نسل کی بے چینی میں اضافہ ہو تاجاتا ہے۔تعطیلات کا زمانہ ایسا موقع ہے کہ تعلیم سے دور رہنے والے اور سیر سپاٹوں کے شوقین طلباء کے علاوہ تعلیمی میدان میں اچھی کاکردگی کے حامل طلباء بھی بہت دلچسپی سے اس کی پیشگی منصوبہ بندی کرتے ہیں۔ سعودی عرب میں نوجوان تعطیلات میںزیادہ ترفارغ وقت میں تفریحی سرگرمیوں، شارٹ کورسز، ورزش ،باڈی بلڈنگ، تقاریب یا کھیل کود کو ترجیح دیتے ہیں۔
کئی نوجوان اپنی فیملی کے ساتھ سعودی عرب سے باہر کسی اور ملک چھٹیاں گزارنے کے لئے سفر کرتے ہیں۔ مڈل ایسٹ، یورپ یا ایشیا کے سفر کے دوران تقریح کے علاوہ ان کی معلومات میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ انہیں وہاں کے کلچر اور ادب کے بارے میں کافی کچھ سیکھنے کو ملتا ہے۔ نئی جگہ اور نئے لوگوں سے ان کی شخصیت میں بھی نکھار پیدا ہوتا ہے۔گیارھویں جماعت میں کمپیوٹر سائنس کے طالب علم احمد علی کا کہنا ہے کہ ''مجھے سفر کرنے کا شوق ہے۔میرے والدین کہیں سفر پر جائیں یا نہیں ، میں ضرور جاتا ہوں۔میرے والدین چاہتے ہیں کہ میں تعطیلات میںاپنے ددھیال اور ننھیال کے رشتے داروں سے ملنے پاکستان جاؤں لیکن میں وہاں جاکر دوسرے شہروں یا ممالک میں تعطیلات گزارنے نکل جاتا ہوں''۔
سال بھر کے سخت تعلیمی شیڈول کے بعد تعطیلات میں ذہنی تھکان سے چھٹکارے کیلئے تفریح حاصل کرنا نوجوانوں کا بنیادی حق ہے۔ وہ گھر میں ہوں یا باہر تفریح حاصل کئے بغیر رہ نہیں سکتے۔ گرمیوں کی تعطیلات میں نوجوانوں کیلئے سیٹیلائٹ ٹی وی چینلز اہم ذریعہ ہیں۔بے شمار سیٹلائٹ چینلز پر بطور تفریح ہالی وڈ اور بالی وڈ کی فلمیں دیکھی جاتی ہیں۔پچھلے سال تحقیقی ادارے عرب ایڈوائزر گروپ کے سروے کے مطابق سعودی عرب میں 93.9فیصد لوگ سیٹلائٹ ڈش استعمال کر رہے ہیں۔ان میں نوجوان فیشن ، میوزک شوز ، کھیل اور مقابلوں پر مبنی تفریحی پروگرام دیکھنا پسند کرتے ہیں۔ ہائی اسکول سے زائد تعلیم یافتہ نسل سیاسی شوز کے علاوہ،کھیل ،صحت اور فٹنس کے پروگرام دیکھتی ہے۔
ماہ رخ رشید میٹرک کی طالبہ ہیں۔وہ کہتی ہیں کہ ''گرمیوں کی چھٹیوں کی سب سے کارآمد صفت میرے نزدیک یہی ہے کہ میں آزادانہ ٹی وی دیکھ سکتی ہوں۔والدین میرے لئے انٹرنیٹ کا استعمال پسند نہیں کرتے۔اسکول کے عام دنوں میں ٹی وی دیکھنے کا وقت نہیں ملتا ۔ٹی وی پروگراموں کی وجہ سے میرا تعطیلات میں کہیں باہر آنے جانے کا دل نہیں کرتا۔باہر گھومنے جانے کیلے آپ کو تیار ہونا پڑتا ہے۔رقم بھی صرف کرنی پڑتی ہے۔جبکہ ٹی وی بہت سستی تفریح ہے نیز اس میں آپ بے شمار چینلوں لطف اندوز ہو سکتے ہے''۔
جدہ شہر بحر الاحمر کی نعمت سے مالا مال ہے۔ یہ اپنے خوبصورت کورنیش کی وجہ سے کافی مشہور ہے۔تعطیلات میںشام کے وقت دوست مل کر ساحل سمندر پر پکنک کے لئے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تعطیلات میں ہم کورنیش پر نسبتاً زیادہ گہما گہمی دیکھتے ہیں۔موسم گرما کی تعطیلات میں کئی تقریبات کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ بین الاقوامی فنکاروں کو بلایا جاتا ہے۔ حکومت کی طرف سے سالانہ میلے منعقد کئے جاتے ہیں۔ سرکس، ادبی، سماجی اور میوزیکل تقریبات میں نوجوان پیش پیش رہتے ہیں۔ نوجوان تفریحاتی پارکوں کا رخ بھی کرتے ہیں۔ کچھ اور کرنے کو نہ ملے تو نوجوان لڑکے گاڑی لے کر سڑکوں پر گھوم پھر کر تفریح حاصل کرتے نظر آتے ہیں۔
موسم گرما کی تعطیلات کے موقع پر جدہ میں 'جدہ غیر'کے نام سے 45 روزہ میلہ بھی منعقد کیا گیا ،جس کا اختتام حال ہی میں ہوا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق اس میلے میں تقریباً 3 ملین لوگوں نے شرکت کی اوراس میں 75فیصد شرکت نوجوانوں کی تھی۔ اس میلے میں سرکس، بین الاقوامی فنکاروں کے شو، گاڑیوں کی ریس، واٹر بائیک کی نمائش، میوزیکل شو، لیزر لائٹ شو، بین الاقوامی آئیس اسکیٹرز جیسی تقریبات کا انعقاد کیا گیا۔ پاکستان اور ہند کی مقامی تنظیموں نے بھی نوجوانوں کے لئے کئی ادبی اور سماجی تقریبات منعقد کیں، جہاں نوجوان پیش پیش رہے۔
مختلف انسٹیٹیوٹ اور تنظیمیں موسم گرما کی تعطیلات کے دوران نوجوانوں کے لئے مختصر کورسز یا کلاسز کی پیشکش کرتی ہیں۔ گرافیک ڈیزائننگ، تھری ڈی اینی میشن، ملٹی میڈیا ایڈیٹنگ، نیٹ ورکنگ اور پروگرامنگ جیسے مختصر کمپیوٹر کورسز کے ذریعے سیکھنے کے علاوہ ہنر کا بھی اضافہ ہو جاتا ہے۔ پڑھائی میں کمزور نوجوانوں کے لئے سمر کلاسز فائدہ مند ثابت ہوتی ہیں۔ وہ ان کلاسز کے ذریعے اپنی کمزوری پر قابو پا لیتے ہیں۔ کئی نوجوان قرآن یا اسلامی تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ جدہ میں پاکستانی اور ہندوستانی نوجوانوں کو اسلامی تعلیم سے روشناس کروانے کے لئے جدہ دعوہ سینٹراوربزم طلبائے قدیم ومحبان جامعہ نظامیہ نے بھی مختصر مدتی تعلیمی کورسز کا آغاز کیا، جس میں کئی نوجوانوں نے حصہ لیا۔ اسی طرح خاک طیبہ ٹرسٹ نے بھی تعطیلات کے دوران کئی طرح کے اسلامی اور ادبی تعلیمی کورسز متعارف کروائے۔
باڈی بلڈنگ اکثر نوجوانوں کا شوق ہے۔ گرمیوں کی تعطیلات کے دوران اکثر باڈی بلڈر نوجوان جِم کا رخ کرتے ہیں۔ کھیل کے شوقین نوجوان موسم گرما کی تعطیلات کے دوران کھیلنے میں مصروف نظر آتے ہیں۔پاک و ہند کے تارکین نوجوانوں کیلئے کرکٹ اہم کھیل ہے۔ فٹ بال، باؤلنگ اوراسنوکرکھیلتے مصروف نظر آتے ہیں۔
حامد جمالی موسم گرما کی تعطیلات کے بارے میں کہتے ہیں کہ ''سال میں یہی تو ایک ایسا خوشی کا وقت ہے۔ چھٹیوں میں میری مصروفیات انٹرنیٹ استعمال کرنا، کھانا پینا، سونا، دوستوں سے ملنا، باہر گھومنے جانا یا مختلف تقریبات میں شرکت کرنا ہیں۔ میرا زیادہ تر وقت گھر سے باہر گزرتا ہے۔ میرا خیال ہے کہ ان دنوں بے کار بیٹھنے یا ٹائم ضائع کرنے سے بہتر ہے کہ کوئی پارٹ ٹائم ملازمت کر لی جائے''۔ سمر جاب کی اصطلاح فی زمانہ بہت مقبول ہو رہی ہے۔اس کا اصل مقصد یہی ہے کہ نوجوانوں کو ان کے آئندہ دور کیلئے تیار کیا جائے اور احساس ذمے داری سے انہیں روشناس کروایا جائے۔لڑکے ہوں یا لڑکیاں، فی زمانہ سب ہی موسم گرما کی تعطیلات میں ملازمتیں تلاش کرنے میں دلچسپی لے رہے ہیں۔لڑکیوں کیلئے زیادہ مواقع نہیں،چنانچہ وہ بطور ٹیچر ہی ملازمت کی طرف راغب ہوتی ہیں۔گرمیوں کی تعطیلات میں اسکول بھی بند ہوجاتے ہیں تو یہ موقع بھی نہیں رہتا ۔
نخبہ سومرو کہتی ہیں کہ ''گرمیوں کی چھٹیاں ایک طرح کی مہلت ہے۔اس دوران خاص طور پہ طالب علم پر پڑھائی کا بوجھ نہیں ہوتا۔ فیملی اور دوستوں کے ساتھ ٹائم گزارنے کا ایک اچھا موقع مل جاتا ہے۔ اکثر گرمیوں کی چھٹیوں میں ہم کسی دوسرے ملک یا پاکستان سفر کرتے ہیں۔ میری کوشش ہوتی ہے کہ چھٹیوں کے دوران میں کوئی عارضی ملازمت اختیار کر لوں۔ اس کے علاوہ میرا زیادہ تر وقت فیملی یا دوستوں کے ساتھ شاپنگ مال یا باؤلنگ کلب میں گزرتا ہے''۔
سمر عبیداللہ کہتی ہیں کہ موسم گرما کی تعطیلات ایک طرح سے وقت کا زیاں ہے ۔خاص طور سے ان کے لئے جو سارا سال مصروف رہتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اچانک ان کے پاس کرنے کو کچھ نہیں ہوتا۔ ایسے وقت میں فیملی کے ساتھ بھرپور طریقے سے وقت گزارا جاسکتا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ لڑکیوں کے لئے گرمیوں کی تعطیلات کا مطلب کتابیں پڑھ کر وقت گزارنا، نئے کھانے پکانا یا انٹرنیٹ استعمال کرنا ہے۔ اگر اس وقت کو کارآمد بنانا ہو تو سمر کیمپ یا سمر اسکول میں بھی داخلہ لیا جا سکتا ہے۔ اگر ملک سے باہر سفر کیا جائے تو کافی بدلاؤ آتا ہے۔ کیونکہ نئی جگہیں دیکھنے کو ملتی ہیں اور ایک نیا تجربہ حاصل ہوتا ہے۔ تعطیلات کے شروع میں اپنا وقت میں نے دار الھدا سمر اسکول میں گزارا۔ میں نے یہاں قرآن کے بارے میں بہت کچھ سیکھا۔ اسکول والوں کے ساتھ ہم پکنک منانے ساحل سمندر پر بھی گئے، اس کے علاوہ ہمیں بطور سیر وسیاحت رباط بھی لے جایا گیا ،جہاں ہم نے کھانا بانٹا۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں بے یار ومددگار عورتیں رہتی ہیں۔ ان کے ساتھ جو وقت گزرا اور ان کی نظر سے جب دنیا کو دیکھا، یہ میرے لیے ایک مختلف تجربہ تھا۔ میں نے اسی دوران عفت کالج سے انٹرن شپ بھی حاصل کی''۔
کئی نوجوان اس بات کی شکایت کرتے ہیں کہ گرمیوں کی چھٹیاں ان کے لیے بوریت کا باعث ہیں۔ ان کے پاس کرنے کے لئے کچھ نہیں۔ سعودی عرب میں ہر سال موسم گرما کی تعطیلات پر تقریباً 10 لاکھ کے قریب عارضی ملازمتوں کی پیشکش کی جاتی ہے۔ اپنی عملی زندگی کو بہتر بنانے اور تجربہ حاصل کرنے کا یہی ایک بہترین وقت ہے۔