پاکستان
کے یومِ آزادی کی مناسبت سے الخبر کے درباس کمپاؤنڈ میں معروف ادبی ، سماجی و ثقافتی
انجمن ''ہم آواز'' کی جانب سے ایک سادہ مگر پُر وقار تقریب کا اہتمام کیا گیا ،جس میں
الخبر اور دمام کے علاوہ الجیبل اور ریاض سے بھی ممتاز شعراء ، دانشوروں اور دیگر اہلِ
ذوق نے شرکت کی۔ تقریب کی صدارت تحریکِ پاکستان کے حوالے سے ایک معروف دانشور، ادیب
اور شاعر پروفیسر مشکور حسین یاد نے فرمائی جو کم وبیش پچاس کتابوں کے مصنف،شاعر اور
صدارتی ایوارڈ یافتہ ہیں۔ تقریب میں انٹلکچوئل فورم کے روحِ رواں ،شاعر اور مزاح نگار
ڈاکٹر عابد علی نے پروفیسر مشکور حسین یادکو ایک خوبصورت شیلڈ بھی بطور ہدیہ پیش کی۔مہمان
خصوصی ریاض سے تشریف لائے ہوئے سینئیر شاعر اورماہرِتعلیم اقبال اعجاز بیگ تھے، جبکہ
مہمانِ اعزازی کی مسند پہ ممتاز افسانہ نگار فرحت پروین تشریف فرما ہوئیں،جن کے افسانوں
کے اب تک چار مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔سجاد سلیم نے نظامت کے فرائض انجام دیئے ۔ تلاوتِ
کلامِ الٰہی کی سعادت آدم ندیم خان کو حاصل ہوئی۔منطقہ ٔشرقیہ کے ممتاز خوش گلو طارق
سید نے اپنی انتہائی مترنم آواز میں نعتِ رسولِ مقبول کے چند اشعار سنائے، جس کے بعد
انہوںنےیومِ آزادی کے حوالے سے ایک ملّی نغمہ
بھی پیش کیا۔قدسیہ ندیم لالی نے 'ہم آواز'کے
سرپرست ِ اعلیٰ نسیمِ سحر کی جانب سے 14 اگست کے مبارک دن کے حوالے سے بھیجے ہوئے تہنیتی
کلمات سامعین کی نذر کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں دیکھنا ہے کہ ہم اپنے وطن میں نفاذِ اسلام
کے لئے کہاں تک پہنچے ہیں اور کیا آج ہم وہاں تک پہنچ سکے ہیں، جہاں تک پہنچنے کے لئے
اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایک آزاد وطن کی نعمت عطا کی تھی ۔ ریاض سے تشریف لائے ہوئے اردو
اور پنجابی کے معروف شاعر اور ہم آواز ریاض کے آرگنائزر غلام فرید بھٹہ نے 'قیدی نمبر
650'کے نام سے اپنا مضمون پیش کیا۔ انہوں نے پاکستان کی سیاسی، سماجی اور تہذیبی شکست
و ریخت کو موضوع گفتگو بنایا۔ مشاعرے میں سجاد سلیم، ثاقب جونپوری، صادق کرمانی،راحت
الرحمٰن، قدسیہ ندیم لالی، آصف نفیس،قاضی یونس، عمر برناوی، ڈاکٹر عابد علی، افضل آرش،غلام
فرید بھٹہ، زین صدیقی ، فرحت پروین، پروفیسر اقبال اعجاز بیگ اور پروفیسر مشکورحسین
یاد نے اپناکلام سامعین کی سماعتوں کی نذر کیا۔ مشاعرے کے صدر مشکور حسین یادنے قیامِ
پاکستان کے لرزہ خیز واقعات بیان کرتے ہوئے کہا کہ تمام تر مسائل کے باوجود پاکستان
نے قربانیاں دینے والوں کو مایوس نہیں کیا۔ انسان کو امید اور کوشش کا دامن نہیں چھوڑنا
چاہیے۔