اردو ٹائمز- اردو کی تازہ خبریں
مسلسل اشاعت کے 28 سال
Twenty eight years of publication

 Daily Urdu News USA CANADA UK

    

 Urdu Times Daily Urdu News
 
Sun, 07 Sep 2008 14:02:00

تارکین کی نئی پود، ذات برادری میں رشتے کرنے سے انکاری

عثمان شاہد

دنیا ایک گلوبل ولیج بن چکی ہے لیکن آج کے ترقی یافتہ دور میں بھی دنیا کے کئی علاقوں میں ذات پات اور فرقہ واریت اہمیت کی حامل ہے۔ آج بھی ایک ذات یا فرقے کا فرد دوسری کسی ذات یا فرقے سے نہ میل جول رکھ سکتا ہے، نہ ان کی یہاں کے لڑکے یا لڑکی سے شادی کر سکتا ہے۔ کہیں ایک دوسرے کو ذاتی دشمن سمجھا جاتا ہے تو کہیں حقیر نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ نئی نسل نے بھی اکثردانستہ یا غیر دانستہ طور پر ورثے میں ملنے والے یہ فرسودہ نظریات اور طور طریقے میں اپنالئے ہیں لیکن کئی ایسے ہیں ،جنہیں یہ بھی پتہ نہیں ہوتا کہ ان کی مخالف ذات یا فرقے سے ان کی دشمنی کی وجہ کیا ہے۔ بس وہ برسوں پرانی اجنبیت اور بیگانگیوںکو اپنا فرض سمجھ کر نبھا تے آرہیںاور چھوٹی سی بات پر بھی قتل و غارت گری سے اجتناب نہیں کرتے۔ ایسے عجیب واقعات بھی ہیں کہ اگر مخالف فرقے یا ذات کا جانور بھی دوسرے کی زمین پر آ جائے تو اسے مار دیا جاتا ہے۔

 

مملکت میں مقیم تارکین وطن کا تعلق بھی کئی طرح کی ذات برادریوں سے ہے۔اپنے لڑکے اور لڑکیوں کے رشتے کرنا تو دور کی بات ہے ،کئی لوگ ایسے ہیں جو آپس میں دوستیاں بھی ذات برادری دیکھ کر کرتے ہیں۔ پردیس میں اپنی ہی ذات برادری کا رشتہ ملنا اتنا آسان نہیں ہوتا۔سالہا سال سے مقیم یہ تارکین کی نسل جب شادی کے قابل ہوتی ہے ،تو یہ لڑکے لڑکیاں مملکت کے ماحول کے عادی ہونے کی وجہ سے وطن کے ماحول سے مطابقت قائم نہیں رکھ پاتے۔ایسی صورت میں ان کی کوشش ہوتی ہے کہ مملکت میں ہی کوئی معقول رشتہ مل جائے لیکن اس معقول رشتے کے معیار میں ایک شرط 'ذات برادری' اہم حیثیت کی حامل ہوتی ہے۔ البتہ ان کی اولادیں اکثر اسے فرسودہ قرار دے کر بغاوت پر مائل ہوجاتی ہیں۔انٹرنیٹ کے اس دور کی نسل تو ذات برادری کی شرط کو لعنت تصور کرتی ہے۔انٹرنیٹ نے دنیا کو سکیڑ کر رکھ دیا ہے۔اس دور میں دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک لوگوں کی رسائی آسان تر ہوگئی ہے۔چنانچہ اس وسیلے سے شادیاں طے ہونا اس دور کی ایک حقیقت ہے۔

 

ریاض میں مقیم ایک پاکستانی لڑکی کا تعارف انٹرنیٹ کے ذریعے کراچی میں مقیم نصیر حامدسے ہوا۔ لڑکا پڑھا لکھا تھا اور نہایت ہی اچھے خاندان سے اس کا تعلق تھا۔ لڑکے کا اپنا کاروبار تھا اور اس کے پاس کسی چیز کی کمی نہ تھی۔ ان کے رشتے کے لئے کئی بار لڑکے کے والدین لڑکی والوںکے در پر گئے مگر ہر بارلڑکی کے والد ین کی طرف سے انکار کر دیا گیا۔ نصیر حامد اپنی زندگی کے اس تلخ موڑ کے بارے میں کہتے ہیں کہ '' جب لڑکی والے چھٹیوں میں پاکستان آئے ،تب بھی میں نے بہت کوشش کی کہ لڑکی کے والدین مان جائیں مگر میرے پاؤں پڑنے پر بھی لڑکی کے والدین کو کوئی فرق نہ پڑا۔ وجہ معلوم کرنے پر یہ پتہ چلا کہ میں ان کی ذات کا نہ تھا ۔دراصل وہ اپنی بیٹی کی شادی اپنے ہی خاندان یا برادری میں کرنا چاہتے تھے۔ وہ یہ قبول کرتے تھے کہ مجھ میں کوئی کمی نہیں، بس میں ان کی برادری کا نہیں ہوں''۔

 

پانچ سال تک نصیر نے کوشش کی کہ لڑکی کے ماں باپ مان جائیں مگر وہ اپنی ضد پر قائم رہے۔ لڑکی نے ایک بار گھر سے بھاگنے کا بھی ارادہ کیا مگر ناکام ہو گئی اس حرکت کے بعد اس کے والدین نے اس پر ظلم شروع کر دیا۔ اسے کئی کئی روز کمروں میں بند رکھا جاتا تھا۔ ماں باپ کی ضد کے آگے اس لڑکی نے سر جھکا تو دیا مگر اس کی زندگی برباد ہو چکی ہے۔ 29 سالہ اس لڑکی کے لائق برادری میں کوئی رشتہ نہیں مل رہااور اس کے ماں باپ اب بھی ضد پر اڑے ہوئے ہیں۔

 

پاک وہند میں اب بھی کئی مقامات پر اگر لڑکی یا لڑکا ذات یا فرقے سے باہر شادی کر لے تو اسے جان سے مار دیا جاتا ہے۔ اس المئیے سے متعلق انٹرنیٹ پر جاری ایک ویڈیو نے دنیا کی توجہ سمیٹی ،جس میں ایک فرقے کی لڑکی کو سرعام سڑک پر بے دردی سے لاتیںماری گئیں، لوگوں نے اس کے کپڑے تک پھاڑ دیے اور اس کے سر پر اینٹیں تب تک ماری گئیں، جب تک اس کے سر سے سارا خون زمین پر بہہ نہ گیا۔ اس لڑکی کی غلطی کیا تھی؟ صرف یہی کہ اس نے ایک دوسرے فرقے کے لڑکے سے شادی کر لی تھی۔ لڑکی والوں کا کہنا تھا کہ اِس لڑکی کی وجہ سے ان کی عزت خاک میں مل گئی۔ ان کی عزت اسی میں تھی کہ وہ لڑکی کو جان سے مار دیتے۔ کیا سرعام قتل کرنے سے عزت برقرار رہتی ہے؟ مارتے ہوئے اس لڑکی کے کپڑے تک پھٹ گئے اور موبائل کیمرے پر ویڈیو بنائی جا تی رہیں ۔ کیا ایسی حالت میں ان کی عزت برقرار رہی؟

 

تارکین وطن کی نئی نسل ذات پات یا برادری کو معیوب اوربے جا تقاضہ قرار دیتی ہے۔وہ حقیقت پسند ہے ۔تارکین وطن کے لڑکے اور لڑکیوں کے اس سلسلے میں اپنے تحفظات ہیں۔تارکین وطن لڑکے مملکت میں زندگی کا اہم حصہ گزارتے ہیںاور بعدازاں یہیں روزگار حاصل کرنا ان کی ترجیح ہوتا ہے۔فیاض حسن مکینیکل انجینئیر ہیں ۔انہوں نے انٹر تک تعلیم حاصل کی اور اس کے بعد لاہور سے تعلیم مکمل کرنے کے بعد واپس مملکت آگئے لیکن اب مسئلہ ان کی شادی کا تھا ۔اس بارے میں وہ کہتے ہیں کہ ''میں یہاں مملکت میں پلا بڑھا ہوں اور یہ نہیں چاہتا کہ میری شادی خاندان میں ہو جبکہ والد اپنی بھتیجی کا رشتہ مجھ سے کرنا چاہتے ہیں۔اس کی ایک وجہ خاندانی جائیداد بھی ہے نیز آج تک ہمارے یہاں برادری سے باہر کسی نے شادی نہیں کی۔بلاشبہ میرے والدین کے رشتے دار لائق احترام ہیں لیکن میں برادری میں رشتہ نہیں کرنا چاہتا۔میں شہر کی تہذیب سے واقف لڑکی سے شادی کرنا چاہتا ہوں اور یہ میرا حق ہے۔مجھے معلوم ہے کہ اس جرات پر پورا خاندان ہم سے ہمیشہ کیلئے ناتہ توڑ لے گا''۔

 

فیاض حسن چونکہ لڑکے ہیں لہذا وہ اپنے حق کیلئے لڑ سکتے ہیں اور شاید وہ اپنی بات منوا بھی لیں لیکن لڑکیوں کا معاملہ قدرے مختلف ہوتا ہے۔مس ن۔الف ۔کے ساتھ یہی المیہ رہا۔ان کے والدین کا تعلق ہندوستان کے ایک دیہی علاقے سے تھا۔وہ یہیں پیدا ہوئیں لیکن جب شادی کا وقت آیا تو انہیں بیاہ کر کے والدین کے آبائی علاقے بھیج دیا گیا۔وہ وہاں ایک دن بھی خوش نہ رہ سکیں اور نتیجتاً وہ واپس اپنے والدین کی دہلیز پر بیٹھی ہیں۔وہ کہتی ہیں کہ ''میں وہاں دو سال رہی اور بیشتر وقت بیمار رہی۔سسرال والوں کے طور طریقے میرے لئے اجنبی تھے اور میرے طور طریقے انہیں پسند نہیں تھے۔ان کی اچھی باتیں تو سیکھنے میں حرج نہیں ،لیکن تعلیم یافتہ اور باشعور ہوتے ہوئے میں فرسودہ رواج اور بے عقلی پر مبنی امور انجام نہیں دے سکتی تھی''۔

 

تبوک میں مقیم زاہد لطیف کی شادی بھی خاندان اور ذات سے باہر ہوئی۔ان کا خیال ہے کہ شادی کیلئے خاندان یا ذات کو ہی ترجیح نہیں دینی چاہئے۔ پردیس میں اچھے سے اچھا رشتہ مل جاتا ہے ۔ البتہ خاندان والے ناراض ہوجاتے ہیں کہ پھوپھو کی بیٹی سے شادی کیوں نہیں کی یا خالہ کی بیٹی میں کیا کمی تھی۔وہ کہتے ہیں کہ '' خاندان یا ذات سے باہر کی لڑکی جب نئی جگہ اور نئے ماحول میں آتی ہے تو وہ ہر ایک کے دل میں جگہ بنانے کی کوشش کرتی ہے اور اس ماحول کو اپناتی ہے۔ رشتوں میں اضافہ ہوتا ہے۔ البتہ ایک نقصان یہ بھی ہے کہ اس لڑکی یا اس کی فیملی کے بارے میں آسانی سے فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔ اکثر کئی حقائق کا بعد میں پتہ چلتا ہے ،جو نقصاندہ ہوتے ہیں۔  دمام میں مقیم فائزہ حامد کی شادی خاندان میں ہی ہوئی۔ وہ کہتی ہیں کہ رشتے تو خاندان سے باہر بھی بہت تھے مگر والدین کہتے تھے کہ جب اپنے ہی خاندان میں رشتے ہیں تو باہر والوں کی کیا ضرورت۔ میرے خیال سے اگر پردیس میں ہونے کی وجہ سے اپنی ذات میں رشتہ نہ ملے تو ذات پات کا خیال کئے بغیر جو بھی مناسب رشتہ ملے قبول کر لینا چاہئے۔ میرے ایک کزن نے اپنی مرضی سے خاندان اور ذات سے باہر شادی کی اور اس وجہ سے آج تک اس کے والدین اور یہاں تک کے رشتے دار بھی اس سے بات نہیں کرتے۔

 

احمد جمالی کہتے ہیں کہ ان کے خاندان میں ذات کو نہیں بلکہ اخلاق اور دین کو ترجیح دی جاتی ہے۔ جو رشتہ اچھا اور مناسب مل جائے فوراً قبول کر لیا جاتا ہے۔ جو لوگ ذات پات میں ہی شادی کروانا چاہتے ہیں میں انہیں یہی کہوں گا کہ اسلام میں کہیں بھی ایسا نہیں کہا گیا کہ اپنی ذات یا اپنے خاندان سے باہر رشتہ نہ کرو۔ میرے خاندان میں زیادہ تر رشتے خاندان اور ذات سے باہر ہی ہوتے ہیں چاہے ان کا تعلق کسی بھی فرقے یا ذات سے ہو۔رشتہ خاندان میں ہو یا خاندان سے باہر، ذات میں ہو یا ذات سے باہر ۔بس انسان کا اخلاق اور ایمان اچھا ہونا چاہئے۔

شادی معاشرے کے سماجی ڈھانچے کا اہم جزو ہے۔ شادی ایک ایسا بندھن ہے جو کہ انسان کو ذہنی پختگی اور پاکیزگی کی زندگی گزارنے میں مدد دیتا ہے۔ جب لڑکی یا لڑکے کے لئے کوئی ایسا رشتہ آئے ،جو ہر طرح سے مناسب ہو تو ذات پات کو دیکھے بغیر رشتہ قبول کر لینا چاہئے۔ خاص طور پر پردیس میں ،جہاں مناسب رشتے ملنا آج کے زمانے میں نہایت ہی مشکل ہے ۔





(Your Name) آپ کا نام
(E-mail Address) ای میل ایڈریس
(City or Country) شہر یا ملک کا نام
(Write your message here) یہاں لکھیں


  
     © 2008 All Rights Reserved. Urdu Times Group of   Publications

sponsors: air purifier