مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی حیدرآباد کے زیر اہتمام منعقدہ دو روزہ "عالمی اردو کانفرنس" کا افتتاح بڑے تزک و احتشام سے قونصل جنرل ہند ڈاکٹر اوصاف سعید نے انٹر نیشنل انڈین اسکول (بوائزسیکشن) جدہ کے آڈیوٹوریم میں کیا۔ جس میں ہندوستان اور دیگر بیرونی ممالک سے آئی ہوئی اردو کی عظیم شخصیات نے زبانِ اردوکے فروغ اور ترقی کیلئے اپنے بصیرت افروز خیالات سے سرفراز کیا۔ کانفرنس کا آغاز اسکول کی طالبات کے خیر مقدمی گیت سے ہوا۔پروفیسر کے آر اقبال احمد ، پرووائس چانسلر مولا نا آزاد اردو یونیورسٹی نے خطبہ ء استقبالیہ پیش کرتے ہوئے اردو زبان کے فروغ کیلئے یونیورسٹی کی سرگرمیوں سے آگاہ کیا۔انھوں نے مولانا آزاد اردو یونیورسٹی کی جانب سے قونصل جنرل ہند ڈاکٹر اوصاف سعید کی اردو ادب ، کلچر اور تہذیب سے دلچسپی اور کوششوں کی بدولت جدہ میں یونیورسٹی کافاصلاتی امتحانی مرکز قائم کی کوششوں کو سراہا اور کہا کہ یہ اپنی نوعیت کا ہمارا بیرونِ ملک پہلا امتحانی مرکز ہے اور آج اس مقدس سرزمین پر عالمی اردو کانفرنس کا انعقاد بھی ڈاکٹر اوصاف سعید کی سرپرستی میں ہورہا ہے۔کانفرنس کے بارے میں ڈائریکٹر فاصلاتی تعلیم مولانا آزادنیشنل اردو یونیورسٹی پروفیسر ایس اے وہاب قیصر نے بتایا کہ یہ کانفرنس اردو کیلئے ہے تاکہ اندازہ ہو سکے کہ اردو کی صورتحال اندرون اور بیرون ملک کیا ہے نیزاردو ذریعہ تعلیم کے مقام کا تعین ہو سکے۔ مولانا آزاد یونیورسٹی کا سب سے پہلا مقصد فروغِ اردو ہی ہے۔ ڈاکٹر اوصاف سعید نے اپنے خیالات کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ'' مجھے آج مملکت سعودی عرب کی بلکہ شرق الاوسط کی پہلی منفرد عالمی اردو کانفرنس کا افتتاح کرتے ہوئے بے حد مسرت ہورہی ہے۔ نہ صرف میں پروفیسراے ایم پٹھان کو اس کیلئے مبارک باد پیش کرنا چاہتا ہوں بلکہ آپ سب اردو داں لوگوں کو بھی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ انھوں نے کہا کہ اردو دنیا میں مقبول ہورہی ہے لیکن جہاں یہ برصغیر سے باہر پھیل رہی ہے، وہیں ہمار ے گھروں اور اسکولوں میں کمزور ہوگئی ہے۔
ہمیں جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے اس کو مضبوط کرناچاہیے۔ انھوں نے مزید کہا کہ اس کانفرنس سے جو تجاویز آئیں گی ،اس سے اردو کے متعلق معلومات ساری دنیا میں پھیلیں گی ۔چنانچہ جدہ ایک ایسا مرکز بن جائے گا، جہاں سے آواز نکلے گی اور ساری دنیا میں پھیل جائے گی۔ انھوں نے اس شعر پر اپنے خطاب کا اختتام کیا کہ
شاہین کی طرح سے ہے پرواز دیکھنا پہنچے گی دور دور تک آواز دیکھنا
چئیر مین مینارٹیز ایجوکیشن کمیٹی محترم ظفر علی نقوی نے اپنے خطاب میں قونصل جنرل اوصاف سعید کی کانفرنس کے انعقاد کیلئے کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ کانفرنس پورے عالم میںاپنا کردار ادا کرے گی۔وائس چیئرمین قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان چندر بھان خیال نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج اردو ہندوستان سے نکل کر ساری دنیا میں پھیل رہی ہے مگر اس کے ساتھ ایک مشکل یہ ہے کہ اسکی اسکرپٹ سمیٹی جارہی ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اردو کی اسکرپٹ کو ہندوستان اور اس سے باہر بچائیں ۔انھوں نے کہا کہ حکومت ہند کی نیت اردو کے سلسلے میں بالکل صاف ہے۔ وزیر فروغ برائے انسانی وسائل ارجن سنگھ کا پیغام ہے کہ اردو زبان کی تعمیر و ترقی ، فروغ اور بقاء و تحفظ کیلئے کسی قسم کی رکاوٹ نہیں آنے دی جائے گی۔ ناظم تقریب پروفیسر محمد ظفر الدین نے نیویارک سے تشریف لائے ہوئے پدم شری پروفیسر گوپی چندنارنگ ، ممتاز ادیب، نقاد و ماہر لسانیات کو خطیبِ ہندوستان کے لقب سے نوازتے ہوئے خصوصی خطاب کی د عوت دی۔ انھوں نے کہا کہ میں ہر زبان کا احترام کرتا ہوں۔ہر مادری زبان اپنی جگہ بہت اہم ہوتی ہے لیکن اردوزبان دل پر اثر کرتی ہے۔ باد صباکی طرح ،باد نسیم کی طرح ،سب کے مشام جاں کو معطر کرتی ہے۔سب کو کچھ نہ کچھ دیتی ہے۔ کیا برصغیر میں کو اور زبان ایسی ہے ،جو سات یا آٹھ ناموں سے پکاری جاتی ہو۔انھوں نے کہا کہ 'ہندی' خودہندی زبان کا لفظ نہیں ہے بلکہ یہ فارسی کا لفظ ہے۔
پروفیسر اے ایم پٹھان نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ اس بات کی فکر کی جاتی تھی کہ اردو ذریعہ تعلیم سے روزگار ملنا مشکل ہے۔ مگر میں بتانا چاہتا ہوں کہ اب بہت سے شعبوں میں مثلاَ ایم بی اے وغیرہ اردو زبان میں کرنے والوں کو روزگار مل رہا ہے۔ خاص طور سے خواتین کو تعلیمی شعبوں میں فوراً نوکریاں مل جاتی ہیں۔ انھوںنے اپنے تمام ساتھوں کے تعاون کی تعریف کی جن کی وجہ سے یونیورسٹی نے گذشتہ چار برسوں میں قابل قدر ترقی کی۔اجلاس کے آخر میں ڈاکٹر سہیل اعجاز خان قونصلر حج و ویلفیئر نے تمام مہمانوں، اسپانسروں اور شرکاء کا تہہِ دل سے شکریہ ادا کیا۔ قونصل جنرل ڈاکٹر اوصاف سعید نے اردو اکیڈمی جدہ کی جانب سے شائع شدہ "عالمی اردو کانفرنس نمبر"آزاد مجلہ کی رسمِ اجراء انجام دی۔افتتاحی اجلاس کے بعد کانفرنس کاپہلا اجلاس منعقد ہوا ،جسکی صدارت ڈاکٹر ضیاء الدین شکیب، ریسرچ اسکالر(اردو وفارسی) ماہر آثار قدیمہ (لندن) نے کی۔ جبکہ اردو کی 32معروف کتابوں کے مصنف ڈاکٹر سید تقی علی عابدی (کینڈا) نے کلیدی خطبہ دیا۔مقالہ نگاروں میں محترمہ سمیرہ عزیز ، ایڈیٹر سعودی گزٹ و نگراںہفت روزہ "آواز" (سعودی عرب جدہ)، ڈاکٹر وسیم احمد صدیقی، علیم خان فلکی، نعیم جاوید اور پروفیسر محمد ظفر الدین نے مندرجہ ذیل موضوعات پر اپنے مقالات سامعین کی نذر کئے۔
٭ اردو طریقہء تعلیم کو بہتر اور جدید بنانے کے لئے تجاویز۔
٭اردو رسم الخط اور جدید انفارمیشن ٹیکنالوجی، اردو ڈاٹا بیس کی تشکیل اور اردو پروگراموں کو بہتر بنانے کے مسئلہ پر غور اور تجاویزاس اجلاس کی نظامت کے فرائض ڈاکٹر شجاعت علی راشد نے انجام دئیے۔
عالمی اردو کانفرنس جدہ کے دوسرے اجلاس کا موضوع 'ہندوستان اور اس سے باہر اردو زبان کی ترقی اور تعلیم کا جائزہ' نیز 'ہندوستان اور اس سے باہر اردو کے فروغ اور اشاعت میں میڈیا کا رول' تھا۔ اجلاس کاآغازء ہندوستان سے تشریف لائے ہوئے روزنامہ ''سیاست ''کے ایڈیٹر زاہد علی خان نے اپنے کلیدی خطبے سے کیا۔ انہوں نے کہا کہ اردو کا استعمال ہندوپاک کے علاوہ سارے جہاں میں ہو رہا ہے۔ اردو پڑھنے والے 107 ممالک میں موجود ہیں۔ سیاست کی ویب سائٹ پر روزانہ 107 ممالک سے لوگ اخبار پڑھنے آتے ہیں۔ سعودی عرب میں محبانِ اردو کی تعداد 10 لاکھ سے کم نہیں ہے۔ اردو کے ساتھ جو ظلم ہو رہا ہے اگر کوئی اور زبان ہوتی تو اس کا نام ونشان کب کامٹ جاتا مگر اردو میں اتنا دم ہے کہ آج تک یہ زبان قائم ودائم ہے۔ اردو ویب سائٹ پڑھے جانے والے ممالک میں سب سے پہلا نام امریکا اور دوسرا نام سعودی عرب کا ہے۔ امریکی فوج میں جنرل کے عہدے پر فائزمیرے ایک دوست نے مجھے بتایا کہ ہماری ٹریننگ کے دوران اردو سکھانے کیلئے اردو سافٹ ویئر کا استعمال کیا جاتا ہے کیونکہ اکثر فوجیوں کو جہاں بھیجا جاتا ہے ،وہاں اردو لکھی یا بولی جاتی ہے۔ زاہد علی خان نے مزید کہا کہ قونصل جنرل ڈاکٹر اوصاف سعید اگر آج اردو کی ترقی کیلئے سرگرم ہیں اور ایسی محفلیں سجا رہے ہیں، اگر کل ان کا تبادلہ ہو جائے تو کیا پتہ پھر ایسی محفلیں سجیں یا نہ سجیں۔ اردو کی ترقی کیلئے زیادہ تر کام غیر مسلموں نے کیا ہے ،جس میں ETV کے چیئرمین رامو راؤ جی کا بھی ہاتھ ہے۔ اردو پڑھنے والے اپنی ماں کی طرح اپنی ماں کی زبان سے بھی پیار کریں۔ آج کے بچوں کو اگر اردو میں ٹائم بتایا جائے تو انہیں سمجھ میںنہیں آتا۔میڈیا میں کئی چینلز ایسے ہیں، جو اردو میں حروف اور گنتی سکھاتے ہیں۔ یہ ضروری نہیں کہ بس ہم اردو پر ہی عبور حاصل کریں۔ ساتھ ہی ساتھ ہمیں دوسری زبانوں پر بھی عبور حاصل کرنا چاہئے۔ صحافتی ادارہ اردو کی ترقی میں ایک خاص کردار ادا کرتا ہے۔ صحافت میں آسان اردو استعمال کی جاتی ہے تاکہ اخبار کے قارئین بہ آسانی سمجھ لیں۔ شمالی ہند کی اردو اور جنوبی ہند کی اردو میں کافی الفاظ مختلف ہیں۔ سیاست میں بھی روزانہ کا اردو مواد جمع ہوتا ہے۔ اسے دوبارہ آسان اردو میں تبدیل کرنے کی ضرورت پڑتی ہے۔ اردو کی ترقی کیلئے جب ہم سب مل کر کام کریں گے تو تاریخ بتائے گی کہ اردو کب سے زندہ وپائندہ ہے۔
جناب سراج وہاب نے اپنے مقالے میں کہا کہ انگریزی زبان میں خدمات انجام دینے کے باوجود میرا اردو زبان سے تعلق محبت کا ہے۔ صحافت ادب کا ایک حصہ ہے اور اردو ادب زندگی کا آئینہ دار ہے۔ کسی زبان کی ترقی کیلئے ادب برابر کا رشتہ دار ہے۔ اردو کوئی پرانی زبان نہیں، یہ انگریز کے زمانے سے فارسی کے ساتھ ساتھ استعمال ہو رہی ہے۔ اردو تقریباً 300 سال پرانی زبان ہے۔ اردو صحافت کا وجود اس کے بعد ہوا۔ سب سے پہلا اردو اخبار کلکتہ سے جاری ہوا۔ اسی طرح اردو صحافت کو جمعہ جمعہ آٹھ روز ہوئے۔ اردو کے چند بڑے ادیب صحافیوں میں شمار ہوتے ہیں۔ صحافت کو سلطنت کا چوتھا حصہ کہا جاتا ہے۔ اخبار کا ایک مقصد عام آدمی کے جذبات اور احساسات کو سمجھنا اور ان کو ظاہر کرنا ہے۔ دوسرا مقصد عوام میں ایسے جذبات ابھارنا ہے جن کی قوم وملت کو ضرورت ہو۔ تیسرا مقصد زندگی کی کمزوریوں اور ضرورتوں کو پورا کرنا ہے۔ اردو کو ایک مقام تک پہنچانے میں سب سے بڑا ہاتھ صحافت اور اخبارات کا ہے۔
مہتاب قدر نے اپنے مقالے میں کہا کہ خلیجی ملکوں میںعالمی اردو کانفرنسوں نے زبان و ادب اور صحافت کو بڑے حوصلے بخشے ۔کافی پہلے سے اردو جرائد جزوقتی مدت کیلئے ایام حج میں شائع ہوا کرتے تھے ۔ اسکے علاوہ سعودی عرب کی اردو سروس بھی عوام میں بہت مقبول رہی ہے ، جسکا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ مہتاب قدر نے سعودی عرب سے 27اپریل 2006ء سے پہلی اردو ویب سائٹ کا آغاز کیا ، جس سے مملکت اور دیگر خلیجی ملکوںمیں مقیم اردو کے ادیبوں اور شاعروں کو ایک دوسرے کے تعارف حاصل کرنے اور رابطے بڑھانے کا موقع ملا۔اسکے علاوہ سعودی گزٹ کے ہفت روزہ اخبار ''آواز'' کی اشاعت بھی بہت جلد پسند کی جانے لگی۔
معصوم مراد آبادی دوردرشن چینل کے ایڈوائسزری بورڈ میں سیکرٹری ہیں اور دہلی سے تشریف لائے ہیں۔ وہ اپنے مقالے میں کہتے ہیں کہ یہ صحافت کا ہنر ہے کہ کم لفظوں میں زیادہ بات کی یا لکھی جا سکتی ہے۔ اردو زبان کو ترقی دینے میں تعلیم کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔ پچھلے ہی مہینے مدرسے کے ایک طالب علم نے اردو زبان میں IAS کے امتحان میں کامیابی حاصل کی ہے۔ اردو صحافت نے اردو کے فروغ میں جتنا کردار ادا کیا ہے ،اتنا اردو ادب نے اردو تنقید نے یا اردو تحقیق نے ادا نہیں کیا۔
ڈاکٹر امام اعظم نے اپنے مقالے میں کہا کہ زندگی کے بے شمار تقاضے ہیں اور ہر تقاضے کے مطابق مسائل ہیں۔ حکومت زبان کی ترقی میں ایک اہم کردار ادا کرتی ہے مگر اردو کے ساتھ حکومت کا رویہ سوتیلے پن کا رہا ہے۔ دفتروں میں اردو مترجم سے دوسرے کام لئے جاتے ہیں کیونکہ ان کے پاس کرنے کو کوئی کام نہیں ہوتا۔ والدین اور طلباء اردو میڈیم کو قابل نہیں سمجھتے۔ جرائد میں بچوں کیلئے اردو ادب کی شمولیت ہوتی ہے مگر اتنی نہیں۔
اگر اس زمانے میں بچے دوسری زبانوں کی طرف مائل ہو گئے تو اردو زبان کا کیا ہو گا۔ میڈیا اور صحافت کی بدولت اردو زبان کا جادو پاک و ہند سے باہر بھی سر چڑھ کر بول رہا ہے۔ ہمیں اردو کی ترقی کیلئے بچوں پر توجہ دینی ہو گی۔ والدین بچوں کو اردو تعلیم سے روشناس کروائیں۔ اسکولوں میں اردو زبان میں تحریری اور تقریری مقابلے ہونے چاہئیں۔ ہمیں اردو زبان کی تعلیم پہلے اپنے گھر پر لانا ہو گی اور پھر اسی طرح ایک تحریک چلے گی۔ اگر ہم اپنی زبان کو ہی بھول جائیں تو ہماری زبان دم توڑ جائے گی۔
ڈاکٹر محمد احسن نے اپنے مقالے میں کہا کہ اردو تعلیم کی کمی کی وجہ حکومت ہے۔ کسی زبان کی مستقبل کا دارومدار اس کے بولنے والوں پر ہے۔ پرائمری مڈل اور ہائی اسکول میں اردو تعلیم کو موثر بنانے کے لئے پالیسی بنانا ضروری ہے۔ ہند کے نئے آئین کے مطابق حکومت پر فرض ہے کہ جب بچہ 14 سال کا ہو جائے تو اسے مادری زبان سکھائی جائے۔ اس کے علاوہ ہر شہر ہر دیہات میں اردو میڈیم اسکول کھولے جائیں۔ اردو تعلیم کی لڑائی ایک قوم کی لڑائی نہیں بلکہ یہ اردو زبان کی بقاء کی لڑائی ہے۔
ڈاکٹر شجاعت علی راشد نے اپنے مقالے میں کہا کہ جس طرح ایک گونگے انسان کی زبان عذاب بن جاتی ہے ،اسی طرح اگر ایک معاشرے کی زبان مر جائے تو وہ معاشرہ بھی ختم ہو جاتا ہے۔ لفظ ہی زبان کی بقاء کا حصہ ہیں۔ اردو زبان کی اپنی ایک تہذیب ہے۔ اردو نے ہمیشہ مستقبل کیلئے راہیں ہموار کی ہیں۔ طویل عرصے تک اردو کو لشکری زبان بھی کہا گیا ہے۔ اردو کسی فرقے کی جاگیر نہیں ہے۔ اردو قومی وحدت کا نشان ہے۔ تدریس اور تعلیم اردو زبان کا ایک اہم مسئلہ ہے اور اگر اس پر قابو پا لیا جائے تو اردو کی ترقی کا مسئلہ حل ہو سکتا ہے۔ ایک دن آئے گا جب ہم پھر سے کہیں گے کہ'' سارے جہاں میں دھوم ہماری زباں کی ہے''
اس اجلاس کی صدارت پروفیسر گوپی چندنارنگ نے کی اور انہوں نے اختتامی کلمات میں کہا کہ وقت کی کمی کے باعث ہر مقالے کو مختصر کر دیا گیا تھا مگر مکمل مقالے کتاب میں شائع کئے جائیں گے۔ اگر ان مقالوں پر غور کیا جائے تو اس کانفرنس سے بہت بڑا مقصد حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اس اجلاس میں نوجوان مقالہ نگاروںکا پلڑا بھاری رہا ہے۔ اردو زندہ زبان ہے اور زندہ زبان کے مسائل تو پیدا ہوں گے ہی۔ اردو زبان ایک بہتے دریا کی طرح ہے، جب دریا کا پانی بہتا ہے تو اس میں مٹی اور کنکر بھی شامل ہو جاتے ہیں۔ آکسفورڈ ڈکشنری کا نیا ایڈیشن ہر پانچ سال بعد شائع ہوتا ہے، جس میں ہمیشہ اردو کے نئے لفظوں کا اضافہ کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں تقریباً 8 کڑوڑ لوگ اردو لکھتے بولتے ہیں۔ یہ بھی ناممکن ہے کہ آپ ایک زبان کے سہارے زندگی گزاریں۔ کامیابی حاصل کرنے کیلئے دوسری زبانوں پر بھی عبور حاصل کرنا چاہئے۔ اس طرح 6 جون کا یہ دوسرا اجلاس اپنے اختتام کو پہنچا اور حاضرین کو دعوت دی گئی کے وہ معزز مہمانوں کے ساتھ عشائیے میں شریک ہوں۔
تیسر ا اجلاس پروفیسر کے۔آر اقبال احمد، پرو وائس چانسلر مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی (ہند) اور پرفیسر بصیر احمد خان (پرووائس چانسلر (اگنو) کی صدارت میں منعقد ہوا۔ چیئرمین انجمن محبان اردو ہند(قطر) حسن عبدالکریم چوگلے نے کلیدی خطبہ عنایت کیا۔ جبکہ مقالہ پیش کرنے دالوں نے ''کیا اردو ایک مؤثر ذریعہ تعلیم بن سکتی ہے ''اور ''مڈل ایسٹ کے اسکولوں میں اردو کی تعلیم'' کے موضوع پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ ان میں ڈاکٹر قمر سلطانہ، ڈاکٹر نکہت جہاں کا مقالہ ڈاکٹر مسرت جہاں نے، محترمہ عذرا نقوی، ڈاکٹر نجم السحر اور پروفیسر سید عبدالوہاب قیصر شامل تھے۔ نظامت کے فرائض شجاعت علی راشد نے انجام دیئے۔
چوتھے اجلاس کا موضوع 'جدید اردو ادب کے ابھرتے ہوئے رجحانات 'اور 'کسی بھی معاشرے میں اردو زبان کے کردار کا جائزہ اور تجاویز' تھا۔ اجلاس کی ابتداء ڈاکٹر قاضی ضیاء اللہ نے اپنے مقالے سے کی۔ انہوں نے کہا کہ شعر کے حوالے کے بغیر کوئی بات مکمل نہیں ہوتی۔ انہوں نے اپنے خیالات اشعار کے ذریعے پیش کئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ادب کو زندگی کی ترجمانی کہا گیا ہے۔ کسی قوم پر زوال اس قوم کی زبان کا انحطاط ہو گا۔ اردو زبان اور اردو ادب نے ہر دور میں اپنا تشخص برقرار رکھا ہے۔ ایک خیال ہے کہ اردو زبان وادب اسلامی اقدار کا ترجمان بن گیا ہے۔ یہ اردو زبان وادب پر ایک طرح کی تہمت ہے۔
سید جمال قادری جدہ اردو اکیڈمی سے وابستہ ہیں۔ انہوں نے اپنے مقالے میں کہا کہ اس کانفرنس کے ذریعے اردو کے فروغ کا یہ سفر اب اس پاک سرزمین سعودی عرب سے بھی شروع ہونے جا رہا ہے۔ یہاں سے جو بھی تحریکیں شروع ہوئیں ،وہ ہمیشہ کامیاب ہوئی ہیں۔ اردو زبان قومی وحدت کا ایک نمونہ ہے۔ اس کے خمیر میں ہندوستانی اور غیر ہندوستانی عناصر کا اثر ہے۔ انٹرنیٹ کے اس معاشرے میں اردو نے بھی کافی ترقی کی ہے۔ اردو کی کئی ویب سائٹس موجود ہیں مگر وہ انفرادی طور پر بنائی گئی ہیں۔ حکومت نے آج تک اس طرف غور نہیں کیا۔ نوجوان معاشرے سے ہماری امیدیں جڑی ہیں کہ وہ اپنی مادری زبان اردو کے فروغ کیلئے صحیح کردار ادا کریں گے۔ عوام اگر چاہیں تو اردو عام ہو سکتی ہے اور جب اردو عام ہو جائے گی اور جگہ جگہ نظر آنے لگے گی تو حکومت بھی اردو استعمال کرنے پر مجبور ہو جائے گی۔ ایک بڑا طبقہ اپنے بچوں سے انگریزی میں بات کرتا ہے اور اسی وجہ سے بچوں کا رجحان اردو سے ہٹتا جا رہا ہے۔ آجکل عرب طالب علم پڑھنے کی غرض سے پاک وہند کا بھی رخ کرتے ہیں اور جب وہ تعلیم حاصل کر کے واپس آتے ہیں تو اردو زبان میں ماہر ہوتے ہیں۔ اکثر انگلش میڈیم میں پڑھنے والے بچے اپنی ہی زبان بھول جاتے ہیں۔ کمپنیاں اردو زبان میں تعلیمی مواد بناتی تو ہیں مگر صرف سنجیدگی سے اردو کو چاہنے والے انہیں خریدتے یا حاصل کرتے ہیں۔ ہندوستان کی ملٹی میڈیا سافٹ ویئر کمپنی بہت جلد "آؤ اردو سیکھیں" کے نام سے ایک ملٹی میڈیا پروگرام بھی بنا رہی ہے جو بہت جلد مارکیٹ میں دستیاب ہو گا۔ اس پروگرام کے ذریعے آسانی سے اردو سیکھی جا سکے گی۔
مجلس کے پہلے صدر جناب حسام الاسلام محمد صدیقی جدید مرکز ہفت روزہ کے ایڈیٹر ہیں۔ انہوں نے اپنا خطاب شروع کرنے سے پہلے بتایا کہ تین سال پہلے سعودی عرب میں جب ارجن سنگھ آئے تھے تو انہیں مولانا آزادکے یوم پیدائش کا دن بطور یوم تعلیم منانے کیلئے درخواست دی گئی تھی ۔اس بار میرے سعودی عرب آنے سے پہلے انہوں نے آپ کو پیغام دیا کہ یہ درخواست عمل میں ہے اور عنقریب لاگو کر دی جائے گی۔ خطاب شروع کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں اس بات سے بالکل اتفاق نہیں کرتا کہ مدرسے نہ ہوتے تو اردو نہ بچ پاتی۔ جنوبی ہند ہو یا شمالی ہند ہر جگہ دین کی کتابوں کا کئی زبانوں میں ترجمہ کیا جا چکا ہے۔ یہاں تک کے قرآن کی تفسیر کا بھی کئی ہندوستانی زبانوں میں ترجمہ کر کے مدرسوں میں پڑھایا جا رہا ہے۔ پچھلے دس سالوں سے ہندوستان میں اردو زبان کو فروغ مل رہا ہے جس کی ایک کڑی الیکٹرونک میڈیا ہے۔ چینلز اور اخبارات اردو کی ترقی کا ایک حصہ ہیں۔ یہ بات غلط ہے کہ اردو ختم ہو رہی ہے۔ بہ بس ایک افواہ ہے۔ اردو کے ادب نگاروں کو گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ کسی زبان کا رسم الخط نہ ہو تو زبان نہیں رہتی۔ اردو زبان کا رسم الخط ہونا ضروری ہے۔ اردو زبان کا نقصان کہیں نہیں ہو رہا ہے۔ پچھلے زمانے میں ماں باپ کہتے تھے کہ بیٹا اچھا پڑھنا، تمہیں پڑھ لکھ کر اچھا انسان بننا ہے۔ آج کی ماں کہتی ہے کہ بیٹا جاؤ پڑھنے جاؤ، تمہیں MBA کر کے پیسے کمانے ہیں۔شاید یہ بھی ایک وجہ ہے کہ زبانوں کی قدر نہیں رہی۔ میں آخر میں پٹھان صاحب کو کہنا چاہوں گا کہ ایسی ایک کانفرنس پاکستان میں بھی ہونی چاہئے اور اس کے ساتھ ساتھ اردو کتابوں کا ایک میلہ بھی منعقد کرنا چاہئے۔
مجلس کے دوسرے صدر پروفیسر شمیم حنفی نے اپنے صدارتی خطبے میں کہا کہ اردو زبان ہمیشہ ہمارے لئے ایک دریچہ رہی ہے۔ میرے لئے اردو کا مسئلہ سیاسی مسئلہ نہیں تہذیبی مسئلہ ہے۔ اردو ہمارا ماضی، حال اور مستقبل ہے۔ ہندوستان میں آجکل ہندی بھی اردو کے ذریعے پڑھائی جاتی ہے۔ اردو ایک عجیب زبان ہے۔ اردو زبان نے اپنے دروازے کسی بھی دوسری زبان کے لئے بند نہیں کئے۔ اردو کے کئی لفظ دوسری زبان کے لفظوں سے بنے ہیں۔ اردو ایک علمی زبان ہے اور اپنے معاشرے کا حق ادا کر رہی ہے۔پروفیسر شمیم حنفی کے خطاب کے بعد انٹرنیشنل اردو کانفرنس کا چوتھا اجلاس اپنے اختتام کو پہنچا ۔
دو روزہ عالمی اردو کانفرنس کے اختتامی اجلاس کی ابتداء اردو ادب کے معروف مصنف اور ماہر امراض قلب ڈاکٹر سید تقی عابدی نے کی۔ انہوں نے کہا کہ میں نے اس کانفرنس سے بہت کچھ سیکھا ہے۔ میں ''صحت کا طبیب اور ادب کا مریض ہوں''۔ سچائی یہ ہے کہ اردو زبان کو مسائل درپیش ہیں۔ اردو اس وقت ترقی کی منزل پر نہیں تشہیر کی منزل پر ہے۔ اردو زندہ ہے زندہ رہے گی اور ہر زندہ چیز کے مسائل بھی ہوں گے۔ ہمیں ابھی سے سوچنا پڑے گا کہ ہماری زبان کو کیا مسائل ہو سکتے ہیں یا ہونے والے ہیں اور ان کا حل تلاش کرنا چاہئے۔ یہ کانفرنس اسی کی ایک کڑی ہے۔ اردو ہماری مادری زبان ہے اسلئے اس کا تحفظ ہمارا فرض ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ لوگ اردو زبان کا تن، من اور دھن سے تحفظ کر رہے ہیں۔ میں آخر میں یہی کہنا چاہوں گا کہ اردو کی ترقی میں نوجوانوں کی ضرورت ہے اور ان کا کردار بہت اہمیت رکھتا ہے۔
چندر بھان خیال نے اپنے خطاب میں کہا کہ اس کانفرنس میں دو روز سے لگاتار اردو کے مسائل پر بات ہو رہی ہے۔ یہ ایک فرقے کی زبان نہیں بلکہ یہ پوری دنیا کی زبان ہے کیونکہ اس کا ہر زبان میں بول بالا ہے۔ اگر اردو زبان کسی دوسری زبان کی اسکرپٹ میں لکھی جا رہی ہے تو ہمیں اس کی مخالفت نہیں کرنی چاہئے۔ اس سے اردو کو ہی فیض پہنچے گا اور اردو بڑھے گی۔ ان دو دنوں میں اردو کے جو مسائل ہمارے سامنے آئے ہیں، ہمیں ان پر غور کر کے انہیں سنجیدگی سے لینا پڑے گا۔
اردو فارسی کے ریسرچ اسکالر اور ماہر آثار قدیمہ ڈاکٹر ضیاء الدین احمد شکیب نے اپنے خطاب میں کہا کہ جب دلوں میں اردو کیلئے لگن اور محبت ہو گی تو اردو کو فروغ مل سکے گا۔ 20 مقررین نے اپنے مقالے پیش کئے، جن میں اکثریت نوجوانوں کی تھی۔ کئی مقالوں میں اردو کے مسائل ایک ہی تھے۔ کئی مسئلوں پر متضاد خیالات بھی آئے۔ کانفرنس کا موضوع 'زبان' تھا مگر زیادہ گفتگو ادب پر ہوئی۔ اردو ایک ایسی زبان ہے ،جس کی سرزمین قوم کے دل ہیں۔ دنیا میں جہاں جہاں محب اردو گئے، وہاں اردو کی ترقی ہوئی۔ اس زبان میں یہ صلاحیت ہے کہ یہ کسی ایک مقام کی محتاج نہیں۔یہ ہمیشہ سے سفر کر رہی ہے اور ساتھ ہی ساتھ زمانے کی ضروریات کو بھی پورا کر رہی ہے۔
اندرا گاندھی نیشنل اوپن یونیورسٹی (اگنو) کے وائس چانسلر پروفیسر بصیر احمد خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ یہاں پر اردو زبان کیلئے اتنے لوگوں کا جمع ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ زبان فروغ پائے گی۔ اس عظیم مقدس سرزمین کا تعلق اردو سے بہت گہرا ہے۔ میں نے حرمین شریفین میں دیکھا کہ جگہ جگہ سائن بورڈ زپر انگریزی، عربی اور اردو میں تحریر درج تھی۔ یہ سعودی عرب میں اردو کی ترقی کی نشانی ہے۔ اردو ہمارے لئے ایک ورثہ ہے۔ میری ایک تجویز ہے کہ اردو کو سائنس اور ٹیکنالوجی میں بھی شامل ہونا چاہئے اور اردو زبان میں سافٹ وئیر کا اضافہ ہونا چاہئے۔ یہ سرزمین برکت کی سرزمین ہے اور یہاں سے جو بھی شروع کیا جائے اس میں برکت ہوتی ہے۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ اس کانفرنس کے ذریعے کئی لوگوں کو عمرے کی سعادت حاصل ہو گئی۔
پروفیسر گوپی چند نارنگ نے اپنے خطاب میں کہا کہ زبان و ادب کے کام ایثار کے کام ہوتے ہیں۔ اس میں کوئی نفع نقصان نہیں ہوتا۔ اس کانفرنس میں اردو کی ترقی و فروغ کیلئے بہت سی اچھی تجاویز پیش کی گئی ہیں۔ اردو کی ترقی کیلئے سب سے اچھا کردار میڈیا یا اخبارات ہی ادا کر سکتے ہیں۔ اس کانفرنس میں مقالہ نگاروں نے اردو تعلیم کے مسائل پر بھی روشنی ڈالی۔ محترمہ عذرا نقوی نے جو تجاویز پیش کیں ان پر غور وعمل کیا جانا چاہئے۔ اردو زبان میں سافٹ ویئر کی تیاری پر کام شروع کرنا چاہئے۔ میرے مطابق اردو کا مسئلہ سیاسی بھی ہے۔ ہندوستان میں اردو زبان کے مسئلے کو سیاسی مسئلہ بنا لیا گیا ہے۔ مجھے یہ کہتے ہوئے فخر محسوس ہوتا ہے کہ ہندوستان میں اس وقت 14 اردو اکیڈمیاں کام کر رہی ہیں۔ پچھلے سیشن میں ایک تجویز تھی کہ پاکستان میں اردو کتابوں کا میلہ منعقد کیا جانا چاہئے۔ اس حوالے سے میں بتانا چاہوں گا کہ ہم نے کچھ ہی سال پہلے پاکستان میں جا کر لاہور میں واقع الحمراء ہال میں کتابوں کی نمائش منعقد کروائی تھی، جس میں مختلف اکیڈمیوں سمیت ترقی اردو بورڈ کی اردو زبان میں شائع کتابیں بھی شامل تھیں۔ آخر میں یہ کہنا چاہوں گا کہ اردو روشن خیالی کی زبان ہے اور یہ زبان فرقہ واریت کا مقابلہ کرتی ہے۔
''سیاست ''کے ایڈیٹر جناب زاہد علی خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ اگر اردو والے اردو کو اردو رسم الخط میں لکھیں اور ہندی والے اردو کو ہندی رسم الخط میں لکھیں تو یہ زبان مقبول ترین زبان بن سکتی ہے۔ اردو زبان کو انٹرنیشنل زبان کا درجہ ملنا چاہئے۔ ہم زندہ قوم ہیں اور اپنی زبان کی حفاظت کر سکتے ہیں۔ مگر آج بھی یہ حال ہے کہ ہمیں اردو کو آسان بنانے کی ضرورت ہے۔ اخننامی اجلاس کے صدر پرووائس چانسلر مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی پروفیسر کے آر ۔ اقبال احمد نے اپنے خطاب میں کہا کہ جن حضرات نے مقالے پیش کئے ،انہوں نے اردو زبان کے مسائل کو بھی بخوبی پیش کیا ہے۔ ڈاکٹر سید تقی عابدی نے جدہ کو اردو کی بستی قرار دیا ہے۔ جو مقالے پیش کئے گئے ،ان میں کئی مقالے بہت جلدی میں لکھے گئے تھے۔ ورنہ کئی اور مسائل بھی سامنے آتے۔ اردو میں انگریزی الفاظ کا استعمال کوئی غلط بات نہیں ہے کیونکہ اکثر الفاظ کا اردو میں ترجمہ کرنا آسان نہیں ناممکن بھی ہو جاتا ہے۔
ڈائرکڑ فاصلاتی تعلیم مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی پروفیسر ایس اے وہاب قیصر اور وائس چانسلر مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی پروفیسر اے۔ ایم۔ پٹھان نے معزز مہمانوں، قونصل جنرل ڈاکٹر اوصاف سعید، اجلاس کے صدر، مقالہ نگاروں اور حاضرین کا شکریہ ادا کیا۔ اختتام میں انٹرنیشنل انڈین اسکول اور دیگر اسکولوں کے طلباء و طالبات میں تحریری،تقریری مقابلوں، بیت بازی اورغزل خوانی کے مقابلوں میں فائز طلباء وطالبات کو اردو اکیڈمی جدہ، انڈیا فورم، خاک طیبہ ٹرسٹ اور اُردو گلبن کی جانب سے پروفیسر اے۔ ایم۔ پٹھان کے ہاتھوں انعامات تقسیم کئے گئے۔