حیدر آباد (اردو ٹائمز) مرزا قلیچ بیگ کی 457
نصانیف کو شائع کیا جائے گا، ان کو تعلیمی نصاب میں شامل کیا جائے او رہر سال مرزا
قلیچ بیگ لڑیسی ایورادز دیئے جائیں گے ان خیالات کا اظہار سنئیر صوبائی وزیر وزیر
تعلیم پیر مظہر الحق نے سندھی زبان با اختیار ادارے میں مرزا قلیچ بیگ کی برسی کے
موقع پر منعقدہ ایک پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ پیر مظہر الحق نے کہا کہ مرزا قلیچ بیگ کی خدمات
سندھ کے لیے ایک تاریخی ورثہ ہیں، وہ سندھ
کی تاریخ کے بانیوں میں سے ہیں تعلیمی نصاب میں ان کو زیادہ سے زیادہ جگہ دی جائے
گی۔ انہوں نے کہا کہ سندھی لائبریوں میں ان کی تمام کتب رکھی جائیں گی تا کہ
نوجوان نسل میں سے بھی کوئی نیا قلیچ پیدا ہو سکے۔ وزیر تعلیم کے مطابق سندھ میں
تعلیمی نصاب کی بہتری کے لیے ایک بورڈ تشکیل دیا جا رہا ہےجس مین پورے نصاب کا نئے
سرے سے مطالعہ کیا جائے گا اور سفارشات کو اگلے سال کورس مین جگہ دی جائے گی۔
انہوں نے اعلان کیا کہ ہر سال حکومت بچوں کا کل سندھ کنونشن منعقد کرے گی، بڑے
ادیبوں اور دانشوروں کے ساتھ پروگرام کیے جائیں گے ، قلیچ ایوارڈ کے ساتھ 25 ہزار
روپے نقد دیئے جائیں گے، ادبی بورڈ کے ملازمین کو مستقل کرنے پر نظر ثانی کی جائے
گی۔ اس پروگرام میں غلام بانی آگرہ، سحر
مداد ، عزیز شیخ، اعجاز بیگ، امداد حسینی، قاسم ماکا، حمید سندھی، زیب سندھی کے
علاوہ دیگر لوگوں نے بھی شرکت کی۔